عدالتیں عمران خان کو بری کرتی ہیں تو وہ حمایت کرینگے: بلاول بھٹو زرداری

بھارت کی جانب سے پانی کی بندش کی دھمکی اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے

لندن (نمائندہ خصوصی) سابق وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ تمام دیرینہ تنازعات، بشمول کشمیر، دہشتگردی اور آبی مسائل کے حل کیلئےمذاکرات اور سفارتکاری کو واحد راستہ سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیزفائر تو عمل میں آ چکا ہے، تاہم پائیدار امن کیلئےسنجیدہ ڈائیلاگ ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں دہشتگردی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا ایک خطرناک رجحان ہے، جو خطے میں امن کیلئےسنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کی جانب سے پاکستان کیلئےپانی بند کرنے کی دھمکی کو “پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے” کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ”اگر بھارت نے اس دھمکی پر عمل کیا تو پاکستان اسے جنگی اقدام تصور کرے گا اور عالمی برادری کو اس پر واضح اور متفقہ ردعمل دینا ہوگا۔”

سابق وزیر خارجہ نے زور دیا کہ پاکستان نے FATF (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) کے فریم ورک کے تحت دہشتگرد گروپوں کے خلاف مؤثر اور عملی اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان کی ریاست اور عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے بھارت کے اس مؤقف کو یکسر مسترد کیا کہ پاکستان بھارتی سرزمین پر ہونے والے دہشتگرد حملوں میں ملوث ہے، اور کہا”بھارت ان حملوں کا الزام پاکستان پر دھر کر اپنے عوام کو گمراہ کر رہا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بیشتر حملے بھارت کے اندرونی گروہوں کی کارروائیاں ہیں۔”

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے بین الاقوامی ثالثی کو خوش آمدید کہتا آیا ہے، خواہ وہ امریکہ کی جانب سے ہو یا برطانیہ کی طرف سے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کرانے میں کردار ادا کیا، جس کے وہ معترف ہیں۔ بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ ثالثی کے دروازے کھلے رکھے اور مذاکرات کا راستہ اپنائے۔

عمران خان سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک قانونی اور عدالتی نظام موجود ہے، اور اگر عدالتیں عمران خان کو بری کرتی ہیں تو وہ اس فیصلے کی حمایت کریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری کے انٹرویو نے ایک بار پھر عالمی سطح پر پاکستان کے اس اصولی مؤقف کو اجاگر کیا ہے کہ امن کا راستہ صرف مذاکرات، باہمی احترام، اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے ممکن ہے۔ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کا خواہاں ہے اور کسی بھی جارحانہ یا یکطرفہ اقدام کو تسلیم نہیں کرے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں