پاکستان کے اقتدار پر طویل ترین عرصہ ”قابض“ رہنے والے جنرل ضیاء الحق کو ”پاکستانی جمہوریت پسند“ اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرتے۔ ہمیں تو اپنے سینئر ساتھی خاور نعیم ہاشمی کو مارے گئے کوڑے نہیں بھولتے۔ عباس اطہر شاہ جی کی قلعہ کی اسیری نہیں بھولتی، لیکن آج مودی جیسے کمینے دشمن نے ضیاء الحق کو یاد کرنے پر مجبور کر دیا، کیونکہ آج پھر ایک ضیاء الحق کی ضرورت ہے،جو بھارت کے اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی کو دئیے گئے ”پیغام“ کی طرح مودی کو ایسا پیغام دے کہ لالہ جی کو دھوتی سنبھالنی مشکل ہو جائے، مگر کیا کریں اکیسویں صدی کی گوگل نسل کو ”صرف محبت“ کرنی آتی ہے۔ یہ جنگ کو بھی موبائل پر کھیلے جانے والا کھیل سمجھتے ہیں۔ اِس نسل کو پتہ ہی نہیں پاکستان بنا کیسے تھا، کس طرح لاشوں سے بھری ٹرینیں پاکستان پہنچتی تھیں۔ شک ہے تو والٹن ریلوے سٹیشن کے در و دیوار اور واہگہ کی مٹی سے پوچھا جا سکتا ہے، لیکن آج کل کے بچوں کو بھارت کے خلاف کچھ کہیں تو وہ وہی الفاظ دہراتے ہیں،جو کبھی تین دفعہ کے وزیر اعظم نے کہے تھے کہ ”لکیر“ کے اُس پار اور اِس پار فرق ہی کیا ہے۔ وہ آلو گوشت کھاتے ہیں، میں بھی وہی کھاتا ہوں۔ ہماری زبان اور ثقافت ایک جیسی ہے۔ ہندو جن خداؤں کی عبادت کرتے ہیں ان میں چوہے، بندر، ہاتھی،گائے، سانپ بھی شامل ہیں اور ان میں خون پینے والی کالی دیوی بھی شامل ہے۔آج کل کی بھارتی قیادت کالی ماتا کی صحیح پیروکار ہے۔ مودی جی کی ”قاتل جماعت“ نے 1947ء میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کیا تھا، گردنیں کاٹی تھیں، بیٹیاں گھروں سے اُٹھائی تھیں۔ آج کے بچوں کو گوگل یہ بات نہیں بتاتی۔ انہیں تو امن چاہئے۔ امن کی قیمت کیا ہوتی ہے یہ نہیں پتہ۔ انہیں نہیں پتہ امن کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ کمزور کو کوئی امن سے نہیں رہنے دیتا۔ امن طاقت سے چھینا جاتا ہے اور 10 مئی کی صبح جب پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا تو طاقت کے ذریعے امن حاصل کیا تھا، لیکن شاید ابھی تک مودی جی کو سبق صحیح طرح سکھایا نہیں جا سکا۔ طاقت اور اقتدار کے بھوکے نریندر مودی کا یہ تیسرا دور حکومت ہے، لیکن ہندوستان کو مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور دیگر اقلیتوں سے شدھ (پاک) کرنے اور اکھنڈ بھارت بنانے کے دیوانے کے خواب کو پورا کرنے کے لئے انہیں پورے ہندوستان پر بی جے پی کی حکومت چاہئے۔ آنے والے دنوں میں بہار، مغربی بنگال سمیت دیگر ریاستوں میں ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں ان انتخابات میں بی جے پی کو کامیابی دلانے کے لئے مودی جی نے خطے میں جنگ کا ماحول پیدا کر رکھا ہے، جس کے لئے وہ روزانہ درفنطنیاں چھوڑتے رہتے ہیں۔ مودی جی کو 10مئی ہضم نہیں ہو رہا۔ اتنی مار پڑنے کے باوجود انہوں نے گجرات میں تازہ تقریر میں فرمایا ہے ”پاکستان کو تین دفعہ گھر میں گھس کر مارا ہے، ہم نے تو وہ ٹھکانے تباہ کئے جس کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ آپریشن سیندور ابھی ختم نہیں ہوا، دہشت گردوں کے ہر ٹھکانے کا خاتمہ مشن ہے۔انہوں نے پاکستانی عوام کو براہ راست مخاطب کر کے کہا کہ سکھ چین کی زندگی جیو، روٹی شوٹی کھاؤ ورنہ میری گولی کھاؤ۔ مودی جی آپ کو اپنی ”چھوٹی سی گولی“ کا بڑا غرور ہے ہم نے تو ابھی صرف ”فتح ون اور فتح ٹو میزائل“ بھیجے ہیں۔ ہم نے آپ کو متنبہ کیا تھا کہ پاکستانی میزائل بھارت کے کونے کونے کو نشانہ بنا سکتے ہیں، لیکن آپ کو شاید ابھی یقین نہیں آ رہا۔ تو ایک بار پھر براہموس بھیج کر دیکھ لیں ابھی تو صرف فتح چلایا ہے اگر غزنوی، غوری، شاہین، ابابیل چلا دیئے تو آپ کا کچھ نہیں بچے گا۔ پاکستان کے جوائنٹ چیف آف آرمی سٹاف جنرل ساحر شمشاد مرزا نے بھارت کو ایک پیغام دیا ہے، لیکن وہ پیغام مودی جی جیسا ”تلخ، کھردرا اور عوامی“نہیں ہے۔ جنرل مرزا نے کہا ہے کہ بھارت نے اگر اب کوئی غلطی کی تو جنگ پھر متنازعہ علاقے تک محدود نہیں ہو گی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ بھارت کی اجارہ داری قبول نہیں۔ مسئلہ کشمیر کو دبانا اب ممکن نہیں۔ کشمیر کا سودا ممکن نہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ”بھارتی جنگی بیانیہ“ علاقائی امن کے لئے سنگین خطرہ ہے ہم ہر خطرے کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ بھارت کو منہ توڑ جواب زبانی بھی دینے کی ضرورت ہے۔ مجھے سب سے اچھا بیان واپڈا کے چیئرمین جنرل ریٹائرڈ سجاد غنی کا لگا، ہیں تو وہ بھی جنرل مگر ”وردی اُتار چکے“ ہیں۔ انہوں نے کہا بھارت کا پانی روکنا ”ایکٹ آف وار“ ہو گا، پانی روکا تو پھر ”ملٹری آپشن“ کھل جائے گا،یعنی پھر ”دما دم مست قلندر“ ہو گا۔ ایک بیان بھارتی مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے بھی دیا انہوں نے کہا کہ مودی ”تفرقہ انگیز سیاست“ کر رہے ہیں۔ شہباز شریف صاحب نے بیان تو دیا، مگر مودی جیسی ”شعلہ نوائی“ نہیں آتی، قدرے نرم الفاظ میں کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی قابل مذمت ہے۔اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ شہباز شریف صاحب ”چائے والا مودی“ یہ زبان نہیں سمجھتا۔ بھارت کو تو وہ زبان سمجھ آتی ہے جو جنرل ضیاء الحق نے بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی سے کہی تھی جسے سن کر راجیو گاندھی کی پیشانی بھیگ گئی تھی اور رنگت پیلی پڑ گئی تھی۔1987ء کے اس واقعہ کے ”راوی بتاتے“ ہیں کہ بھارت نے پاکستان کے اوپر چڑھائی کی تیاری مکمل کر لی تھی۔ پانچ لاکھ بھارتی فوجیں سرحدوں پر پہنچا دی گئی تھیں، تو جنرل ضیاء الحق جے پور کرکٹ میچ دیکھنے کے بہانے بھارت پہنچے۔راجیو گاندھی نے استقبال کیا۔ راجیو گاندھی کے مشیر بہرور مینن کہتے ہیں ضیا الحق نے راجیو گاندھی سے کہا کہ تم ہم پر حملہ کرنا چاہتے ہو، مگر یاد رکھنا اس حملے کے بعد دنیا ہلاکو اور چنگیز کو بھول جائے گی۔ ضیاء الحق اور راجیو گاندھی کو یاد رکھے گی، کیونکہ یہ جنگ ایٹمی جنگ ہو گی۔ہو سکتا ہے پاکستان صفحہ ہستی سے مٹ جائے، مگر مسلمان دنیا میں موجود رہیں گے، مگر ہندوستان مٹ گیا تو ہندو بھی مٹ جائیں گے۔ فوجیں سرحدوں سے واپس نہ بلائیں تو واپس جا کر ”صرف فائر“ کہوں گا۔ آج مودی کو یہی بتانے کی ضرورت ہے کہ اب تو ہم مزید ”40 سال تیاری“ کر چکے ہیں، لہٰذا مودی جی چنگی طرح سوچ لو پھر ”گولی شولی“ کی بات کرو۔

