ہمارے ہاں باچا خان کے نام سے معروف خان عبدالغفار خان امن پسند سماجی مصلحین میں سب سے زیادہ متنازعہ شخصیت ہیں۔وہ 6 فروری 1890 کو پشاور کے علاقے عثمان زئی میں پیدا ہوئے ۔ ان کی ساری زندگی عدم تشدد کے فلسفے سے عبارت رہی۔ تاہم ہمارے قومی اور ریاستی بیانئے کا کوئی دھارا آج بھی انہیں مثبت معنوں میں اہمیت کا حامل کردار تسلیم نہیں کرتا۔ اول توان کا ذکر نصابی کتابوں سے دور رکھا جاتا ہے یاپھران کے بارے میں ہر تذکرہ منفی انداز میں کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف دنیا بھر میں ان کااحترام ایک ایسی شخصیت کے طور پر کیا جاتاہے جس کی تعلیمات نےپاکستان کے شمال مغربی ریجن میں شدت پسند اورسخت گیر مزاج رکھنے والے جنگجوئوں کی سرزمین میں عدم تشدد اور امن کو فروغ دیا۔افسوسناک بات یہ ہے کہ کچھ سال قبل چارسدہ میں اس عظیم فلسفی اورسیاست دان کے نام سے منسوب باچا خان یونیورسٹی کو دہشت گردوں نے حملے کا نشانہ بنایا تھا جس میں ایک پروفیسرسمیت 22 افراد شہید ہوگئےتھے۔
ہندوستان کی تقسیم اور ایک علیحدہ ملک پاکستان کے مطالبے کی سیاست کے پس منظر میں غفار خان کی شخصیت ہمارے ہاں ہمیشہ متنازعہ رہی۔ خاص طور پر انڈین نیشنل کانگریس اور گاندھی کے ساتھ ان کے خاندان کی قریبی وابستگی کی وجہ سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اورحکمران اشرافیہ کے ایک بڑے حلقے میں انہیں شک کی نگاہ سے د یکھا جاتارہا ہے۔ 1940 کی دہائی کے دوران، وہ برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے سخت خلاف تھے۔ اس کےنتیجےمیں 1947 کے بعد پاکستان مخالف ہونے کی وجہ سے انہیں اگر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہےتوایسا ہوناکچھ زیادہ غیر فطری نہیں۔
باچا خان پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے ممبرتھے ۔ لیکن ہندوستان کی تقسیم اور قیام پاکستان کے مخالف ہوتے ہوئے باچا خان نے 23 فروری 1948 کو پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی اور نئے ملک اور اس کے پرچم سے وفاداری کا حلف اٹھایااور دستور ساز اسمبلی کے اجلاسوں میں بھرپور شرکت کی۔5 مارچ سنہ 1948 کو پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے باچاخان نے اعتراف کیا کہ ’میں نے برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کی مخالفت کی تھی۔ لیکن ’اب جب کہ تقسیم ہو ہی چکی ہے تو اس کے بعد لڑائی کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہی اجلاسوں میں پاکستان سے وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نےہربار اپنے اس عزم کو دہرایا کہ ان کا پروگرام تخریبی نہیں تعمیری ہے اور خدائی خدمت گار تحریک بنیادی طور پر اصلاحی اور سماجی تحریک ہے جسے انگریز عہد کے سیاسی جبرکی صورتحال نے کانگریس کے ساتھ اشتراک کی جانب دھکیل دیا تھا۔اس سے قبل بانیِ پاکستان محمد علی جناح نے باچا خان کو اپنے ہاں کھانے پر مدعو کیا تواس موقع پر دونوں کے درمیان دل کھول کر باتیں ہوئی تھیں۔ انھوں نے بانی پاکستان کو ایک بار پھر یقین دلایا تھا کہ وہ پاکستان کے وفادار ہیں اور چونکہ ان کے متعلق بعض حلقوں میں شکوک ہیں اس لیے جب تک وہ شکوک رفع نہیں ہو جاتے وہ سیاست میں عملی حصہ نہیں لیں گے اور اپنی سرگرمیوں کو صرف اصلاحی پروگرام تک محدود رکھیں گے۔
اس ملاقات کے بعد ایک انٹرویو میں باچا خان نے بتایا کہ ’میری صاف صاف باتوں سے قائد اعظم کو ہرطرح سے اطمینان ہو گیا تھا ، انھوں نے مجھے گلے لگا کر رخصت کیا۔ لیکن قائداعظم اپریل میں جب پشاور کے دورے پر آئے توباچا خان سے ان کی ملاقات طے تھی، جسےاس وقت کے انگریز آئی جی اور قیوم خان نے ایک سازش کے تحت نہ ہونے دیا۔قائد سے کہا کہ باچا خان اور ان کی تنظیم کے لوگ قابل اعتماد نہیں ہیں، لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بن جائے گا ۔ قائداعظم اگر خدائی خدمت گاروں کی دعوت پر ان کی کسی تقریب میں گئے تو ان کی زندگی تک کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ وہ آپ کو مار دیں گے،اوریہ ملاقات نہ ہوسکی ۔باچا خان نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ’ جب میں گورنمنٹ ہاؤس میں قائداعظم کے پاس یہ دعوت نامہ لے کر گیا کہ وہ خدائی خدمت گاروں کی طرف سے دی جانے والی ایک تقریب میں شمولیت فرمائیں تو قائد اعظم نے ہچکچاہٹ کا اظہار کیا‘ اس کے بعدباچا خان، جو مفاہمت کے لیے کوشاں تھے الٹا حکومت کے معتوب بن گئے اور اس ملاقات کے خلاف سازش کے مرکزی کردارقیوم خان ایک آمر مطلق بن کران کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہو گئے۔اس طرح باچا خان اور پاکستانی حکومت کے درمیان مفاہمت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ باچا خان کو غداری کے الزام میں تین سال کے لیے منٹگمری جیل بھیج دیا گیا۔بعدمیں پاکستان کے فوجی حکمران ایوب خان کے عہدتک باچا خان ’غدار‘، ’افغان ایجنٹ‘ اور حکومت پاکستان کے لیے ’خطرناک شخص‘ بن چکے تھے۔1961 تک حالات اس حد تک خراب ہو چُکے تھے کہ انھوں نے پاکستان چھوڑ دیا اور افغانستان میں پناہ لےلی۔
اسی طرح بھٹو صاحب کے ساتھ بھی ایک بار باچا خان نے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے حیات محمد خان شیرپائو سے مشورہ کیا کہ ’’غفار خان مجھ سے ملنا چاہتے ہیں مجھے کیا کرنا چاہیے۔‘‘ شیرپائو نے بھٹو صاحب سے کہا کہ ’’باچا خان کا بہت بڑا منصب ہے ، آپ خود ان کے گھر جائیں۔ وہ آپ کے لیے بہت مفید ثابت ہوں گے۔پاکستان کے ہندوستان اور افغانستان سے تعلقات بنانے اور صوبوں کے مابین یگانگت کرانے میں معاون ثابت ہوں گے ۔‘‘ لیکن اس ملاقات کو ایکبار پھرقیوم خان نے ناکام بنادیاجو ان دنوں بھٹوحکومت میں وزیر داخلہ تھے۔ وہ باچاخان کے خلاف سرکاری فائلیں لے کروزیراعظم بھٹو کے پاس حاضر ہو گئے اور کہا کہ باچاخان تو انڈیا کا لیڈر ہے۔ کابل کا لیڈر ہے۔اگر آپ اسے پاکستان کا بھی لیڈر بنانا چاہتے ہیں پھر ہم کہاں جائیں گے۔‘‘
باچاخان ایک ممتاز پشتون رہنما تھے جو تحریک آزادی کے ایک سرگرم رکن تھے، ان کی سیاست کی شروعات رولٹ ایکٹ کے خلاف تحریکوں میں ان کے کردار سے ہوئی جہاں ا ن کی ملاقات مہاتما گاندھی سے ہوئی۔ہندوستان کی سیاسی سرگرمیوں میں ان کے بھرپورکردار کے نتیجے میں، انہیں 1920 سے 1947 کے درمیان کئی بار قید اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔غفار خان، جنہیں باچا خان اور “سرحدی گاندھی” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1929 میں، انہوں نے عدم تشدد پر مبنی خدائی خدمت گاروں کی سرخ پوش فوج بنا ئی اور جلد ہی وہ ہندوستان کی آزادی کی وسیع تر تحریک کا حصہ بن گئے ۔ اس تحریک نے 1947 میں تقسیم تک کانگریس پارٹی کی مدد کی۔تاہم، خدائی خدمتگارتحریک (1929-1955) کی طویل جدوجہد سےباچا خان نے ایک ا یسےمعاشرے کی تشکیل اورسماجی ماڈل کومتعارف کرانے میں بھی مدد کی ہے جہاں ترقی پسند سیاسی جماعتوں کا نظریاتی رجحان اور سیاسی وابستگی آمریت اور انارکی کی مخالفت کرتے ہوئے سویلین بالادستی، عوامی حکمرانی، جمہوریت، انسانی حقوق، آئینی حقوق، اپنے وسائل پر حقوق اور صوبائی خودمختاری کاحصول ہو۔ آج پاکستان کو جب انتہا پسندی اور دہشت گردی کےچیلنجوں سے نمٹنے کے لیے باچا خان کے فلسفے پر مبنی ایک ارتقائی بیانئے کیپہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے،
ان کا انتقال 1988ء میں ہوا، ان کی آخری خواہش تھی کہ ان کی تدفین افغانستان کے شہر جلال آباد میں ان کے گھر کے صحن میں کی جائے۔ان کی آخری رسومات میں پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق اوربھارت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی دونوں موجود تھے۔کم وبیش 20 ہزار ان کے پیروکار جنازے کے جلوس کے ساتھ پاکستان سے افغانستان میں داخل ہوئے ۔ افغانستان میں اس وقت گھمسان کی جنگ جاری تھی لیکن آپ کی تدفین کے موقع پردونوں اطراف سے جنگ روک دی گئی۔

