شدت پسند گروہ افغانستان اور دنیا کیلئےخطرہ بنے ہوئے ہیں: وزیراعظم

اسلام آباد (نامہ نگار) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ شدت پسند گروہ نہ صرف افغانستان بلکہ خطے اور دنیا کے لیے بھی خطرہ بن چکے ہیں، اگر افغان طالبان کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے گروپوں کے خلاف عملی کارروائی کریں تو پاکستان مکمل تعاون کیلئے تیار ہے۔

“پائیدار امن کا دارومدار کابل پر ہے”
اسلام آباد میں منعقدہ بین الپارلیمانی کانفرنس 2025 سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ”امن، سلامتی اور ترقی کے موضوع پر پارلیمانی اسپیکرز کو ایک پلیٹ فارم پر لانا پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے، پائیدار ترقی صرف امن و استحکام سے ہی ممکن ہے۔”

انہوں نے کہا کہ افغانستان کا کردار خطے میں امن و استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے”پائیدار امن کا دارومدار کابل پر ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروپوں کو قابو میں رکھے۔”

“پاکستان اپنی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر قیمت ادا کریگا”
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ دفاعِ وطن اور استحکام کیلئے عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔”دنیا نے دیکھا کہ پاکستان اپنی سالمیت اور دفاع کے حق کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔”

انہوں نے کہا کہ رواں سال پاکستان کو امن دشمن کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا”بدقسمتی سے ہمارے مشرقی محاذ سے حملہ کیا گیا، لیکن ہماری مسلح افواج نے پیشہ ورانہ انداز میں جواب دے کر دشمن کے عزائم ناکام بنا دیے۔”

“افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں بدامنی کا باعث ہیں”
شہباز شریف نے کہا کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ نہ صرف وہاں بلکہ پاکستان میں بھی بدامنی پھیلا رہے ہیں۔”اگر افغان طالبان ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے خلاف کارروائی کریں تو ہم ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے دہشت گردی کرنے والوں کو سبق سکھایا ہے اور”ہم اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتے رہیں گے۔”

“ترکیہ اور قطر کی ثالثی کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں”
وزیراعظم نے ترکیہ اور قطر کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ”ہم دوست ممالک کی امن کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کیونکہ امن و استحکام ہی کسی بھی معاشرے کی ترقی کی کلید ہیں۔”

“عوام کی امیدوں کو حقیقت میں بدلنا ہماری ذمہ داری ہے”
خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ”عوام کے خوابوں اور توقعات کو حقیقت میں بدلنے کیلئے اپنی تمام توانائیاں صرف کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ یقین ہے کہ اس کانفرنس میں ہونے والی دانشمندانہ گفتگو ہمارے اجتماعی سفر کو مزید مستحکم کرے گی۔”

تجزیہ نگاروں کے مطابق وزیراعظم کے یہ بیانات افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور سرحدی سیکیورٹی صورتِ حال کے تناظر میں اہم پیش رفت ہیں، جبکہ پاکستان کی جانب سے امن اور تعاون کیلئےواضح پیغام دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں