شنگھائی تعاون تنظیم پر رکن ممالک کی ترقی و خوشحالی کے فروغ کی ذمے داری عائد ہوتی ہے: چینی صدر

تیانجن (رائٹرز/شنہوا/ویب ڈیسک) چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سیکیورٹی فورم پر اب صرف علاقائی امن و استحکام کے تحفظ ہی نہیں بلکہ رکن ممالک کی ترقی و خوشحالی کو فروغ دینے کی بھی بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شی جن پنگ نے یہ بات اتوار کی شام تقریباً 20 عالمی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران کہی۔ وسطی، جنوبی، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے رہنما اس وقت چین کے شمالی شہر تیانجن میں جاری ایس سی او سربراہی اجلاس میں شریک ہیں، جسے گلوبل ساؤتھ کے اتحاد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، خیرمقدمی عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی نے کہا کہ جاری ایس سی او سربراہی اجلاس تمام فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور تعاون میں نئی توانائی بھرنے کے اہم مشن کی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔

شی جن پنگ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مشترکہ کوششوں سے یہ اجلاس کامیاب ثابت ہوگا، ایس سی او مزید بڑا کردار ادا کرے گی اور رکن ممالک کے درمیان اتحاد و تعاون کو فروغ دینے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔

شنہوا کی رپورٹ کے مطابق یہ اجلاس گروپ کی تاریخ کا سب سے بڑا سالانہ اجلاس ہے، جس میں اہم دستاویزات کی منظوری متوقع ہے، جن میں تنظیم کی آئندہ دہائی کی ترقیاتی حکمتِ عملی بھی شامل ہے۔

چینی صدر نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ایس سی او “بین الاقوامی تعلقات کی ایک نئی قسم اور انسانیت کے لیے مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی بنانے میں ایک اہم قوت بن چکی ہے۔”

اپنا تبصرہ لکھیں