اسلام آباد(ایجنسیاں) پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل مکمل ہو گیا، جس کے تحت عارف حبیب گروپ نے خسارے میں چلنے والی قومی ایئر لائن کو 135 ارب روپے میں خرید لیا۔ نیلامی کے دوسرے مرحلے میں لکی سیمنٹ کی جانب سے 134 ارب روپے کی بولی دی گئی، جس کے جواب میں عارف حبیب گروپ نے اپنی بولی بڑھا کر 135 ارب روپے کر دی اور کامیاب قرار پایا۔
ذرائع کے مطابق نیلامی کے پہلے مرحلے میں عارف حبیب گروپ اور لکی سیمنٹ دونوں نے 100 ارب روپے کی مقررہ ریفرنس پرائس سے زائد بولیاں دی تھیں۔ دوسرے مرحلے کا آغاز 115 ارب روپے کی بنیادی قیمت سے ہوا، وقفے سے قبل لکی سیمنٹ نے بولی 120.25 ارب روپے تک بڑھائی جبکہ عارف حبیب گروپ نے 121 ارب روپے کی پیشکش کی۔ بعد ازاں 30 منٹ کے وقفے کے بعد لکی سیمنٹ نے 134 ارب روپے اور عارف حبیب گروپ نے 135 ارب روپے کی بولی دی، جس پر عارف حبیب گروپ کامیاب قرار پایا۔

واضح رہے کہ پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی نیلامی کی گئی ہے، جن کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے کو جبکہ 7.5 فیصد قومی خزانے میں جائے گا۔ پی آئی اے کے 25 فیصد حصص حکومت کے پاس رہیں گے، تاہم کامیاب بولی دہندہ کو اختیار ہو گا کہ وہ ادائیگی کے بعد یہ حصص خرید لے یا حکومت کے پاس رہنے دے۔
معاہدے کے تحت ایک سال تک کسی ملازم کو فارغ نہیں کیا جا سکے گا، ملازمین کی پنشن اور مراعات مکمل طور پر محفوظ رہیں گی جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن، طبی سہولتیں اور رعایتی ٹکٹوں کی ذمہ داری ہولڈنگ کمپنی پر ہو گی۔
نیلامی کے عمل میں لکی سیمنٹ، نجی ایئر لائن ایئر بلیو اور سرمایہ کاری کمپنی عارف حبیب گروپ نے حصہ لیا۔ بولی کا پورا عمل اسلام آباد میں ہونے والی عوامی تقریب میں شفاف طریقے سے مکمل کیا گیا، جسے سرکاری ٹی وی سمیت نجی چینلز اور حکومتی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر براہِ راست نشر کیا گیا۔
بولیوں کی وصولی کے بعد اب پی آئی اے سی ایل کے لیے ریفرنس پرائس کی منظوری نجکاری کمیشن بورڈ اور کابینہ کمیٹی برائے نجکاری دے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نجکاری کے عمل میں کردار ادا کرنے والے حکام اور نجکاری کمیشن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا لین دین ہو گا اور اس عمل کو مکمل شفاف بنایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ناکام بولی دہندگان کو مستقبل میں پی آئی اے کے انتظام میں کسی بھی کردار سے باہر رکھا جائے گا، جبکہ صرف کامیاب بولی دہندہ ہی قومی ایئر لائن کے انتظامی معاملات سنبھالے گا۔

