اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے مواصلات عبد العلیم خان اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان کے درمیان شدید زبانی جھگڑا ہو گیا۔ واقعہ 19 دسمبر 2025 کو پیش آیا جب سینیٹر پلوشہ خان نے وزارت مواصلات کی کارکردگی اور لاہور میں ایک مخصوص سڑک منصوبے سے متعلق سوالات اٹھائے اور الزام عائد کیا کہ یہ منصوبہ ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق عبد العلیم خان نے الزامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں ذاتی حملہ قرار دیا اور کہا کہ وہ ایسی باتیں برداشت نہیں کریں گے، اس دوران انہوں نے سخت الفاظ بھی استعمال کیے۔ جواباً پلوشہ خان نے کہا کہ عوامی فنڈز سے بننے والے منصوبوں پر سوال کرنا ان کا حق ہے اور وزیر سوالات سے اس لیے خفا ہیں کیونکہ وہ قصوروار ہیں۔ تلخ جملوں کا تبادلہ بڑھتے بڑھتے ایک دوسرے کو ’’شٹ اپ‘‘ کہنے تک جا پہنچا۔
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر پرویز رشید نے صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کی۔ بعد ازاں عبد العلیم خان نے معذرت کی جس کے بعد ماحول کچھ بہتر ہوا، تاہم سینیٹر پلوشہ خان نے چیئرمین سے وزیر کے طرز عمل کے خلاف باضابطہ رولنگ دینے کا مطالبہ کیا اور اجلاس سے واک آؤٹ بھی کر گئی۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پلوشہ خان نے کہا کہ وہ اس معاملے کو پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے سامنے اٹھائیں گی اور وزیر اعظم سے مطالبہ کریں گی کہ پارلیمانی کمیٹیوں میں اراکین کے سوالات کا مناسب جواب نہ دینے والے وزراء کے خلاف کارروائی کی جائے۔

