علامتی احتساب یا حقیقی اصلاح؟ اصل سوال ابھی باقی ہیں

پاکستان کی تاریخ میں بعض فیصلے محض عدالتی کارروائیاں نہیں ہوتے بلکہ وہ قومی شعور، ریاستی سمت اور اجتماعی احتساب کے سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ پاکستان فوج کے سینئر افسر اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو مختلف الزامات پر چودہ سال قید کی سزا بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے۔ بظاہر یہ ایک طاقتور فرد کے خلاف کارروائی ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک جرنیل کو سزا دے دینے سے اس زہر کا تریاق مل جائے گا جو برسوں سے ریاست اور معاشرے کی رگوں میں اتارا گیا؟ کیا ایک فرد کو کٹہرے میں لا کر اس پورے نظامی بگاڑ کا خاتمہ ممکن ہے؟ یا یہ صرف ایک علامتی قربانی ہے جس کے بعد اصل مسئلہ جوں کا توں رہے گا؟

پاکستان نے قیام کے بعد سے بے شمار سیاسی، آئینی اور عسکری بحران دیکھے ہیں۔ مارشل لا لگے، منتخب حکومتیں ختم کی گئیں، سیاست دانوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، جلا وطن کیا گیا، کوڑے لگے اور پھانسیاں بھی ہوئیں۔ اس تمام تر جبر کے باوجود ایک حقیقت نمایاں رہی: سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے، چاہے وہ کتنے ہی مظلوم کیوں نہ ہوئے ہوں، ریاستِ پاکستان کے خلاف بیرونی قوتوں کے ساتھ ساز باز نہیں کی۔ اختلاف کیا، مزاحمت کی، احتجاج کیا، مگر قومی دائرے سے باہر جا کر ملک دشمنی کو ہتھیار نہیں بنایا۔ یہی وہ اخلاقی برتری تھی جو سیاست کو سیاست اور ریاست کو ریاست رکھتی رہی۔

بدقسمتی سے گزشتہ پندرہ برس میں یہ توازن بگڑا۔ چند طاقتور جرنیلوں نے سیاسی انجینئرنگ کو محض حکومت سازی تک محدود نہ رکھا بلکہ نفرت، کردارکشی اور تقسیم کو باقاعدہ ریاستی حکمتِ عملی بنا دیا۔ دو بڑی سیاسی جماعتوں سے ضد اور دشمنی میں ایک تیسری قوت کو مصنوعی طور پر کھڑا کیا گیا۔ عمران خان کو ایک مسیحا کے طور پر پیش کرنے کے لیے یہ ضروری سمجھا گیا کہ باقی سب کو چور، ڈاکو اور غدار ثابت کیا جائے۔

اس مقصد کے لیے منظم پروپیگنڈا مشینری قائم کی گئی۔ سوشل میڈیا کو ہتھیار بنایا گیا، ہزاروں کی تعداد میں تنخواہ دار افراد بھرتی کیے گئے جو ہر مخالف پر ٹوٹ پڑتے، گالیاں دیتے اور ذاتیات تک اتر آتے۔ مائیں، بہنیں، بیویاں اور بیٹیاں بھی اس گھناؤنی مہم سے محفوظ نہ رہیں۔ اسی طرح بھاری معاوضوں پر کچھ ٹی وی اینکرز کو اس بیانیے کا حصہ بنایا گیا جو دن رات جھوٹ، نفرت اور اشتعال پھیلاتے رہے۔ نتیجتاً سیاسی کارکن نہیں بلکہ ایک ایسا اندھا کلٹ وجود میں آیا جو ایک شخص کو انسان نہیں بلکہ اوتار سمجھنے لگا۔ اس کلٹ نے عمران خان کو کبھی مرشد، کبھی پیر اور کبھی نجات دہندہ کا درجہ دیا، جبکہ اس کے مخالفین کے خلاف ہر اخلاقی حد پار کر لی۔ اختلافِ رائے کو غداری اور تنقید کو دشمنی بنا دیا گیا۔

عدلیہ اور میڈیا کے بڑے حصوں کی شمولیت نے اس عمل کو مزید مضبوط کیا۔ عمران خان کو بعد ازاں چور دروازے سے اقتدار تک پہنچایا گیا۔ مگر اقتدار میں آنے کے بعد یہ حقیقت بے نقاب ہو گئی کہ جس شخص کو نجات دہندہ بنایا گیا تھا، اس میں ریاست چلانے کی اہلیت موجود نہیں تھی۔ گورننس ناکام ہوئی، عالمی سطح پر پاکستان تنہا ہوا، کرپشن کے نئے ریکارڈ بنے، عالمی اداروں نے پاکستان میں کرپشن کی بلند سطح کی نشاندہی کی۔ مخالفین پر انتقامی کارروائیاں ہوئیں، خواتین سمیت سیاسی کارکن گرفتار کیے گئے، صحافت پر قدغنیں لگیں اور پاکستان کو عالمی سطح پر آزادیٔ صحافت کے دشمن ممالک میں شمار کیا جانے لگا۔ بالآخر یہ تجربہ بری طرح ناکام ہوا اور عمران خان اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔

لیکن مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ اصل خطرہ خود عمران خان نہیں بلکہ وہ ذہن سازی ہے جو برسوں کی سرپرستی سے کی گئی۔ وہ لوگ جنہیں منظم انداز میں نفرت، جھوٹ اور ریاست دشمنی پر تربیت دی گئی۔ وہ لوگ جو آج اپنے ہی ملک سے نفرت کرتے ہیں، جو بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہیں، جو ہر قومی بحران پر خوشی مناتے ہیں، اور کچھ وہ ہیں جو اندرونِ ملک اسی کلٹ کے اسیر بنے ہوئے ہیں، جن کے نزدیک ملک سے بڑھ کر ایک فرد اہم ہے۔ یہ سب کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند تربیت کا حاصل ہیں، اور درحقیقت اسی ذہنیت کا خاتمہ سب سے زیادہ ضروری ہے۔

یہ سب کچھ محض فیض حمید کا پیدا کردہ نہیں۔ یہ ایک طویل کہانی ہے جس کے کردار سب جانتے ہیں۔ اگر احتساب واقعی مقصد ہے تو اسے ایک نام تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ ان سب کو جوابدہ بنانا ہوگا جنہوں نے اس عفریت کی بنیاد رکھی، جنہوں نے اربوں روپے خرچ کر کے ایک منظم ملک دشمن بیانیہ تشکیل دیا، اور جنہوں نے ریاستی اداروں کو ذاتی دشمنیوں کے لیے استعمال کیا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو فیض حمید کی سزا تاریخ میں ایک وقتی سرخی سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی۔

ریاست کو اب واضح فیصلہ کرنا ہوگا۔ یا تو بلا تفریق احتساب ہوگا، نفرت انگیز پروپیگنڈے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ریاست دشمن عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا، یا پھر فیض حمید کی سزا بھی ماضی کے بہت سے واقعات کی طرح محض ایک علامتی قدم بن کر رہ جائے گی۔

اگر کل یہی عناصر دوبارہ واپس آ کر اسی طرح آباد ہو گئے جیسے ماضی میں دہشت گردوں کو لا کر بسایا گیا، اگر اندرون ملک ایسے عناصر کے خلاف بھر پور اور فیصلہ کن کاروائی نہیں کی گئی تو اس کا مطلب ہوگا کہ اس ریاست میں وفاداری کی کوئی قیمت نہیں۔ اور جب یہ یقین عام ہو جائے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں، تو پھر اس ملک کی جڑیں کاٹنے والے بے خوف ہو جائیں گے۔ پھر ریاستیں اندر سے ٹوٹتی ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسی ٹوٹ پھوٹ کا شور بہت بعد میں سنائی دیتا ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں ایک ریاست یا تو خود کو بچاتی ہے، یا خاموشی سے زوال کو قبول کر لیتی ہے۔