اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو ایک تفصیلی خط لکھا ہے جس میں عدلیہ کو لاحق خطرات، ادارہ جاتی دباؤ اور عوامی رائے کے استحصال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔انہوں نے تجویز دی ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور خود احتسابی پر غور کیلئے فل کورٹ کانفرنس فوری بلائی جائے۔
“سپریم کورٹ کو عوام کی رائے دبانے کیلئےاستعمال کیا گیا”
جسٹس اطہر من اللہ نے 7 صفحات پر مشتمل خط میں لکھا کہ وہ یہ خط “آئین کے احترام اور آنے والی نسلوں کے ریکارڈ کیلئے”لکھ رہے ہیں تاکہ یہ تاریخ محفوظ رہے کہ “عوام کی تقدیر عدالت عظمیٰ کی سنگ مرمر کی دیواروں کے پیچھے کیسے طے کی جاتی رہی۔”انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ کو غیر منتخب اشرافیہ کی جانب سے عوامی رائے دبانے کے آلے کے طور پر استعمال کیا گیا۔
“خوف اور طاقت کے سامنے جھکنے سے ادارے تباہ ہوتے ہیں”
جسٹس اطہر نے کہا کہ ادارے ایک دن میں نہیں بنتے، مگر خوف اور ہتھیار ڈالنے سے جلد تباہ ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی تاریخ بے داغ نہیں، لیکن اس کی ناکامیوں کو اشرافیہ کے مفادات کے تابع رہنے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں کیونکہ عوام کے بنیادی حقوق اب محض “نعرے یا الفاظ” بن چکے ہیں۔
“سیاسی اختلاف کو جرم بنا دیا گیا ہے”
جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے خط میں کہا کہ سیاسی اختلاف کو جرم بنا دیا گیا ہے، خواتین سمیت جو لوگ جھکنے سے انکار کرتے ہیں، انہیں غیر انسانی حالات میں رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ “ہم سب حقیقت جانتے ہیں مگر صرف عدالتوں کے چیمبرز اور چائے کے کمروں میں سرگوشی کرتے ہیں۔”
“ہم خاموش رہے جب انصاف پر دباؤ بڑھا”
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹسز نے جبری گمشدگیوں اور عدلیہ پر ممکنہ دباؤ کی نشاندہی کی، لیکن سپریم کورٹ خاموش رہی۔ان کے مطابق عدالت عظمیٰ کی نگرانی میں انتخابی نتائج میں مداخلت اور اختلافی آوازوں کو دبانے کے واقعات تاریخ کا حصہ ہیں۔
“عدلیہ کی سب سے بڑی وفاداری عوام اور آئین سے ہے”
انہوں نے چیف جسٹس سے کہا کہ عدلیہ کی وفاداری اپنے مفاد یا طاقت کے مراکز سے نہیں بلکہ عوام اور آئین سے ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ “عدلیہ خاموش رہی تو یہ شمولیت کے مترادف ہوگا۔ ہمارا حلف ہمیں سچ بولنے اور آئین کی حفاظت کرنے کا پابند کرتا ہے، چاہے یہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔”
“خود احتسابی اور عدالتی کانفرنس کی تجویز”
جسٹس اطہر نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے درخواست کی کہ سپریم کورٹ اور تمام ہائی کورٹس کے ججوں پر مشتمل عدالتی کانفرنس بلائی جائے تاکہ عدلیہ کی آزادی، عوام کے اعتماد اور آئینی کردار پر کھلی گفتگو ہو سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ “عدلیہ ایک خطرناک موڑ پر ہے، اس لمحے میں سچ بولنا ناگزیر ہے۔”
“جسٹس منصور علی شاہ اور وکلا برادری کی حمایت”
یہ خط ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل جسٹس منصور علی شاہ نے بھی چیف جسٹس کو خط لکھ کر فل کورٹ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔جسٹس منصور نے کہا تھا کہ “چیف جسٹس محض منتظم نہیں بلکہ عدلیہ کے محافظ ہیں۔”انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر چیف جسٹس کی سربراہی میں مشاورت نہ کی گئی تو اسے “خاموش منظوری” سمجھا جائیگا۔
مزید برآں، سابق ججوں اور ممتاز وکلا نے بھی چیف جسٹس کو مشترکہ خط لکھ کر 27ویں آئینی ترمیم پر غور کیلئےفل کورٹ اجلاس بلانے کی درخواست کی۔اس خط کی تیاری سینئر وکیل فیصل صدیقی نے کی جس کی توثیق جسٹس (ر) مشیر عالم، جسٹس (ر) ندیم اختر اور دیگر 9 ممتاز قانونی شخصیات نے کی۔سیاسی و عدالتی ماہرین کے مطابق جسٹس اطہر من اللہ کا یہ غیر معمولی خط عدلیہ کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی اور آئینی اداروں کے درمیان طاقت کے توازن پر ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔

