طوفان وہ بھی چاء کی پیالی میں؟

محاورے حالات سے متاثر ہو کر بنے اور ہر دور میں حالات ہی کی روشنی میں استعمال بھی ہوتے ہیں،کبھی برمحل اور کبھی تیلی کے سر پر کولہو کے رنگ میں،ایسا ہی کچھ ماجرا دو روز قبل اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ہوا۔وفاقی وزیر قانون نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ ازخود ڈاگ میں تھے کہ ان کی طرف سے پریس کانفرنس بلائی گئی تھی، مقصد وضاحت ہی تھا اور سوال بھی اسی بارے میں ہو رہے تھے جب بار بار نوٹیفکیشن کے حوالے سے پوچھا گیا تو نذیر تارڑ نے فرمایا، سب معمول کے مطابق ہو جائے گا آپ حضرات چاء کی پیالی میں طوفان نہ اٹھائیں،حالانکہ یہ طوفان تو زیادہ تر سوشل میڈیا پر برپا تھا اور میڈیا والے بھی متاثر ہو کر سوال کر رہے تھے۔بہرحال اب نہ تو پیالی ہے اور نہ ہی چاء اور طوفان البتہ خوشیوں کے شادیانے ضرور ہیں کہ27ویں ترمیم کے مقاصد میں سے ایک اور پورا ہو گیا، چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری ہو گئی اور فیلڈ مارشل جو پہلے ہی تاحیات اِس ٹائٹل کے حق دار ہیں اور اب پانچ سال کے لئے مسلح افواج کے چیف بھی ہو گئے، جبکہ ضرورت کے مطابق ان کی چیف آف آرمی سٹاف کی معیاد مزید دو سال بڑھا دی گئی یوں وہ دونوں عہدوں پر برقرار رہیں گے کہ جس نوٹیفکیشن کا شور تھا وہ جاری ہو گیا۔چیف آف ڈیفنس فورسز نے صدرِ مملکت اور وزیراعظم سے مبارکباد بھی قبول کر لی۔ بتایا گیا کہ ایئر چیف مارشل کی مدت ملازمت میں مزید توسیع کر دی گئی اور وہ پہلی تعیناتی کے پانچ سال پورے ہونے کے بعد مزید دو سال اس عہدے پر برقرار رہیں گے،جو مارچ2026ء میں پورے ہوں گے۔ یاد رہے کہ مسلح افواج کے سربراہوں کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی تھی اور اسی کے تحت ہر دو احباب کو مزید دو سال ملے ہیں۔

اس سلسلے میں مجھے حیرت تھی کہ سوشل میڈیا پر تو چاء کی پیالی یا گند میں ابال تھا ہی، اکثر اچھے جرنلسٹس بھی اسی رو میں بہہ کر فرما رہے تھے کہ نومبر میں چیف آف آرمی سٹاف کی مدمت ملازمت پوری ہو گئی اور اب وہ چیف آف آرمی سٹاف نہیں رہے اس عہدہ پر اب وہ غیر آئینی طور پر قابض ہیں۔یہ دعویٰ مجھے اپنے پیاروں کے وی لاگ اور فیس بک پر بھی نظر آیا، دُکھ یوں ہواکہ ان حضرات نے27ویں ترمیم پڑھے بغیر ایسے دعوے کئے،حالانکہ27 ویں ترمیم والوں نے یہ سب پیش ِ نظر رکھ کر ہی ترمیم منظور کرائی اور اس کے لئے دو طرفہ لابنگ بھی ہوئی،اس ترمیم کے تحت ہی چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ تخلیق ہوا اور چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کا عہدہ، شعبہ ختم کیا گیا،جو اب ریٹائر ہو چکے، وہ عہدہ بھی ختم ہوا اور اب نئے شعبہ اور عہدہ کے تحت عاصم منیر اس عہدے پر پانچ سال کے لئے فائز ہو چکے ہیں اور سب کارروائی بھی ہو گئی اور سوالات کے جواب بھی مل گئے۔

ماضی میں پارلیمانی رپورٹنگ کے دوران ہم نے تو دیکھا کہ ایوانوں میں احتجاج بھی ہوئے کئی بار کارروائی متاثر بھی ہوتی رہی تاہم مجموعی طور پر قانون سازی میں دلچسپی لی جاتی تھی، جس کے باعث چاء کی پیالی میں طوفان والی کیفیت پیدا نہیں ہوتی تھی کہ بل(قانون) بحث کے بعد منظور ہوتے اور اعتراض وضاحیں سامنے آ جاتیں جس سے دھند نہیں بنتی تھی،جب سے بلڈوزنگ کا عمل شروع ہوا، بحث سے گریز کیا گیا، تلخی بھی بڑھی اور ابہام بھی پیدا ہوئے کہ پھر سے وضاحت کے لئے ترمیم یا ترمیمی بل لانا پڑے۔ برسر اقتدار حضرات نے بہت سوچ سمجھ کر27ویں آئینی ترمیم کا ڈرافٹ تیار کیا تھا لیکن ایوان میں کھلی بحث نہ ہونے کے باعث غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور بعض شقوں کے بارے میں اعتراف کے باوجود حزبِ اختلاف یا حکمران اتحاد کے باہر کی جماعتوں کو مطمئن نہ کیا جا سکا اور سوشل میڈیا پر مشعل جلا دی گئی جس سے سبھی ہاتھ تاپنے لگے، حالانکہ 27ویں ترمیم میں سب کچھ واضح ہے جو تجویز شامل نہ کی جا سکی وہ اب 28ویں آئینی ترمیم میں شامل کی جا رہی ہے، اس پر وقت سے پہلے ہی تحفظات اور مار دھاڑ والی بڑھکیں شروع ہو گئی ہیں۔

محترم قارئین! آپ گواہ ہیں کہ ان تحریروں میں ہمیشہ مفاہمت اور کارکردگی کی بات کی گئی اگر پارلیمانی طریق کار کے مطابق فریقین عمل کریں تو پارلیمانی اور صدارتی نظام جیسی کوئی بحث بھی شروع نہ ہوتی کہ ایسی بحث تب ہوتی ہے جب مروج اصولوں، قوانین اور روایات پر عمل نہ کیا جائے ورنہ پارلیمانی نظام کا دامن بہت وسیع اور اس میں مشاورت، تصحیح اور ترامیم باہمی اتفاقِ رائے سے بھی ہو سکتی ہیں،ہمارے نوابزادہ نصر اللہ (مرحوم) تو صدارتی نظام کا نام نہیں سنتے تھے ان کا موقف تھا کہ پارلیمانی نظام میں عوام کو موقع ملتا ہے کہ وہ ناپسندیدہ اراکین کو تبدیل کر سکیں، وہ کہا کرتے تھے کہ پارلیمانی نظام کی خوبیوں کا علم تو اس وقت ہو گا جب ہمارے ملک میں انتخابی عمل کا تسلسل برقرار رہے اور اپنے وقت پر یہ انتخابات ہوتے جائیں تو جلد ہی عوام اپنے شعور کے ساتھ اپنی عقل و فہم سے عوامی حکومت بنوا لینے میں کامیاب ہوں گے۔

اس وقت ملک میں جو صورتحال ہے وہ عوام کے لئے ثمر آور نہیں ہے لیکن پارلیمانی جمہوریت کی روح کے مطابق بھی نہیں ہے، سب حضرات جمہوریت اور پارلیمان کا ذکر ضرور کرتے ہیں لیکن اب تک کسی عام انتخاب پر ممکنہ اتفاقِ رائے نہیں ہوا اور اب تو فریقین اختلاف نہیں دشمنی پر اُترے ہوئے سب اصولوں اور قواعد کو پامال کر رہے ہیں۔ ملک کے اندر استحکام پیدا نہیں ہو رہا ہے کہ ملکی مفاد کے خلاف سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔ حزبِ اختلاف کو سمجھ لینا چاہئے کہ آئین کے مطابق اس کے حقوق واضح ہیں اس کے ساتھ ہی پارلیمانی جمہوریت کی شرائط اور روایات بھی واجب ہیں اس لئے بہتر عمل مفاہمانہ طرزِ عمل ہے اگر آپ حالیہ قانون سازی کو درست نہیں سمجھتے تو اس کے لئے رائے عامہ استوار کریں۔انتخابی منشور میں ایسے عمل شامل کر کے انتخاب لڑیں اور پارلیمانی اصولوں کے تحت ہی مقاصد حاصل کریں۔موجودہ صورتحال ان کے سامنے ہے اس میں حکمران اتحاد اپنی اکثریت کے بل پر سب کچھ کئے جا رہا ہے اور یہ حضرات دیکھتے رہ جاتے ہیں، بات کریں،مذاکرات کی میز پر جائیں اور جمہوریت کو پروان چڑھائیں۔