یہ ماہ مبارک ذوالحج ہے، مکہ اور مدینہ شریف میں لاکھوں افراد فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے موجود ہیں۔ قانون فطرت کے مطابق سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تھوڑے وقت کے فرق کی وجہ سے تاریخ میں ایک روز کا فرق آ جاتا ہے، ہمارے علماء کرام اس مسئلے کو مل بیٹھ کر اجتہاد سے بڑی آسانی سے حل کرسکتے ہیں اور دنیا میں طلوع و غروب آفتاب کے فرق کے باوجود مکہ مکرمہ کو مرکز مان کر سائنس کی رو سے تجزیہ کرکے دنیابھر میں چاند کی بھی یکساں تاریخ کا تعین ہو سکتا ہے اگر ماضی میں لاؤڈ سپیکر اور ٹیلی فون حرام تھا اور اب اس کے بغیر گزارہ نہیں تو چاند کے مسئلہ پر بھی غور و فکر ہو سکتا ہے کہ اللہ نے اپنی کتاب مقدس میں ایمان والوں کو غور کی دعوت بھی دی ہے، یہ بالکل درست ہے کہ پندرہ سو سال قبل حضور اکرمؐ کے دور مبارک میں یہ فرمایا گیا کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھ لو اور چاند دیکھ کر عید کرلو، وہ دور وہ تھا جب فاصلے بہت تھے، حتیٰ کہ ایک شہر سے دوسرے شہر تو کجا، ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک خبر پہنچنے میں وقت لگتا تھا جبکہ چاند اپنے وقت اور اپنے افق پر ہر روز طلوع ہوتا ہے تاہم اب فاصلے سمٹ گئے اب تو ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک تصویر فوراً پہنچ جاتی ہے، ہم ٹیلی ویژن ہی سے مستفید نہیں ہو رہے بلکہ ویڈیو کال سے بھی آمنے سامنے گفتگو کرلیتے ہیں۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، اس کی مثال خلیفہ راشد حضرت عمرؓ کے دور سے ملتی ہے، جب آپؓ نے خطبہ جمعہ کے دوران یکایک فرمایا ”یاثاریہ الجبل، یا ثاریہ الجبل“ تو ان کی یہ آواز سینکڑوں میل دور حضرت ثاریہؓ نے سن لی، اس وقت وہ کفار سے نبردآزما تھے، میدان کارزار گرم تھا، چنانچہ انہوں نے فوری عمل کیا اور پیچھے پہاڑی کی طرف توجہ دی جہاں سے دشمن خاموشی سے اپنے فوجی دستے لاکر حملہ کی کوشش میں تھا، چنانچہ اس انتباہ اور سالار مجاہدین کی توجہ کے باعث دشمن کو مات ہو گئی۔
ہمارے بزرگ یہ روائت تو بڑے ذوق اور فخر سے بیان کرتے ہیں، لیکن یہ ماننے پر تیار نہیں کہ تب روحانیت کا دخل تھا اور آج اللہ ہی کے دیئے علم کی بدولت انسان اتنی ترقی کر چکا کہ اب چاند اور سورج کی مقررہ گردش کے سیکنڈ کے بھی ہزارویں حصے کا حساب لگا کر بتا سکتا ہے کہ کس لمحے چاند کس مقام پر ہوگا اگر غوروفکر سے فیصلہ ہو جائے اور شرعی نگرانی میں سائنس کے اس اصول پر عمل کیا جائے تو طلوع چاند پر کوئی تنازعہ نہیں ہو سکتا اور دینی تہوار دنیا بھر میں یکساں دن کو منائے جا سکتے ہیں۔
یہ تو ایک خیال، تصور اور خواہش ہے جس کو بیان کردیا کہ آج مکہ میں اراکین حج کی شروعات ہے تو ہمارے ملک میں عیدالاضحی جسے عید قربان کہا جاتا ہے اس کا زور ہے، جس میں اس تحریر کے وقت سے صرف چار روز باقی ہیں، انشاء اللہ آئندہ ہفتہ (7جون) کا سورج ماہ مبارک کی دسویں تاریخ کو طلوع ہوگا اور سنت ابراہیمی ؑکی ادائیگی شروع ہو گی، حجاج کرام یہ فرض ایک روز قبل ہی ادا کر چکے ہوں گے۔ پاکستان بلکہ برصغیر میں سنت ابراہیمی ؑ کی ادائیگی واجب سے فرض کی حد تک پہنچ چکی اور ہمارے رہبر (دین) اپنے وعظ کے ذریعے اس سنت کی فضیلت کو ایسے بیان کر چکے اور کررہے ہیں کہ عام مسلمان قربانی نہ کر سکنے سے خود کو گناہ گار اور بدنصیب خیال کرتا ہے، حالانکہ ادائیگی سنت میں استطاعت مقصود ہے اور اگر استطاعت نہیں تو پھر گناہ بھی نہیں، تاہم ہمیں تو اسے فرض کی حد تک ہی بتایا جاتا ہے۔اس کی ایک نشانی بڑے جانور کے لئے سات حصے بھی ہیں، ہم جب سکول جاتے تھے (پرائمری + 48+47 کی بات ہے) تو میرے لاہور میں گائے یا بیل کی قربانی تو دور کی بات یہاں لوگ گائے کا گوشت نہیں کھاتے تھے، دیہات میں البتہ ہفتہ دس دنوں بعد بچھڑا ذبح کرکے سالن بنا لیا جاتا تھا، لوگ بکرے، چھترے، دنبے خرید کر خودپرورش کرتے، ہم لڑکے بالے ان کی حفاظت کرتے اور پھر ان کی قربانی ہوتی تھی۔ تب ہمارے اندرون شہر یہ رسم بھی تھی (شرعی جواز نہیں) کہ حج مبارک کے دن ہم قربانی کے ان جانوروں کو نہلا، سجا کر شوق سے حضرت علی ہجویریؒ کے مزا رپر سلام کرانے لے جاتے تھے، اب صورت حال تبدیل ہو چکی، پرانے محلے یا مقام پیدائش کی طرف گئے عرصہ ہی ہو گیا اس لئے کہا نہیں جا سکتا کہ پرانے شہر میں یہ روائت اب بھی ہے یا نہیں۔ بہرحال ہم نے اپنے بچپن سے لڑکپن اور پھر جوانی کی طرف آتے ہوئے ہی یہ دیکھ لیا کہ روایات تبدیل ہوئیں اور اب حالات یہ ہیں کہ سات حصوں کی رعائت نے قربانی کے لئے بڑے جانوروں کی بہتات کر دی ہے۔ ان دنوں مویشی منڈیوں اور بازاروں میں گائے، بھینس اور بیل، بھینسے کثرت سے نظر آ رہے ہیں، ہر مسجد کے امام نے سات حصوں کا اعلان کر رکھا ہے، مختلف دینی جماعتوں اور رفاعی ادارے بھی یہ فریضہ انجام دے رہے ہیں، رفاعی ادارے تو کھالیں اور گوشت مستحق افراد تک پہنچانے کے لئے حاصل کرتے ہیں، جبکہ مساجد اور انفرادی طور پر حصہ کرانے والے کھال خود لیتے اور گوشت کے حصے کرتے ہیں، یوں سنت ابراہیمی ؑ کے ساتھ ایک کاروبار بھی شروع ہے، مساجد اور مدارس والے حضرات یہ ثواب اپنے مدرسوں اور مساجد کے لئے وصول کرلیتے ہیں تاہم ادارے گوشت تقسیم کرتے اور کھالوں کی آمدن بھی فلاحی کاموں کے لئے استعمال کرتے ہیں، یوں اب یہ سلسلہ چل رہا اور اس بار 75فیصد سے زیادہ بڑے جانور قربان ہوں گے،بکرے، چھترے صاحب حیثیت لوگوں کی اکا دکا یا بچوں کی ضد پر ہیں۔
ملک بھر میں مہنگائی کے طوفان کی وجہ سے حلال جانور بھی بہت مہنگے ہیں، بلکہ گزشتہ برس کی عید کی نسبت مہنگائی کم از کم 25سے 30فیصد تک ہے۔ سفید پوش طبقے کے لئے اس سنت کی ادائیگی بہت دشوار ہو گئی ہے جبکہ واعظ حضرات کا فرمان ہے کہ اس سنت کی ادائیگی ہی سے مسلمان پر جنت واجب ہوگی اور وہ بڑی قربانی کی یاد تازہ کرتے ہوئے خود کو بھی اللہ کی رضا کی خاطر قربان ہونے پر تیار رہے گا۔ اس کے باوجود غزہ اور روہنگیا میں مسلمانوں پر جو قیامت گزر رہی ہے اس کی مسلسل مذمت کی جا رہی ہے او رغزہ کے حوالے سے ریلیاں بھی نکالی جا رہی ہیں، لیکن ابھی تک کسی جماعت کی طرف سے غزہ کے مظلوموں کی مدد کے لئے وہاں جانے کا اعلان نہیں کیا گیاکہ یہ جہاد کے زمرے میں آتا ہے اور جہاد کا اعلان ریاست کی ذمہ داری ہے،اگرچہ برصغیر میں تحریک خلافت کی مثال بھی موجود ہے۔
بہرحال عید میں صرف تین روزرہ گئے، ہفتہ کے روز مساجد میں نماز عید جلد سے جلد ادا کرنے کا مقابلہ ہوگا، اکثرمساجد میں نماز عید ساڑھے پانچ بجے اور چھ بجے مقرر کی گئی تاکہ قربانی کا عمل جلد شروع ہو سکے۔ صوبائی حکومت نے اس مبارک موقع کے لئے خصوصی انتظامات کئے، جانوروں کو شہر سے باہر محدود رکھنے اور بیوپاری حضرات اور فریضہ ادا کرنے والوں کی سہولت کے لئے شہر کے باہر 9مقامات پر مویشی منڈیاں قائم کی ہیں۔ حکومت کے مطابق یہاں سایہ، پانی اور چارے کی سہولت ہوگی، تاہم یہ منڈیاں نیلام کی گئی ہیں،انتظام کے عوض رقم حاصل ہوتی ہے، بیوپاریوں کی شکائت ہے کہ انتظام معقول نہیں اور ٹھیکیدار کمیشن کے ساتھ روزانہ کا خرچ بھی وصول کررہے ہیں، یہ سب نچلے طبقے کی ذمہ داری ہے، حکومت نے فرض ادا کیا اور ملازمین اپنا ”فرض“ وصول کررہے ہیں، اس طرح شہر بھر میں بڑے اور چھوٹے جانوروں کے ریوڑ گھوم رہے ہیں اور ان کے اس طرح پھرنے سے جو نقصان ہوتا ہے وہ سب کے علم میں ہے اس سال تو ان کو شہر سے نکالنے کی بجائے ”اپنی فیس“ کی وصولی جاری ہے۔

