صدر زراری، محمد نوازشریف اور وزیراعظم کے عمل کا وقت!

ہم ایک ”خوش قسمت ملک“ کے شہری ہیں، اس کے لئے ہمارے آباء نے زندگی بھر قربانی دی۔ میں نے بھی ”بن کے رہے گا،پاکستان، لے کر رہیں گے پاکستان“ کے نعرے لگائے۔سول نافرمانی کے جلوسوں میں شرکت کی۔باغ بیرون موچی دروازہ سے ریگل چوک تک گئے۔ وہاں آنسو گیس کا مزہ چکھا اور پھر بھاگ کر گھر واپس آ گئے لے کر رہیں گے پاکستان کا خواب پورا ہونے لگا جو جلوس موچی دروازہ سے چیمبرلین روڈ کے راستے ریگل چوک جاتا تھا،ایک روز اچانک دہلی دروازہ کی طرف مڑ گیا۔ نعرہ تبدیل ہوا ”خضر کتا ہائے ہائے کی بجائے“ تازہ خبر آئی اے، خضر ساڈا بھائی اے“ اور یہ تازہ خبر آج تک ہمارا پیچھا چھوڑنے پر تیار نہیں کہ خضرحیات یونینسٹ پارٹی کی طرف سے وزیراعلیٰ تھے،ان کا تعلق مراعات یافتہ جاگیردار طبقے سے تھا اور اس طبقے نے قیام پاکستان کی بھرپور مخالفت کی تھی لیکن جب ملک کا قیام یقینی ہو گیا تو یہ سب چھلانگ لگا کر حمائتی بن گئے اور یوں ملک پر جاگیرداروں اور وڈیروں کی حکومت بن گئی حتیٰ کہ محب وطن حضرات (سردار نشتر جیسے) بھی اہم مواقع پر نظر اندازہوئے پھر یہ بھی دیکھا کہ پنجاب میں مسلم لیگ ہی کے دو دھڑے بن گئے۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور خان افتخار حسین خان ممدوٹ کے دور میں اقتدار کی کشمکش شروع ہو گئی، افتخار حسین ممدوٹ نے جیل دیکھی اور بریت پر تحریک آزادی کے مقام باغ بیرون موچی دروازہ (آج یہ تاریخی باغ نشان عبرت ہے) میں ہی بڑا شاندار استقبال ہوا، یوں ابتداء ہی سے اقتدارکی کشمکش شروع ہوئی جو دہائیاں گزر جانے کے بعد اب تک کسی نہ کسی روپ و رنگ میں جاری ہے۔

یہ کشمکش اپنی جگہ، بدقسمتی یہ ہے کہ جو ملک جدوجہد کے بعد ملا اور اس کیلئے لاکھوں جانیں قربان ہوئیں، ہزاروں عصمتیں لٹیں۔ خصوصی طور پر پنجاب میں یا تو مسلمان قتل ہوئے یا پھر مہاجر بن کر پاکستان ہجرت کر آئے، ان کو کوئی مہاجر نہیں مانتا کہ انہوں نے خود اپنا تشخص مہاجر کی بجائے پاکستانی اختیار کیا۔ تقسیم کی دھول بیٹھ جانے کے بعد اقتدار کی کشمکش ہی جاری نہ ہوئی بلکہ یہ بات شروع ہوگئی کہ ”ملک خطرے میں ہے“ اور بالآخر یہ خطرہ 1971ء میں ایک سے دو ملکوں کی شکل میں سامنے آ گیا۔ اللہ کا یہ کرم کہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش تو بن گیا لیکن اس کا اسلامی تشخص ختم نہ ہوا اور یہ بھی اسی رحیم کی رحمت ہے کہ اب ٹوٹابازو پھر سے گلے آنے لگا ہے اور وہاں بھارتی تسلط ختم ہو گیا اور برادرانہ تعلق پھر سے استوار ہو چکے، اللہ مزید برکت دے۔

یہ یاد دہانی اس لئے ضروری ہے کہ سات سے زیادہ دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی اقتدار کی وہی کشمکش جاری ہے اور ملک خطرے میں اب بھی کہا جاتا ہے حالانکہ مئی 2024ء میں ثابت ہوا کہ ملک کا تحفظ ممکن ہے اور دشمن سے نبرد آزما ہی نہیں، اسے مزہ بھی چکھایا جا سکتا ہے، تاہم دو امر اب بھی ویسے ہی ہیں،ان میں اقتدار کی کشمکش اب اتنے عروج پر پہنچ چکی کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف دشمنی کی حد تک پہنچ چکی ہیں، ہم جیسوں کی بار بار مذاکرات اور اند رونی استحکام کی درخواست نظر انداز ہی ہوتی چلی آ رہی ہے۔ حکومتی اتحاد اور تحریک انصاف میں دور دور تک روشنی نظرنہیں آتی اور اختلاف شدید ہوتاجا رہا ہے،اس سلسلے میں معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ تحریک انصاف کا رویہ جمہوری نظر نہیں آتا کہ سیاست میں تو روٹھ کر میکے جانے والی بات نہیں چلتی، گرفتاریاں یہاں کا چلن اور رہائی کے بعد اقتدار بھی روایت ہے۔ آج کے حکمران گزشتہ دور میں اسیر تھے تو تب کے حکمران زندان میں ہیں،ان پر سخت وقت ہے لیکن جماعت کا طریق ایسا نہیں کہ جس سے حالات معمول پر آئیں اور رہائی عدالتی کارروائی سے ممکن ہو، بلاشبہ سزائیں ہو چکیں لیکن اپیلوں کے حقوق ابھی حاصل ہیں، اسلئے حالات معمول پر ہوں تو عدالتی کارروائیاں بھی ویسا ہی عمل ظاہر کرتی ہیں، اسلئے تحریک انصاف کیلئے بھی بہتر راستہ یہی ہے کہ مذاکرات سے امور طے پائیں، اگر تحریک ایوانوں میں اپنا آئینی کردار ادا کرے یا کرتی تو عوام کا بھی بھلا ہوتا کہ ان ایوانوں میں عوامی جذبات کی عکاسی ہوتی لیکن پوری جماعت اپنے بانی کی انا کا شکار ہے اور بانی مذاکرات کے قائل ہیں لیکن صرف مقتدرہ سے بات کرنا چاہتے ہیں حالانکہ موجودہ دور میں یہ مذاکرات حکومت سے ہی ممکن ہیں کہ مقتدرہ نے واضح طور پر ہاتھ اٹھا لئے ہوئے ہیں لیکن تحریک انصاف کا مخالفت اور حق میں تقسیم ہونے کے باوجود مذاکرات کے حق میں فیصلہ ممکن نہیں ہو رہا جبکہ بانی جماعت اور دوسرے اسیروں کی رہائی ممکن نظر نہیں آرہی،اگرچہ اب غار کے آخری کنارے پر مدھم سی روشنی نظر آئی ہے کہ محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف مان لیا گیا، ان سطور کی اشاعت تک جانے سے قبل نوٹیفکیشن ہو جانے کا قوی امکان ہے،اللہ کرے یہ ابتداء ہی مذاکرات کی راہ ہموار کر دے۔

ملک کا استحکام معہ معاشی، سیاسی استحکام سے جوڑا جاتا ہے لیکن یہاں اردگرد خطرات اور دہشت گردی کے باوجود جوش پر ہوش غالب نہیں آ پا رہا، خطے کے حالات غیر یقینی صورت حال اختیار کر چکے ہیں۔ ایران اور امریکہ کا تنازعہ براہ راست مسلمان ممالک کو متاثر کررہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طاقت کے نشے میں چور ہیں اور مجھے ان کے اقدامات کے باعث وہ احادیث یاد آ رہی ہیں جن کے ذریعے پندرہ سو سال قبل مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا تھا کہ چودھویں صدی ہجری اور اس سے قبل مسلمان کیسے ہوں گے۔ دولت ضرور ہوگی تاہم ایمان کا درجہ کمزور ہوگا، جس کا نتیجہ کفار کی فتوحات ہوں گی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ قیامت سے قبل دجال لعین کی آمد سے قبل چھوٹے چھوٹے دجال بھی آئینگے ایمان کمزور ہوگا اور حضرت مہدی علیہ السلام کی آمد اور جماعت مجاہدین کی سرفروشی سے قبل مسلمانوں کو تین بڑی شکستیں ہوں گی، ذرا غور کریں تو حالات ادھر ہی جا رہے ہیں، فلسطینیوں کی نسل کشی ہم رکوا نہ سکے اور اب ایران اور اس کے بعد اوروں کی باری ہے یہ بات شرمناک ہے کہ امریکہ کی منت سماجت خود مسلمان ممالک کررہے ہیں لیکن یہ سب خود اپنے اندر اتحاد پیدا کرنے سے قاصر ہیں، اس وقت پاکستان سعودی عرب اور ترکیئے ایسے ممالک ہیں جو اسلامی یا مسلمان ممالک کے اختلافات ختم کراکے سب کو ایک متحدہ قوت میں تبدیل کر سکتے ہیں، مانا کہ اسلحی طاقت کے حوالے سے امریکہ واحد طاقت ور ملک ہے لیکن متحدہ اسلامی بلاک معاشی اعتبار سے دنیا کا قائداور جنگی لحاظ سے مقابلے کی اتنی سکت ضرور پیدا کرلے گا کہ دشمن کو حملہ کرتے وقت سوچنا ہوگا کہ اس کا بھی نقصان ہو سکتا ہے۔

جہاں تک ہمارے پیارے ملک پاکستان کا سوال ہے تو اللہ نے ہمیں عنایات سے نوازا اور پاکستان ایک ایٹمی ملک اور قوت ارادی والی فوج کا حامل ملک ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ حالات حاضرہ میں اندرونی استحکام کی بہت ضرورت ہے لیکن یہاں صورت حال یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر دوست ناراض کئے جاتے ہیں۔ کے پی کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورہ پنجاب اور سندھ سے نئی صورت حال پیدا ہو گئی، یہ دورے پرامن، دوستانہ اور برادرانہ ہو سکتے تھے لیکن شاید حکمت عملی ہی نہیں تھی کہ ایسا ہوچنانچہ ان دوروں سے غلط تاثر پیداہوا۔

اب نئی صورت حال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی اہم شکایات سامنے آ گئی ہیں، ایوان صدر میں بلاول بھٹو کی تقریب اور سندھ کے وسائل پر قبضہ کا الزام ایک اور صورت حال پیدا کر چکا اور اب یہ تقریب موضوع بن گئی ہے اور اختلاف کا تاثر مضبوط کیا جانے لگا ہے جو گلوب کے حالات میں اچھا نہیں، تھوڑا کہے کو بہت جانیں اور اب محمد نوازشریف، صدر زرداری اور محمد شہبازشریف مل کر حالات پر غور کریں اور حالات کا ادراک کرکے افواہوں اور مسائل کا خاتمہ کریں کہ ملک مستحکم ہو۔