اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ صوبے میں سیلاب کی تباہ کاریاں روکنے اور پانی کے مؤثر استعمال کیلئےچھوٹے ڈیم تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں ایسوسی ایشن آف بیوروچیفس کے ارکان سے ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے اجلاس میں واضح کیا کہ نئے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہے۔ ان کے بقول وزیراعظم نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ “سیاست نہیں بلکہ ریاست بچانی ہے۔”
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم کو تجویز دی کہ کالا باغ ڈیم پر عملی پیش رفت ہونی چاہیے اور حکومت خیبرپختونخوا اس منصوبے میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دیگر صوبوں نے مالی تعاون سے انکار کیا ہے لیکن خیبرپختونخوا اس منصوبے کے حق میں ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بجلی کے بغیر ڈیم کی تجویز پر وفاقی وزیر اویس لغاری نے بھی اتفاق کیا اور این ایف سی ایوارڈ کے معاملے کو فوری طور پر حل کرنے پر زور دیا۔
مزید برآں، انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اصلاحات کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ قسطوں میں چھوٹی رقوم دینے کے بجائے عوام کو کاروبار شروع کرنے کے لیے پانچ، پانچ لاکھ روپے فراہم کیے جائیں تاکہ لوگ خود کفیل بن سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا کو دو سال کی رقم ایک ساتھ فراہم کی جائے تو یہ خطے کی ترقی اور عوام کی بہتری کے لیے کارآمد ہوگی۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اس موقع پر ایک بار پھر کالا باغ ڈیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائیت کی بنیاد پر پاکستان کے اجتماعی مفاد کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔ “سب کو مطمئن کرکے قوم کے مستقبل کے لیے کالا باغ ڈیم جیسے منصوبے پر اتفاقِ رائے ضروری ہے۔”

