سیالکوٹ (نامہ نگار)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید پر مزید الزامات بھی ہیں جن پر قانونی کارروائی کی جائے گی، عمران خان اور فیض کے عناصر اب بھی اندر موجود ہیں اور ملک کی صورتحال پر اثر ڈال رہے ہیں۔
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا پراجیکٹ تقریباً 12 سال قبل زور و شور سے شروع ہوا، لاہور میں پہلے جلسے کی ارینجمنٹ بھی نادیدہ ہاتھوں نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو سازش کے تحت اقتدار سے نکالا گیا اور قید کیا گیا جبکہ بانی کو دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا، فیض حمید اس پراجیکٹ کے انچارج تھے اور بانی کے مفادات کا تحفظ کر رہے تھے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان اور فیض حمید ایک دوسرے کیلئےلازم و ملزوم تھے اور ان کے تعلقات ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے، تبادلے کے بعد فیض حمید ایکسپوز ہونا شروع ہوئے اور کور کمانڈر کی حیثیت سے انہیں سہولتیں فراہم کی گئیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نو مئی کے واقعات کے پیچھے بھی فیض حمید کا دماغ تھا، منصوبہ بندی انہوں نے کی جبکہ افرادی قوت پی ٹی آئی نے فراہم کی۔
وزیر دفاع کے مطابق سازشی عناصر آج بھی بانی کو سپورٹ کر رہے ہیں اور فیض حمید کے آلہ کار اب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے بنیان المرصوص میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا، اگر فیض اور بانی کا منصوبہ کامیاب ہوتا تو ملک کی صورتحال خطرناک ہو سکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھینندن کی گرفتاری پر فیض اور بانی کے کانپیں ٹانگ رہی تھیں۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ ملک دشمنوں کا احتساب جاری رہے گا، چاہے وہ وردی میں ہوں یا سادہ لباس میں۔ انہوں نے کہا کہ فیض حمید فوجی عدالت اور آرمی چیف کے سامنے اپیل دے سکتے ہیں اور ہائی کورٹ میں بھی اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ وزیر دفاع نے یہ الزام بھی لگایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت طالبان کو بھتہ دیتی ہے اور فیض حمید نے بانی کو تقویت دینے کے لیے طالبان کی سہولت کاری کی، جبکہ مغربی سرحد پر بھارت کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔

