حاضرین محفل ہمہ تن گوش،مکمل سکوت اور شامی صاحب کی گفتگو ،صحافت بول رہی تھی متانت نظر آ رہی تھی ، مورخ سامنے بیٹھا تھا ،تاریخ لکھی جا رہی تھی، ایک طویل عرصے بعد کسی مقرر کو سننے ،سمجھنے کا مزہ آ رہا تھا،میرے جیسے لاابالی اور سیلانی طبیعت کے صحافی کسی کو سنتے کم اور فقرے بازی زیادہ کرتے ہیں،طویل اجلاسوں اور سیمینارز میں کم کم ہی جاتے ہیں مگر اس محفل کا لطف ہی کچھ اور تھا جہاں شامی صاحب کو سننا ہی ہمارے لئے بہت بڑا سرمایہ بن رہا تھا ، سینئر صحافی برادرم محمد نوشاد علی اور اشرف سہیل میرے منکر ،نکیر بنے بیٹھے تھے ، سمجھ نہیں آ رہی اے پی این ایس کا شکریہ ادا کروں ، جس کے پلیٹ فارم سے مجیب الرحمنٰ شامی صاحب کے ساتھ ایک شام منائی گئی یا چھوٹے بھائی عرفان اطہر کا ،جنہوں نے مجھے اس تقریب کا دعوت نامہ بھیجا بلکہ یاد دہانی بھی کروائی۔بہت عرصہ پہلے اسی کی دہائی میں پنجاب یونیورسٹی سے کتابی صحافت کو پڑھا اور آج شامی یونیورسٹی میں شامی صاحب کی باتیں سن کر اپنے آپ کو پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھتا محسوس کر رہا ہوں، اسی کی دہائی کے اختتام پر اسی اخبار ،،روزنامہ پاکستان ،، سے رپورٹر کی حیثیت سے عملی صحافت کا آغاذ کیا جس کے آج مدیر اعلیٰ، شامی صاحب ہیں،میری صحافت کے پاکستان سے پاکستان تک کے اس سفر میں ضیا شاہد صاحب میرے وہ استاد ہیں جن سے میں نے حق سچ لکھنا سیکھا مگر شامی صاحب صحافت کے وہ شجر سایہ دار ہیں جن سے میں نے سچ کہنے، لکھنے کا وہ انداز سمجھا جو بھانبڑ نہ مچائے ،میں نے مجید نظامی صاحب ،سلطان لاکھانی صاحب اور پھر ماہتاب خان صاحب جیسے بلند پایہ صحافیوں کی ادارت میں بھی کام کیا جو میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔
برادرم سلمان غنی اور اجمل جامی کے شامی صاحب سے سوالات ،سوال کم اور انکی شخصیت کے مختلف پہلووں کا خوبصورت احاطہ زیادہ تھے ،سلمان غنی پنجاب یونیورسٹی اور پھر صحافت میں میرے ایسے سینئر ہیں جن سے میں ہمیشہ متاثر بھی ہوا اور بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا ،وقت کے ساتھ ساتھ انکی صحافت،رویے اور سوچ میں جو پختگی آئی وہ کمال ہے ،چھوٹی بہن سویرا شامی اور برادرم عمر شامی نے اپنے پیارے والد کے بارے میں جو تاثرات بیان کیے،یقین جانیے شامی صاحب کے اکثر قریبی لوگوں کے بھی یہی خیالات ہیں،اپنی اولاد اور ہم جیسوں کو جو عزت شامی صاحب دیتے ہیں ،یہ ان ہی کا خاصہ ہے، نفسا نفسی کے اس دور میں یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں،چھوٹے بھائی اجمل جامی کا یہ سوال بھی اپنے اندر شامی صاحب کی شخصیت کا ایک بہترین پہلو بتا رہا تھا کہ انہیں ہر حکمران اور سیاستدان یکساں عزت دیتا ہے،میاںصاحبان، چودھری صاحبان،زرداری صاحب اور عمران خان صاحب کے علاوہ دیگر سیاسی اور قومی راہنما ،شامی صاحب کی بات پر نہ صرف کان دھرتے ہیں بلکہ اس پر عمل درآمد کی بھی کوشش کرتے ہیں،ان سے اختلاف کرنے والے بھی ان کا احترام کرتے ہیں کیونکہ وہ کسی کی تضحیک کرتے ہیں نہ کسی کی نیت پر حملہ بلکہ دلیل کے ساتھ اختلاف کرتے ہیں، یہی صحافت کا اصل حسن ہے، جو آج کل کم نظر آتا ہے مگر شامی صاحب کے ہاں اب بھی موجود ہے،ڈیجیٹل دور، سوشل میڈیا اور فیک نیوز کے اس ہجوم میں شامی صاحب جیسے صحافی ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ یاد دلاتے ہیں کہ صحافت محض کلک اور ریٹنگ کا کھیل نہیں بلکہ اعتماد کی امانت ہے،انکی شخصیت کا ایک اور پہلو ہر کسی کی غمی خوشی میں شرکت ہے ،میں نے انہیں روزانہ کسی نہ کسی تقریب میں ضرور دیکھا ہے،اسی طرح کوئی انہیں دفتر یا گھر ملنے آ رہا ہے یا وہ کسی کو ملنے جا رہے ہوتے ہیں،مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ اتنا ٹائم کس طرح نکال لیتے ہیں ۔ پاکستان کی صحافتی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ان میں چند نام ایسے ہیں جو محض افراد نہیں بلکہ ادارہ سمجھے جاتے ہیں، جن کی تحریر میں وقت کی دھڑکن سنائی دیتی ہے، جن کے تجزیے میں حالات کی گہرائی اور جن کی رائے میں تجربے کی پختگی جھلکتی ہے، ایسے ہی ناموں میں ایک نمایاں، معتبر اور ہر دور میں قابلِ حوالہ نام مجیب الرحمان شامی صاحب کا ہے، وہ صحافی جنہوں نے آمریت دیکھی، جمہوریت کا عروج و زوال دیکھا، سیاسی جماعتوں کی تشکیل بھی دیکھی اور ٹوٹ پھوٹ بھی، مگر خود کو ہمیشہ صحافت کے اصولوں سے وابستہ رکھا،ان کا صحافتی سفر اخبار یا ادارت کا سفر نہیں بلکہ یہ پاکستان کی سیاسی، سماجی اور فکری تاریخ کا آئینہ ہے، ان کی صحافت میں جذبات نہیں شعور، شور نہیں دلیل، اور الزام نہیں تجزیہ غالب رہتا ہے،یہی وجہ ہے کہ ان کی بات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔شامی صاحب نے صحافت کا آغاز ایسے وقت میں کیا جب یہ شعبہ خطرناک بلکہ نظریاتی وابستگیوں سے بھرپور سمجھا جاتا تھا، یہ وہ دور تھا جب قلم کی قیمت ادا کرنا پڑتی تھی، جب ایک سطر جیل کی کوٹھڑی تک لے جا سکتی تھی، صحافت کو محض پیشہ نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھ کر اپنایا،ابتدائی دور سے ہی ان کی تحریروں میں سنجیدگی، شائستگی اور توازن نمایاں تھا۔
پاکستان میں صحافت کی تاریخ آمریت کے ادوار سے الگ نہیں، جنرل ایوب سے لے کر جنرل ضیاء الحق اور پھر جنرل مشرف تک، ہر دور میں صحافیوں کو ریاستی دباؤ، سنسر شپ اور خوف کا سامنا رہا، شامی صاحب ان چند صحافیوں میں شامل رہے جنہوں نے سخت حالات میں بھی صحافتی توازن کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا،انہوں نے جذباتی بغاوت کا راستہ اپنایا اور نہ ہی مصلحت کے نام پر مکمل خاموشی اختیار کی، ان کی تحریر میں ایک مہذب مزاحمت، ایک شائستہ اختلاف اور ایک بالغ نظری جھلکتی رہی، یہی وجہ ہے کہ وہ ہر دور میں پڑھے اور سنے جانے والے صحافی ہیں۔بطور ایڈیٹر اور کالم نگار ، انہوں نے اخبار کو محض خبرنامہ نہیں بلکہ فکری پلیٹ فارم بنانے میں کردار ادا کیا، ان کا ادارتی انداز سخت نہیں مگر واضح، مبہم نہیں مگر محتاط رہا،وہ جانتے ہیں کہ ایک جملہ کس طرح ریاستی ماحول پر اثر ڈال سکتا ہے، اس لیے ان کی تحریر میں وزن ہوتا ہے، شور نہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کا کالم اور تجزیہ آج بھی فیصلہ سازوں، بیوروکریسی، سیاستدانوں اور سنجیدہ قاری کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے،ٹی وی ٹاک شوز کے شور، چیخ و پکار اور ریٹنگ کی دوڑ میں بھی انہوں نے اپنا وقار برقرار رکھا۔
ان کا طویل صحافتی سفر اس بات کی دلیل ہے کہ اگر نیت درست ، مطالعہ وسیع اور قلم دیانتدار ہو تو صحافت آج بھی باوقار پیشہ بن سکتی ہے،شامی صاحب کا نام پاکستان کی صحافتی تاریخ میں ایک باب نہیں بلکہ ایک مکمل حوالہ ہے، ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ صحافت اگر اصولوں کے ساتھ کی جائے تو نہ صرف زندہ رہتی ہے بلکہ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے،شامی صاحب آج بھی متحرک ہیں، باخبر ہیں اور مؤثر ہیں ، یہی خوبیاں کسی صحافی کی اصل کامیابی ہے۔

