ماہِ مبارک ربیع الاوّل کی آج چار تاریخ ہو چکی۔یہ ماہ یا مہینہ اسلامی تاریخ میں مرکز کی حیثیت رکھتا ہے کہ اس میں اللہ نے اپنے محبوب نبی رسول اکرم حضرت محمد مصطفےٰ،احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا میں اپنا دین پھیلانے کے لئے بھیجا، اِس بار حضورؐ کی آمد تشریف آوری کو1500 سال ہو رہے ہیں اور اس حوالے سے حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں نے پورا مہینہ آمد رسولؐ کے حوالے سے تقریبات کے لئے مختص کیا اور اعلان کیا تھا یہ تقریبات یکم ربیع الاوّل ہی سے شروع ہونا تھیں اور ہو بھی گئیں، لیکن مون سون نے کچھ رکاوٹ پیدا کر دی کہ اب شدید سیلاب نے آ گھیرا، اور سب خبریں اسی کے حوالے سے ہیں اور سرکاری مصروفیات امدادی سرگرمیوں میں منتقل ہو گئی ہیں تاہم اس آفت سماوی کے باوجود مسلمان آمد مصطفےٰؐ کو نہیں بھولے اور ساتھ ساتھ یاد بھی جاری ہے اور کئی مقامات اور گھرانوں میں درود پاکؐ کی محافل ہو رہی ہیں،جن تقاریب کا علم مجھے ہوا ان میں اللہ سے دُعا بھی کی جا رہی ہے کہ وہ اُمت رسولؐ پر رحم کرے کہ گناہ گار ضرور ہیں لیکن یادِ اللہ اور رسول اکرمؐ سے غافل نہیں۔ ہر دِل سے اب یہی دُعا ہے کہ اللہ اپنے حبیبؐ کے صدقے ہم گناہ گاروں کو مصائب سے بچائے اور اپنی رحمت کے سائے میں رکھے۔
ابھی تو سلسلہ شروع ہوا ہے تاہم توجہ سیلاب کی طرف ہے جس نے ”بے چارے مسلمانوں پر برق گرائی ہے“ اگرچہ سیلاب سے ہونے والا نقصان مجموعی طور پر ملک کا نقصان ہے جو معاشی اعتبار سے پاؤں جمانے کی پوزیشن میں ہے تاہم اس سیلاب سے ترقی کے اہداف متاثر ہوں گے اور پانی چلے جانے کے بعد انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کی بحالی کو اولیت حاصل ہو جائے گی اور ایسا ہونا بھی چاہئے کہ نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے زیادہ تعداد میں متاثر ہوئے ہیں،حکومت پر یقین رکھنا چاہئے کہ اب بحالی ہی ترجیح ہو گی۔
شدید برسات، زبردست سیلاب اور پانی سے نقصان کے علاوہ پانی کے ضیاع کے حوالے سے بھی بات شروع ہو گئی ہے اور اب یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ ہم نے ڈیم کیوں نہیں بنائے کہ اگر یہ کام ہو گیا ہوتا تو آج یا اس سے پہلے سیلاب سے نقصان کم اور فائدہ زیادہ ہوتا کہ پانی ضائع نہ ہوتا جمع ہو کر محفوظ ہو جاتا اور کھیتوں کو سیراب کرتا،افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے زعماء کرام نے ڈیم بنانے پر توجہ نہیں دی۔ میں 1956ء کے بعد ہی سے قدرتی وسائل کے استعمال سے کسی نہ کسی حوالے سے منسلک رہا ہوں۔ جامشورو(سندھ) میں کولمبو پلان کے تحت شروع گورنمنٹ ارتھ موونگ ٹریننگ سکول میں دو مختلف کورسز کی تعلیم و تربیت کے دوران غیر ملکی اساتذہ اور ماہرین کے ساتھ ساتھ خود اپنے ہنر مند حضرات سے بہت واسطہ رہا، ہمارے گورے اساتذہ قائل تھے کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور یہاں کے لوگ نہ صرف محنتی بلکہ ذہین بھی ہیں۔1957-58ء کے دوران اکثر سنا جاتا تھا کہ ہمارے ملک میں تیل، گیس اور کوئلے کے ذخائر کے علاوہ دیگر معدنیات بھی ہیں۔مجھے آج بھی یاد ہے کہ پی ڈبلیو ڈی ورکشاپ کے فورمین جو آبادان میں پٹرولیم کمپنی کے ساتھ منسلک رہے تھے،کہا کرتے تھے کہ سندھ کے جس حصے میں ہم رہ رہے ہیں اس کے اردگرد تیل کے وسیع ذخائر ہیں، لیکن جو کمپنیاں (غیر ملکی) تیل تلاش کرنے پر مامور ہیں وہ نتیجہ خیز کام نہیں کریں گی۔اس سلسلے میں ان کا استدلال تھا کہ تیل مشرقی وسطیٰ کے ممالک سے نکالا گیا اور یہی کمپنیاں وہاں شراکت دار ہیں اور اگر یہاں سے تیل نکل آیا تو مشرق وسطیٰ کے ذخائر متاثر ہوں گے،ان صاحب کا کہنا تھا کہ تیل اور گیس کے ریشے بھی ملتے ہیں۔ایک دلچسپ بات انہوں نے یہ بھی بتائی کہ آبادان میں ان کی کمپنی میں ایک ایسا پاکستانی بھی تھا جس کے دعوے کے مطابق زمین سے کان لگا کر بتایا جا سکتا ہے کہ کہاں تیل اور کہاں گیس ہے، آج مجھے ان فورمین صاحب کی بات کو سچ ماننے میں قطعی تامل نہیں کہ ہم نے اپنے ملک میں متعدد غیر ملکی کمپنیوں کو آزمایا، لیکن نتیجہ بہتر نہ نکلا،ماسوا تھر میں کوئلے کے ذخائر دریافت ہونے کے تیل اور گیس کی دریافت ویسی ہوئی جیسا اب بھی بتایا جا رہا ہے۔بہرحال اب امریکی صدر ٹرمپ کی تجارتی حکمت عملی کے تحت پاکستان کے معدنیاتی وسائل کی طرف توجہ مبذول کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ پاکستان میں پٹرولیم کے ذخائر اتنے ہیں کہ اس کی اپنی ضرورت پوری توہو گی ہی بھارت کو بھی یہ تیل خریدنا ہو گا۔
ٹرمپ کے ایماء پر امریکی کمپنیوں سے معاہدہ زیر تجویز عمل ہے، جس کے تحت کام بھی شروع ہو جائے گا۔ امریکی صدر نے بلوچستان کے معدنیاتی وسائل پر نگاہ رکھی ہے۔ وہاں سے گیس تو عرصہ سے زیر استعمال ہے۔ سیندک سے تانبا بھی مل رہا ہے جبکہ ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے ذخائر کے تخمینے بھی سامنے آ گئے ہیں اور اب غیرملکی دلچسپی بھی بڑھ گئی جس کے مطابق آئندہ دو سال کے اندر ریکوڈک سے سونا اور تانبا نکلنا شروع ہو جائے گا اور بلوچستان کے ساتھ ساتھ ملکی وسائل بھی بڑھیں گے اور ترقی کا پہیہ چلے گا۔ اس سلسلے میں، میں اپنے تجربات بھی شیئر کرنا چاہوں گا۔
1970ء کی دہائی میں روزنامہ ”مساوات“ میں، میری خبریں شائع شدہ ہیں، ہمارے اپنے شہر لاہور کے بھاٹی دروازہ کے رہائشی ایک نوجوان انجینئر کی یہ دریافت تھی کہ میانوالی میں لوہے کے ذخائر موجود ہیں جو درجہ دوم گریڈ کے ہیں اگر میانوالی میں ایک چھوٹی سٹیل مل لگا کر ان سے استفادہ کیا جائے تو عام استعمال کے لئے لوہا/فولاد ضرورت کے مطابق مل جائے گا، انہی نوجوان انجینئر کا کہنا تھا کہ سوات میں درجہ اول کے لوہے کا ”اور“ (خام مال) موجود ہے جو سٹیل مل کی حیثیت کا حامل نہیں تاہم وہاں سے نکال کر میانوالی سٹیل مل سے صاف کیا جا سکتا ہے۔
قارئین! یہ تو کوئی راز کی بات نہیں کہ سوات میں زمرد اور ہیرے کی کانیں ہیں اور وہاں سے خام صورت میں نکال کر فروخت بھی ہوتے ہیں۔ تب تو یہ نجی ملکیت تھے اور غالباً اب بھی ان کی یہی حیثیت ہے، حالانکہ اگر یہ سب تجارتی پیمانے پر ملکی سطح کے مطابق ہو تو نجی مالکان کے ساتھ ملک کے لئے بھی بہت مفید ہو سکتا ہے اور اب تو ایک سکینڈل بھی سامنے آیا ہے جس کے مطابق دریا سندھ کے بالائی حصے سے سونا نکالنے میں اتنا کچھ کیا جا رہا ہے کہ اسے کھربوں کا نقصان قرار دیا گیا ہے۔
قارئین! یہ بھی عرض کر دوں کہ سوات ہی کے ایک پہاڑی چشمے میں یورینیم بھی پایا گیا تھا، میری یہ دریافت اور خبر بھی روزنامہ”مساوات“ میں شائع ہوئی تھی اور حوالہ ملکی ماہر اور انجینئر تھے،اس کے بعد پتہ نہیں چل سکا کہ اس سے ریاست مستفید ہوئی یا نہیں۔
قارئین! بات کو ایک واقعہ بیان کر کے مکمل کرتا ہوں کہ پیپلزپارٹی کے دورِ اقتدار میں جب ڈاکٹر مبشر حسن وزیر خزانہ تھے تو تربیلا ڈیم کی چوتھی ٹنل کا حادثہ ہوا تھا، اس کی تحقیق کے لئے تربیلا کے ٹھیکے والے کنسوریشم کے علاوہ دنیا بھر کے ماہرین بلائے گئے۔تحقیق کے اختتام کے قریب حکومت نے پریس کو مدعو کیا۔ محترم عارف نظامی، اعجاز رضوی اور میں بھی لاہور سے گئے تھے کمپنی کے ایک لنچ کے دوران ہم تینوں ایک ایسی میز پر اکٹھے ہوئے جس پر چینی انجینئر تھے، ان سے خاصی گفتگو ہوئی،ان حضرات نے اس وقت یہ بتا کر حیران کر دیا کہ چین کے دریاؤں پر چھوٹے چھوٹے درجنوں ڈیم بن چکے اور سینکڑوں کی تعداد میں بنیں گے کہ دریا کے جس مقام پر ڈھلان ملتی ہے، وہیں ڈیم بناکربجلی مقامی سطح پر مہیا کر دی جاتی ہے اس سے کم خرچ بالا نشین والی بات بھی ہوتی ہے اور بجلی بھی مسلسل ملتی ہے، ہم نے اپنی خبروں اور تجزیوں میں شائع کیا، عمل کی توقع بے سود ثابت ہوئی تھی۔

