جمیل الدین عالی دہلی سے بی اے کر کے ائے تھے اور کراچی میں محکمہ خوراک میں اسسٹنٹ لگ گئے۔ قدرت اللہ شہاب سیکرٹری تھے۔ انہیں کسی فائل کی تلاش تھی جو مل نہیں رہی تھی۔ تو متعلقہ اسسٹنٹ کو بلایا گیا۔ عالی جی جھومتے جھامتے ان کے دفتر میں داخل ہوئے اور بتایا کہ وہ فائل تو گم ہو گئی۔ تو شہاب صاحب نے پوچھا مگر کیسے؟ تو انہوں نے کہا فائل بھلا بتا کے گم ہوتی ہے۔ یہ تھا نقطہ اغاز قدرت اللہ شہاب اور جمیل الدین عالی کی زندگی بھر کی دوستی کا۔
کلرکی اپنی جگہ مگر وہ سپیریئر سروسز جسے اپ مقابلے کا امتحان کہتے ہیں اس میں بیٹھ گئے۔ نتیجہ ایا تو فیل اور وہ بھی اردو کے پرچے میں۔ حیران کہ ایسا کیسے ہوا؟ پہلا سوال اشعار کے اوزان کے بارے میں تھا۔ جو ان سے بہتر کون جانتا تھا؟ دوسرا سوال کسی شاعر کی حیات پر تھا جس کے دیوان کے دیوان ان کو ازبر تھے۔ خیر
دوسرے سال پھر امتحان میں بیٹھے۔ پھر فیل اور اسی اردو کے پرچے میں۔ کوئی اور ہوتا تو دل چھوڑ دیتا۔ مگر عالی جی عالی ہمت بھی تھے۔ وہ تیسری مرتبہ امتحان میں بیٹھے۔ اب کے پاس اور انکم ٹیکس افسر لگ گئے۔
اس عرصے میں ان کا پہلا شعری مجموعہ چھپ کر ا گیا۔ ایک تقریب میں وہ اپنی کتاب شائستہ اکرام اللہ کو پیش کرنے لگے جس پر لکھا تھا بسد احترام بخدمت محترمہ فلاں فلاں فلاں۔ شائستہ نے ان کی تحریر دیکھی۔ ان کا شکریہ ادا کیا۔ مگر پھر دوبارہ کتاب کھول لی۔ اور پوچھا کہ تم کبھی مقابلے کے امتحان میں بیٹھے تھے؟ انہوں نے کہا جی ہاں اور دو دفعہ فیل بھی ہوا۔ شائستہ مسکرائیں اور بولیں دو دفعہ نہیں تم تین دفعہ فیل ہوئے۔ پہلی دفعہ جب کاپی میرے پاس ائی تو تم اتنے بدخط تھے کہ مجھ سے ایک لفظ پڑھا نہ گیا اور تم فیل ہو گئے۔ دوسری دفعہ بھی ایسے ہی ہوا۔ تیسری دفعہ جب کاپی میرے پاس ائی تو میں نے دیکھا کہ یہ تحریر کچھ جانی پہچانی لگ رہی ہے۔ یہ دو دفعہ فیل ہو چکا ہے تو اب اس نے کچھ تو لکھا ہوگا تب تم پاس ہو گئے۔
انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ سعی کرتا ہے۔ ان کی بدخطی انہیں لے ڈوبی تھی۔ مگر وہ اس سے بے خبر تھے اور شاکی تھے کہ میں کیوں فیل ہوا؟ اگر وہ تیسری دفعہ امتحان نہ دیتے تو زندگی بھر قسمت کو کوستے رہتے۔
گاڈ ڈز ناٹ پلے ڈائس۔ (God does not play dice.) یہ آئنسٹائن کا قول ہے جو اس نے ایک خط میں یہ جملہ لکھا تھا کسی مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے۔ پوری کائنات ایک نظام کے تحت چل رہی ہے۔ یہی نظام بدخطی کے باعث اپ کو فیل کر دیتا ہے۔ اور اگر اپ استقامت اور جہد مسلسل سے کام لیں تو یہی نظام اپ کو کامیابی بھی دلا دیتا ہے۔”اجازت”.

