عمران خان کا احتجاجی تحریک میں جوش و خروش کی کمی پر اظہارِ تشویش

راولپنڈی(نامہ نگار)اڈیالہ جیل میں قید پی ٹی آئی بانی عمران خان نے 5 اگست کو ملک گیر احتجاجی تحریک کیلئے پارٹی کے اندر جوش و خروش کی کمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنان کو فوراً اختلافات بھلا کر تحریک پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دی۔

عمران خان نے ایک پیغام میں واضح کیا کہ پارٹی میں گروپ بندی یا انتشار ناقابلِ برداشت ہے، جو بھی اس میں ملوث پایا گیا، اسے پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ظلم کیخلاف لڑ رہے ہیں اور یہ تحریک ان کی قربانیوں کا تسلسل ہے۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے عدلیہ کو مفلوج کرنے، اور اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی سمیت خود پر جیل میں کیے گئے ناروا سلوک کا بھی ذکر کیا۔

اس دوران، خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی 90 روزہ احتجاجی ٹائم لائن نے پارٹی میں الجھن پیدا کی، جس پر عمران خان نے عوامی سطح پر اختلافات سے باز رہنے کی سختی سے تاکید کی ہے۔

پی ٹی آئی کی احتجاجی مہم اپوزیشن اتحاد “تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی)” کے بینر تلے چلائی جائے گی، جس کا پہلا مرحلہ 31 جولائی کو آل پارٹیز کانفرنس سے شروع ہوگا۔

دریں اثنا، عمران خان کے بیٹے امریکا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکی کانگریس اراکین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، جس میں کانگریس مین جو ولسن اور بریڈ شرمین شامل ہیں۔ بریڈ شرمین نے عمران خان کی صحت اور قید کی حالت پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں