یونان( خالد مغل سے)لیبیا سے یونان غیر قانونی تارکینِ وطن کا جان لیوا خونی سفر کئی انسانی جانوں کو سمندر میں غرق کرنے کے باوجود بھی نہ روک سکا۔ سینکڑوں کی تعداد میں غیر قانونی مہاجرین لیبیا سے یونان داخل ہونے میں کامیاب۔ یونانی حکومت نے مہاجرین کی غیر قانونی آمد کو روکنے کیلئے وزارتِ دفاع یونان سے مدد مانگ لی۔
لیبیا سے سمندری راستے کے ذریعے یونان آنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد میں اچانک ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تقریباً 800 تارکینِ وطن لیبیا سے یونانی جزیرہ کریتی میں داخل ہوئے ، جن میں مرد، خواتین اور نابالغ بچے بھی شامل ہیں۔ ان تارکینِ کا تعلق پاکستان، بنگلہ دیش، سوڈان، اریتھریا اور مصر سے بتایا جا رہا ہے۔
اچانک اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد پر انہیں ٹہرائے جانے کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں ہے اور انہیں کھلے میدان میں خیموں میں ٹہرایا گیا ہے۔
جزیرہ کریتی پر سیاحتی سیزن میں غیر قانونی مہاجرین کی آمد سے جزیرے کے مکین سخت پریشان ہیں اور سوشل میڈیا پر حکومتِ یونان کی ناکامی پر سخت الفاظ میں تنقید کر رہے ہیں۔
جس کے بعد یونانی وزیر اعظم کیریاکوس میچاتاکیس نے یونانی صدر سے ملاقات کے بعد وزارتِ دفاع سے مدد مانگتے ہوئے یونانی نیوی کے جنگی بحری جہازوں کو لیبیا اور یونان کی سمندری سرحدوں پر تعیئنات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نےمزید کہا ہے کہا یونان اس سنگین مسئلے کو روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا اور یورپی یونین میں بھی اس مسئلے کو ایک مرتبہ پھر اٹھائےگا۔بتایا جا رہا ہے کہ لیبیا میں اس وقت تقریبا 10 ہزار مہاجرین سمندری راستے سے غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے منتظر ہیں۔

