شہریوں میں بھی نظم ضروری، ٹریفک کے مسئلہ پر توجہ کیوں نہیں!

ہم میں جو افراد بھی بیرونی ممالک کے سفر سے واپس آتے ہیں جو حجاج کرام مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ تشریف لے جاتے اور ان کا قیام زیادہ ہوتا ہے وہ سب واپس آکر ان ممالک کے ٹریفک نظام کی بہت تعریف کرتے ہیں جن حضرات کا بھی قیام زیادہ ہوتا ہے وہ تو تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں،ایک محترم حاجی بتا رہے تھے کہ انہوں نے مکہ معظمہ میں کافی وقت گزارا اور مختلف علاقوں کی سیر بھی کی۔ سڑکیں کھلی ہونا اور صفائی کی حالت اپنی جگہ لیکن اصل نظم و ضبط ٹریفک میں نظر آیا کہ تمام اشارے رات بھر بھی چلتے ہیں اور کارسوار حضرات ان کی پابندی بھی کرتے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ رات دو بجے جب سڑکیں سنسان ہوتی ہیں تو بھی کوئی شہری اشارے کی خلاف ورزی نہیں کرتا حتیٰ کہ آگے بڑھنے کیلئےاسی لین کو استعمال کرتا ہے جدھر اسے جانا ہوتا ہے، دائیں والے پہلی لین،سامنے والے درمیانی اور بائیں مڑنے والے آخری بائیں لین اختیار کرتے اور اسی تناسب اور طریقے سے روانہ ہوتے ہیں، یوں بھیڑ کے موقع پر بھی اسی نظم کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

میں نے خود بھی برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کا سفر کیا اور انہی حالات سے واسطہ پڑا، میں پہلی بار 1988ء میں برطانیہ اور پھر امریکہ بھی گیا تب بھی وہاں حالات ایسے ہی تھے بلکہ بہتر تھا، بس ہو یا ریل لوگ قطار کا دھیان رکھتے، سڑک یا زمین پر کاغذا کا کوئی ٹکڑا بھی نہیں پھینکتے۔ دوبرس قبل میں بیٹی اور بچوں سے ملنے برمنگھم گیا تو قریباً ڈیڑھ ماہ قیام رہا کیونکہ میرے نواسے عاذل اور نواسی کو سکول سے کرسمس اور سردیوں کی چھٹیاں تھیں،پہلی بار گیا تو لندن اور مانچسٹر تک محدود رہا اگرچہ قیام طویل تھا تاہم لندن کی دشت گردی زیادہ تھی، تاہم دو سال قبل ہم نے برطانیہ کی بہت سیر کی،تقریبات دیکھیں، حصہ لیا اور سفر کیا، صفائی کی بات تو اپنی ہے، اصل بات ٹریفک قواعد کی پابندی تھی، میری بیٹی بھی ڈرائیو کرتی ہے، اس کے ساتھ جب بھی گراسری کے لئے جانا ہوا یہ مشاہدہ کیا کہ وہ جب گلی والی لین سے کمیونٹی کی سڑک پر آنے لگتی تو رک جاتی جب تک سڑک پر آنے جانے والی گاڑیوں سے سڑک صاف نہ ملتی خواہ کتنا ہی وقت ہو جاتا یہی کیفیت دوسرے شہروں اور لندن کی بھی ہے، برطانیہ کی جس دوسری بات نے زیادہ متاثر کیا کہ جدھر بھی گئے سڑکوں کی مرمت کا کام ہوتاملا، میرے داماد عظمت نے بتایا کہ یہ سلسلہ پورا سال اور چوبیس گھنٹے جاری رہتا ہے جس کاؤنٹی کے حصے میں سڑک کا جو حصہ آتا ہے اسے خراب نہیں ہونے دیا جاتا، برف باری کے دنوں میں سڑکوں پر نمک چھڑکا جاتااور گاڑیاں ہمہ وقت موجود رہتی ہیں، یوں ٹریفک رواں رہتی ہے، برطانیہ میں اب موٹر سائیکل خال خال نظر آتے ہیں، تاہم سائیکلوں کی تعداد ان سے زیادہ ہے جو عام طورپر بوڑھوں اور بچوں کی سواری ہے یہ حضرات سڑک کے بائیں حصے میں چلتے، تاہم عظمت کے مطابق گاڑی والوں کو ان کا بہت خیال رکھنا پڑتا ہے،حتی کہ سائیکل سوار دائیں بائیں مڑناچاہیں تو گاڑی والے ان کو موقع دیتے ہیں۔ یوں وہاں انتظامیہ اور عوام میں تعاون کا ایک سلسلہ موجود ہے یہ نہیں کہ وہاں چالان نہیں ہوتے، بڑی سڑکوں پر کیمروں کا جدید نظام ہے کوئی سپاہی نظر نہیں آتا، یہ کیمرے ٹریفک کی خلاف ورزی سے لے کر حادثے تک کی کوریج کرتے ہیں اور ہماری سوچ سے کہیں پہلے مقامی انتظامیہ معہ پولیس موقع پر پہنچ جاتی ہے، ٹریفک کی روانی کو متاثر نہیں ہونے دیا جاتا، زخمیوں کے لئے ایمبولینس اور گاڑی کے لئے کرین اور ورکشاپ گاڑی بھی ساتھ پہنچتی ہے، یوں انتظام اور تعاون یکجا ہیں۔

ہم اس نظام کی تعریف کرتے اور اپنے شہریوں میں بالکل اس کے الٹ پاتے ہیں، چنانچہ ہم سب بات تو کرتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے، ہمارے ملک میں تو سخت مہم اور جرمانوں کے باوجود بھی لوگ راہ راست پر نہیں آتے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے منتظم ہمارے ساتھ نہ تو مہذب ملکوں والا سلوک کرتے ہیں اور نہ ہی ہم اب اچھی بات کو سنتے ہیں، رہتی سہتی کسر سوشل میڈیا نے پوری کر دی، اس کے لئے تعلیم یافتہ یا غیر تعلیم یافتہ ہونا لازم نہیں، آپ بس اور ٹرین میں سفر کریں تو آپ کو ہر دوسرا فرد موبائل سے کھیلتا ملے گا۔سڑک پر چلنے کے آداب اور ٹریفک کے قواعد ہم کو نہیں بتائے جاتے، اس پر ہمارے ماہرین نے ٹریفک کی بہتری اور روانی کے لئے سارا شہر خراب کر دیا، اس کے تاریخی مقام کچھ اور ہی ہو گئے بعض کا تو نشان باقی نہیں رہا، انٹرچینج سے ٹریفک بہتر ہوتی ہے ہم نے پل بنائے ہیں اور یہاں ہم جسے انٹرچینج کہتے ہیں وہ الٹے سیدھے راستے ہیں بلکہ بھول بھلیاں ہیں کئی بار اپنا راستہ بھول ہی جاتا ہے۔

مجھے بھی قریباً روزانہ کینال روڈز، جیل روڈ،فیروز پور روڈ اور وحدت روڈ سے واسطہ پڑتا ہے ان سڑکوں پر ٹریفک کا توازن تو نہ ہونے کے برابر ہے لیکن ہر فرد کی پہلے گزرنے کی کوشش کئی تماشے بنا دیتی ہے اور اکثر جھگڑے بھی ہوتے ہیں، متعلقہ محکموں والے حالات کو درست کرنے کی بجائے شکایت کرتے ہیں اور اب تو یہ سب آمدنی کا ذریعہ ہے کیونکہ ٹریفک وار ڈنز، ٹریفک کے بہاؤ کی بحالی کے بجائے جرمانوں کی طرف توجہ دیتے ہیں۔میرا مشاہدہ یہ ہے کہ گاڑیوں کی بھرمار، ایک ہی طرف رہائشی کالونیوں کا پھیلاؤ اور کوئی نئی متبادل سڑک کا نہ ہونا، پہلے سے موجود سڑکوں پر سارا لوڈ منتقل ہونا ہے، تاہم افسوس اس امر کا ہے کہ نظم و ضبط کی عدم موجودگی، ٹریفک بہاؤ کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے وارڈنز کی غیر حاضری بھی اس کی وجہ ہے۔

میں پہلی بات کرتا ہوں کہ شہری قواعد سے بے بہرہ اور بے صبرے ہیں کسی دوسرے کو راستہ دے دینے کی بجائے خود پہلے پہنچ جانے کی دوڑ میں ٹریفک جام کا سبب بنتے ہیں، ابھی گزشتہ روز ہی جب میں اپنے صابزادے کے ساتھ گھر واپس جا رہا تھا تو کینال روڈ پر ٹریفک بار بار رکتی تھی، اسی میں ایک نوجوان نئی گاڑی لئے کھیل میں مصروف تھا وہ درمیان کی لین سے دائیں اور پھر وہاں سے بائیں اور تیسری لین میں جا کر واپس آ رہا تھا یوں اپنی مہارت کا مظاہرہ کرکے خوش ہو رہا تھا، موٹر سائیکل سوار، رکشا والے، لوڈر والے اور لوڈرگاڑیوں والے بھی انتہائی بائیں لین میں نہیں چل رہے تھے چاروں طرف گھوم جاتے تھے، یہ ٹریفک جام نظم و نسق پر عمل نہ کرنے اور ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کے باعث ہیں جو نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرتے بلکہ پٹرولیم کے استعمال میں اضافے کا بھی باعث بنتے ہیں۔ کینال روڈز کا مسئلہ تو ٹریفک مینجمنٹ کا نہ ہونا ہے کہ انڈر پاسز کے ہوتے، انہی کے باعث ٹریفک جام ہوتی ہے۔ یہ معمولی مسئلہ ہے جو سڑک پر انڈرپاسز والی لین پر عمل کرانے سے حل ہو سکتا ہے کہ درمیان میں سڑک کھلی ہونے کے باعث پانچ چھ قطاریں بن جاتی ہیں، ہر کوئی پہلے جانے کی کوشش میں بائیں سے انڈر پاس میں گھس کر ایسا کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈرائیور حضرات خود لین کی پابندی کریں، انڈرپاسز سے گزرنے والے تین لینز سے باہر نہ نکلیں اور بائیں طرف سے کسی کو گھسنے نہ دیا جائے لیکن یہاں تو ٹریفک وارڈن نظر نہیں آتا، کون ٹھیک کرائے گا؟