ڈھاکا (غیرملکی خبر ایجنسیاں)لاپتہ افراد کے کیسز سے متعلق بنگلادیشی تحقیقاتی کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں لاپتہ ہونے والے کم از کم 287 افراد کو قتل کیے جانے کا خدشہ ہے۔
تحقیقاتی کمیشن کے بیان کے مطابق امکان ہے کہ متعدد افراد کی لاشیں دریاؤں اور دیگر مقامات پر پھینکی گئیں یا اجتماعی قبروں میں دفن کی گئیں۔ کمیشن نے بتایا کہ مجموعی طور پر 1,569 اغوا کے کیسز کی تحقیقات کی گئیں، جن کے دوران کئی بے نشان قبریں بھی دریافت ہوئیں۔
کمیشن کے مطابق لاشوں کی شناخت کیلئےڈی این اے ٹیسٹ ضروری ہیں، جس کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی مدد لینے کی سفارش کی گئی ہے۔تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں اس وقت کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اور ان کے اعلیٰ حکام کے احکامات پر سیکیورٹی فورسز نے انجام دیں۔کمیشن کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لاپتہ افراد کا تعلق حزبِ اختلاف کی جماعتوں، جماعتِ اسلامی اور بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سے تھا۔

