شمالی کوریا کا بھرپور طاقت کا مظاہرہ، نئے بین البراعظمی میزائل کی نمائش

پیانگ یانگ (نیوز ڈیسک/ایجنسیز)شمالی کوریا نے حکمران ورکرز پارٹی کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر دارالحکومت پیانگ یانگ میں ایک عظیم الشان فوجی پریڈ کا انعقاد کیا، جس میں ملک کے سب سے جدید بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) ’ہواسونگ-20‘ کے ساتھ ساتھ دیگر جدید ترین ہتھیاروں کی نمائش کی گئی۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے پریڈ کی نگرانی کی، جس میں چین اور روس کے اعلیٰ سطحی وفود سمیت دیگر بین الاقوامی مہمانوں نے شرکت کی، جو خطے میں بدلتے ہوئے سٹریٹجک اتحاد کی واضح علامت ہے۔

“بین الاقوامی ذرائع سے اضافی تفصیلات”
مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، یہ پریڈ صرف طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی نمائش تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں پر بھی خاص توجہ دی گئی۔ جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ (Yonhap) نے رپورٹ کیا کہ پریڈ میں چھوٹے، ٹیکٹیکل جوہری وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل بھی شامل تھے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ شمالی کوریا نہ صرف امریکہ بلکہ خطے میں موجود امریکی اتحادیوں، جنوبی کوریا اور جاپان، کے لیے بھی اپنے خطرے کو بڑھا رہا ہے۔

الجزیرہ اور بی بی سی جیسے اداروں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پریڈ میں دکھائے گئے کچھ ہتھیار، خاص طور پر ڈرونز اور ہائپرسونک میزائل، یوکرین میں جاری جنگ کے تجربات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کے نتیجے میں شمالی کوریا کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوئی ہے، جس کا مظاہرہ اس پریڈ میں کیا گیا۔

“کم جونگ اُن کے خطاب کے اہم نکات”
بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے کم جونگ اُن کی تقریر کے جارحانہ لہجے کو بھی نوٹ کیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی فوج کی تعریف کی بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو “سامراجی قوتیں” قرار دیتے ہوئے واضح طور پر خبردار کیا۔ کم جونگ اُن نے کہا، “اگر دشمن ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی کی جرأت کرتا ہے تو ہم اپنی تمام تر جوہری صلاحیتوں کو متحرک کرنے میں ایک لمحے کی بھی ہچکچاہٹ نہیں دکھائیں گے۔” یہ بیان شمالی کوریا کے جوہری ڈاکٹرائن میں ممکنہ تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو صرف دفاع کے بجائے preemptive حملے کے لیے بھی استعمال کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

“ہتھیاروں کی نمائش اور سٹریٹجک پیغام”
پریڈ کا سب سے اہم پہلو ’ہواسونگ-20‘ میزائل تھا، جسے ملٹی پل انڈیپنڈنٹلی ٹارگٹ ایبل ری انٹری وہیکل (MIRV) ٹیکنالوجی سے لیس سمجھا جا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق، اس ٹیکنالوجی کا مطلب ہے کہ ایک ہی میزائل متعدد وار ہیڈز لے جا سکتا ہے، جو مختلف اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جس سے امریکی میزائل دفاعی نظام کو ناکارہ بنانا آسان ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، نئے خودکش ڈرونز، آبدوز سے لانچ کیے جانے والے بیلسٹک میزائل (SLBMs) اور ایک نئے قسم کے ملٹی پل راکٹ لانچر سسٹم کی موجودگی نے ظاہر کیا کہ شمالی کوریا اپنی عسکری صلاحیتوں کو ہر شعبے میں وسعت دے رہا ہے۔

“بین الاقوامی ردعمل”
اس پریڈ پر امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ واشنگٹن میں حکام نے اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

مجموعی طور پر، یہ پریڈ صرف ایک سالگرہ کی تقریب نہیں تھی، بلکہ یہ شمالی کوریا کی طرف سے دنیا، خاص طور پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں، کو ایک واضح پیغام تھا کہ وہ اپنی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت اور جوہری صلاحیتوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں