سیول(ایجنسیاں)شمالی کوریا میں اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ رہنما کم جونگ ان کی تقریباً 13 سالہ بیٹی کم جو اے کو آئندہ رہنما کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، جس سے خاندان کے اندر طاقت کی کشمکش کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلیجنس سروس نے قانون سازوں کو بریفنگ میں بتایا کہ کم جو اے کو جلد باقاعدہ وارث نامزد کیا جا سکتا ہے۔ کم جو اے نومبر 2022ء میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے تجربے کے موقع پر منظرِ عام پر آئی تھیں اور تب سے فوجی پریڈز، ہتھیاروں کے تجربات اور فیکٹری دوروں میں والد کے ہمراہ نظر آتی رہی ہیں۔
اس دوران، وہ گزشتہ برس ستمبر میں چین بھی گئیں، جسے ان کی جانشینی کی تیاری کے حصے کے طور پر دیکھا گیا۔ ابتدائی طور پر جنوبی کوریا کے اعلیٰ حکام کو شک تھا کہ مردانہ غلبے والے نظام میں کسی لڑکی کو قیادت دی جا سکتی ہے، لیکن کم جو اے کی سیاسی سطح پر مستقل موجودگی نے اس سوچ میں تبدیلی پیدا کر دی۔
“طاقت ور خالہ کا چیلنج”
دوسری جانب کم یو جونگ، 38 سالہ رہنما، شمالی کوریا کی دوسری طاقتور ترین شخصیت سمجھی جاتی ہیں اور ورکرز پارٹی کی مرکزی کمیٹی میں اعلیٰ عہدہ رکھتی ہیں۔
کم یو جونگ سخت بیانات کیلئے مشہور ہیں: 2022ء میں انہوں نے جنوبی کوریا کے وزیرِ دفاع کو دھمکیاں دی تھیں۔ جنوبی کوریا کے سابق انٹیلیجنس اہلکار رہ جونگ یِل کے مطابق اگر کم یو جونگ کو موقع ملا تو وہ قیادت حاصل کرنے کی کوشش سے پیچھے نہیں ہٹیں گی اور اس طرح مستقبل میں طاقت کی اعلیٰ اور سنجیدہ کشمکش متوقع ہے۔

