شیخوپورہ (نمائندہ خصوصی)شیخوپورہ میں لیسکو دفتر کے باہر بزرگ خاتون سے بدسلوکی کرنے والے سیکیورٹی گارڈ کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پاور ڈویژن نے فوری نوٹس لیتے ہوئے گارڈ کو معطل کیا، جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔
30 جون کو پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے شیخوپورہ دفتر کے سیکیورٹی گارڈ نے ایک بزرگ خاتون کو بدسلوکی کا نشانہ بنایا اور زمین پر گھسیٹ کر دفتر سے باہر نکال دیا۔ واقعے کی ویڈیو یکم جولائی کو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس پر شدید عوامی ردِ عمل سامنے آیا۔
پاور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی گارڈ کو فوری طور پر معطل کر کے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہے، اور اب وہ پولیس کی تحویل میں ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ قانون کی خلاف ورزی اور عوام کی تذلیل ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، اور گارڈ کو ملازمت سے برطرف کرنے کی کارروائی جاری ہے۔
پاور ڈویژن نے تین دن کے اندر انکوائری رپورٹ طلب کرتے ہوئے دیگر تمام پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور اپنے دفاتر میں صارفین کے ساتھ حسنِ سلوک کو یقینی بنائیں۔
ادھر، شیخوپورہ پولیس نے بھی فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے گارڈ کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) بلال ظفر شیخ نے واقعے کا فوری نوٹس لیا۔ ڈی پی او کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور ایسے واقعات پر سخت ایکشن لیا جائے گا۔
پاور ڈویژن نے بزرگ خاتون سمیت تمام صارفین سے افسوسناک واقعے پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی اپنے صارفین کا دل سے احترام کرتی ہے اور ان کے وقار کا ہر حال میں تحفظ کرے گی۔

