شیرپاؤ کی جانب سے کینیڈا کے فلسطین کو تسلیم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم

ٹورنٹو(بیرسٹرعثمان علی سے)قومی وطن پارٹی کے سربراہ اور پاکستان کے سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی کی جانب سے آئندہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ریاستِ فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے “بہادر، اصولی، اور عالمی قیادت کا تاریخی اقدام” قرار دیا ہے۔

ہفتے کے روز جاری کردہ بیان میں شیرپاؤ نے کہا کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کے عوام شدید مصائب کا سامنا کر رہے ہیں، اور یہ کینیڈا کے دیرپا عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ انصاف، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا، “یہ جرأتمندانہ قدم فلسطینی عوام اور عالمی برادری کیلئے اخلاقی قیادت اور یکجہتی کے اظہار کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔”

شیرپاؤ نے نشاندہی کی کہ گزشتہ پچھتر برسوں سے فلسطینی عوام قبضے، جبری بے دخلی، اور منظم ظلم و ستم کا شکار ہیں، جبکہ غزہ پر بار بار کے فوجی حملے اور ناکہ بندی نے معصوم شہریوں کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، “کینیڈا کا یہ اقدام صرف علامتی نہیں بلکہ بین الاقوامی اصولوں کی بحالی اور امید کے احیاء کی جانب ایک ناگزیر قدم ہے۔”

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کینیڈا کی کثیرالجہتی سفارتکاری اور امن قائم رکھنے کی روایت اس فیصلے کو مزید وزن بخشتی ہے، اور دیگر ممالک، خصوصاً عالمی شمال کے ممالک، کو بھی اسی راستے پر چلنے کی ترغیب دی۔

انہوں نے کہا، “ایک طویل عرصے سے مسلم اُمہ کے مسائل کی وکالت کرنے والے کے طور پر، میں وزیر اعظم مارک کارنی اور کینیڈین عوام کے اس فیصلے کی دل سے قدر کرتا ہوں۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ دنیا نے فلسطین کو تنہا نہیں چھوڑا۔”

آخر میں شیرپاؤ نے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور خودمختار ریاست کے قیام کیلئے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کینیڈا کے اس فیصلے کو “انصاف اور پائیدار امن کی جانب ایک مضبوط قدم” قرار دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں