شہید رانی کی 18ویں برسی اور یادیں!

ٹیلی ویژن پر گڑھی خدا بخش لاڑکانہ کی کوریج دیکھ رہا ہوں اور خود کو گزرے سالوں میں پاتا ہوں۔میدان بھی یہی تھا اور موسم گرم تھا، تب ایک ہی برسی ہوتی تھی جو 4اپریل کو ہر سال اب بھی ہوتی ہےّ آج یہاں ایک دوسری برسی ہے جو 18ویں کہلا رہی ہے۔ مجھے 2001ء کے اپریل کی وہ 4اپریل بڑی اچھی طرح یاد ہے، جب یہی میدان تھا اور جیالوں سے بھرا ہوا، سٹیج پر محترمہ بے نظیر بھٹو تھیں، وہ اپنے پسندیدہ لباس سفید شلوار ہلکے سبز رنگ کی قمیض اور سر پر سفید ہی دوپٹہ اوڑھے بہت جچ رہی تھیں۔ میرا ساتھی ناصر غنی مختلف انداز سے ان کی تصاویر بنا رہا تھا۔ میں پارٹی لیڈروں کیساتھ انکے دائیں طرف بیٹھا، کئی اور واقعات یاد کررہا تھا، خصوصاً 1997ء کی انتخابی مہم اور اس کے بعدمیاں مصباح الرحمن کی رہائش گاہ پر محترمہ کے ساتھ ڈھائی گھنٹے کی بے تکلفانہ بات چیت بھی یاد آ رہی تھی، یہ نشست میری درخواست پر ہوئی جو وہاڑی میں افطار کے وقت کی گئی تھی، اس محفل میں چودھری احمد مختار (مرحوم) بھی تھے اور وہ محترمہ کی تھوڑی ناگواری کے باوجود سگریٹ نوشی کرتے رہے۔ میرے ساتھ مرحوم اشرف ممتاز (اس وقت ڈان) بھی تھے۔ ان ڈھائی گھنٹوں کی نشست میں گھریلو ماحول تھا اور محترمہ سے سوال جواب بھی محفل کے طور پر ہی تھے، انہوں نے اپنی نشست میں اپنے بھائیوں میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہ نواز بھٹو کا بہت ذکر کیا، ان کی تمام تر گفتگو سے اندازہ ہوتا تھا کہ ان کو بھائیوں اور ان کی اولاد سے کتنا پیار تھا، میں اس وقت تھوڑا سا حیران ہوا، جب انہوں نے کہا ”میں تو سسی کو بھی حصہ دینا چاہتی ہوں“ سسی شاہ نواز بھٹو کی بیٹی ہیں جو امریکہ میں ہیں، میر مرتضیٰ بھٹو نے تو از خود 70-71کلفٹن اور المرتضیٰ لاڑکانہ کے علاوہ زرعی زمین اپنے پاس رکھی ہوئی تھی۔ اب ان کی وراثت غنویٰ بھٹو کے پاس ہے جو اب منظر پر نہیں تاہم میر مرتضیٰ کی پہلی بیوی سے فاطمہ اور غنویٰ سے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر ہیں،جواب سیاست کا بھی ارادہ باندھے ہوئے ہیں، لاڑکانہ کی رہائش گاہ المرتضیٰ کے بارے میں جو محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی خود نوشت ”دختر مشرق“ میں لکھا ہے کہ میر(مرتضیٰ) نے خواہش ظاہر کی کہ المرتضیٰ ان کو دیدی جائے اور میں نے (بے نظیر) فوراً ہاں کر دی تھی، اس کے بعد وہ خود لاڑکانہ جاتیں تو اپنی بڑی امی امیر بیگم والی حویلی نوڈیرو میں ٹھہرتی تھیں جو امیر بیگم کی تمام وراثت کے ساتھ ان کو منتقل ہوئی تھی (اطلاع ہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں بھٹو کی وراثت کی تقسیم کیلئے ایک درخواست سماعت کی منتظر ہے جو بھٹو کی وفات کے بعد سے زیر التواء ہے)

محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے اس ملاقات کی یوں بھی یاد آئی کہ ایک جیالے نے جو بہت مدبر اور سنجیدہ ہے ایک خواہش ظاہر کی تھی کہ اللہ کرے محترمہ شہید اور میر مرتضیٰ کے بچوں کے درمیان کزن (بھائی) جیسے تعلقات استوار ہو جائیں۔ ایسی ہی بات فرخ سہیل گوئندی نے بھی کی تھی، میرا اپنا بھی یہی خیال ہے کہ سیاست اور وراثت کو رشتوں پر بھاری نہیں ہونا چاہیے، کاش محترمہ بے نظیر شہید کی تدفین کے وقت جب ذوالفقار جونیئر اور فاطمہ بھٹو اپنی پھوپھی کی تعزیت اور جنازے میں شرکت کیلئے آئے تھے تو انکو گلے لگا لیا گیا ہوتاکہ خود محترمہ شہید کی اپنی بھی یہی خواہش تھی۔ بہرحال اس حوالے سے اور بھی بہت باتیں ہیں، جو امانتاً میرے سینے میں محفوظ ہیں۔

ذکر محترمہ کی 18ویں برسی پر گڑھی خدا بخش کے اجتماع کا تھا کہ ماضی نے قابو پا لیا اور قلم رواں ہو گیا جس 4اپریل کا میں ذکر کر رہا ہوں، وہ بھٹو کی برسی کا وہ اجتماع تھا جس میں انہوں نے بڑی زبردست تقریر کی اور جمہوریت کو انتقام قرار دیا تھا، محترمہ سے شاید یہ آخری علیک سلیک تھی، اس اجتماع کے موقع پر وہ سب لوگ موجود تھے جو اب یا تو جماعت سے الگ ہو کر اپنی جماعت بنا چکے یا پھر تحریک انصاف میں چلے گئے اور یہ سب محترمہ کی 2007ء میں شہادت کے بعد ہوا کہ صفدر عباسی اور ناہید خان بھی الگ ہو گئے جو اس وقت بڑے سرگرم تھے۔ صفدر عباسی نے 4اپریل کی اس شب مجھے اور ناصر غنی کو اپنی حویلی میں ٹھہرایا تھا۔ پرانی بات اس لئے کر رہا ہوں کہ اس اجتماع کے اختتام پر محترمہ بے نظیر بھٹو لاڑکانہ سے سیدھی کراچی گئیں اور وہاں سے عرب امارات روانہ ہو گئیں اور پھر باقی عرصہ بیرون ملک گذارا، اس عرصہ میں وہ مختلف اداروں کی دعوت پر امریکہ، برطانیہ اور کئی دوسرے ممالک میں لیکچر دینے بھی جاتی تھیں، تاہم ان کا قیام دبئی میں ہوتا، تینوں بچے ان کے پاس تھے اور ان کی تربیت بھی وہ خود کرتی تھیں، خصوصاً بلاول پر ان کی توجہ سیاست کے حوالے سے بھی تھی اور وہ بلاول کو چین، فرانس اور کئی دوسرے ممالک میں کانفرنسوں میں بھیجتی رہیں، ڈاکٹر جہانگیر بدر (مرحوم) کو ان کے ساتھ جانا ہوتا تھا۔ اس تربیت کے اثرات اس وقت محسوس اور ظاہر ہوتے ہیں، جب بلاول کسی اہم اجتماع اور موضوع کے حوالے سے بولتے ہیں۔ بلاول نے محترمہ کے پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے فلسفے کا بھی کئی بار ذکر کیا ہے، تاہم اب پیپلزپارٹی پی آئی اے کی نجکاری پر خاموش ہے۔

گڑھی خدا بخش میں جیالے اور جیالیوں کا جوش و خروش عروج پر ہے اس تحریر کی تکمیل تک جلسہ شروع نہیں ہو سکے گا کہ وقت کی اپنی رفتار ہے تاہم گڑھی خدا بخش کا میدان جیالوں سے بھر چکا، سندھ میں تعطیل ہے۔ سید مراد علی شاہ اپنے وزراء کے ساتھ موجود ہیں۔ پنجاب کے گورنر سلیم حیدر، کے پی کے گورنر فیصل کنڈی اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی بھی پہنچ چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور وزیراعظم کی طرف سے رانا ثناء اللہ، سپیکر ایاز صادق اور ڈاکٹر فضل آئے ہیں اور یہ ایک اچھا عمل ہے۔ یاد آیا کہ 27دسمبر 2007ء کو جب محترمہ شہید ہوئیں تو میاں محمد نوازشریف بھی راولپنڈی میں ایئرپورٹ کی طرف ایک جلوس کی قیادت کررہے تھے۔ ان کے جلوس پر چھتوں سے فائرنگ ہوئی اور دو کارکن شہید ہوئے تاہم نوازشریف حملے کا سن کر ہسپتال پہنچنے والے پہلے رہنما تھے جنہوں نے ڈاکٹروں سے محترمہ کی حالت کے بارے میں دریافت کیا اور وہیں ان کو شہادت کی خبر مل گئی۔ میاں نوازشریف جنازے میں شرکت کے بھی خواہش مند تھے تاہم ان سے بوجوہ گزارش کی گئی اور وہ نہیں گئے تھے۔

یہ بھی خبر ہی ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اس وقت کے آمر جنرل پرویز مشرف کی تنبیہہ کو نظر انداز کرکے آئیں۔ پہلا عمل ان کی آمد اور استقبال پر شاہکار کے مقام پر دھماکوں سے ہوا، اس میں دو سو سے زائد کارکن شہید اور لاپتہ ہوئے، اس انتہائی حملے کے بعد بھی انہوں نے اپنی سرگرمیاں معطل نہ کیں اور منع کرنے کے باوجود لیاقت باغ میں جلسہ کیا اور واپسی میں شہادت کے درجہ پر فائز ہو گئیں۔ آج تک مختلف نوعیت کی تحقیقات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور الزام تحریک طالبان کے دہشت گردوں پر ہے اگرچہ یہ بڑی گہری سازش تھی جو پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بھی آشکار نہ ہوئی۔ ایک بات یہ کہ آج گڑھی خدا بخش میں نعرے لگے۔ شہید رانی، شہیدرانی، خصوصاً خواتین پرجوش ہیں اور رو بھی رہی ہیں۔یہ اب سندھ کی روایت بن چکی ہے کہ بی بی کو وہاں شہید رانی کہا جاتا ہے۔