دنیا ایک ایسا گلوبل ولیج بن چکی ہے جہاں حکومتیں عوام سے کچھ نہیں چھپا سکتیں۔ عالمی بینک اور اقوام متحدہ دو ایسے ادارے ہیں، جو ہر سال دنیا بھر کے ممالک کی اقتصادی رپورٹ، معاشی حالت، ترقی، تنزلی، بہتری، خوشحالی کے بارے تفصیلی رپورٹ شائع کر دیتے ہیں۔ ایسی ایک تازہ رپورٹ ورلڈ بینک نے بھی جاری کر دی ہے، جس نے ہمارے جھوٹ کا پول کھول دیا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کا ”مسلسل دعویٰ“ ہے کہ پاکستان میں غربت کم ہو رہی ہے، مہنگائی بھی ”سنگل ڈیجٹ“ میں آگئی ہے۔ لیکن عالمی بینک نے جو کچھ بتایا ہے اسے سُن کر تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمارے یہاں اس کے الٹ ہے، عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت 44.7 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہے ہیں۔ عالمی بینک ان لوگوں کو غریب شمار کرتا ہے جن کی آمدنی 4.20 ڈالر روزانہ سے کم ہوتی ہے یعنی 1200 روپے روزانہ سے کم کمانے والے غریب شمار ہوتے ہیں۔ جبکہ اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تین کروڑ 98 لاکھ یعنی تقریبا چار کروڑ لوگ انتہائی غربت کا شکار ہیں یعنی انہیں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہے۔ یہ ہے وہ پاکستان جس کو ہمارے حکمران روزانہ خوشحال بنانے اور اس کی ترقی کے دعوے کرتے ہیں۔عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں غربت 40 فیصد، بلوچستان 44 فیصد، سندھ 24 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 29.5 فیصد ہے۔ وہ ملک جہاں متوسط طبقے کے لوگوں کی تعداد زیادہ ہو وہ بہتر کہلاتے ہیں یعنی کہ وہاں پر خوشحال لوگ زیادہ ہیں، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں پاکستان کی کل آمدنی کا 41 فیصد حصہ 10 فیصد اشرافیہ لے جاتی ہے۔ ان 10 فیصد لوگوں کا پہلے حصہ 30 فیصد تھا جو اب بڑھ کر 41 فیصد ہو چکا ہے۔ پاکستان میں نئی صدی جب شروع ہوئی تو غربت کی شرح 64 فیصد تک پہنچ چکی تھی اس کے بعد جنرل مشرف کے دور میں غربت میں کمی کا سلسلہ شروع ہوا بہتر پالیسیاں بنائی گئیں۔ افغان جنگ کی وجہ سے ”بیرون ملک“ سے خاصی ”مدد“ بھی ملی۔ تجارت بھی ہوئی پاکستان کی برآمدات بڑھا دی گئیں اور پھر غربت کی شرح 2018ء میں 21 فیصد تک کم ہو گئی، لیکن اس کے بعد پہلے کرونا اور پھر پی ڈی ایم ون اور پی ڈی ایم ٹو کی ”محبت اور محنت“ سے پاکستان میں غربت کی شرح 25.3 فیصد ہوگئی۔ عالمی بینک کا یہ کہنا ہے کہ پچھلے تین سال میں غربت کی شرح میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں عوام کو صاف پانی، محفوظ نکاسی آب (سیوریج) سستی توانائی اور رہائش کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ آج 37 فیصد ایسے نوجوان ہیں جو نہ پڑھ رہے ہیں اور نہ ہی نوکری کر رہے ہیں۔ ملک میں غربت اور عدم مساوات بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں آج ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جا رہے جبکہ 44 فیصد بچوں کو مناسب خوراک نہیں مل رہی۔ آج ملک کی 33 فیصد آبادی کو بیت الخلاء کی سہولت میسر نہیں ہے، آدھی آبادی یعنی اس ملک کی تقریباً ساڑھے 12کروڑ آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے اور جو بچے سکول جا رہے ہیں ان میں سے بھی 75 فیصد کو صحیح طرح لکھنا پڑھنا نہیں آتا۔ ہماری آبادی 24 اور 25کروڑ کے درمیان بتائی جاتی ہے جبکہ ہمارے ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکول نہیں جا رہے،جبکہ اس کے برعکس ہمارا ازلی دشمن بھارت جس سے ہم 4 جنگیں بھی لڑ چکے ہیں سے موازنہ کریں تو بھارت کی ڈیڑھ ارب آبادی میں چند لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، عالمی بینک کی اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں معاشی ترقی کا ماڈل غربت میں کمی لانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں انتہائی تکلیف دہ حقیقت سامنے لائی گئی ہے۔ ہمارے حکمران بیرون ملک سے قرضے لے کر ہمیں مسلسل ”خوشخبریاں“ سناتے رہتے ہیں کہ ہم موٹروے بنا رہے ہیں، ایئرپورٹ بنا رہے ہیں، انڈر پاسز بنا رہے ہیں، اوورہیڈ برج بنا رہے ہیں لیکن یہ قرضے کس نے ادا کرنے ہیں یہ ہمیں نہیں بتایا جاتا کہ یہ قرضے ”انہوں“ نے نہیں ہم نے یعنی اس قوم نے ادا کرنے ہیں۔ اس قوم کے 24 کروڑ سے زائد افراد کو تین لاکھ 182 روپے کا مقروض کر دیا گیا ہے یعنی ہر وہ بچہ جو پیدا ہو رہا ہے پیدائشی طور پر تین لاکھ 18 ہزار 252 روپے کا مقروض ہے اور اس قرضے میں سالانہ 13 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ آج ہمارا قرضہ ملک کی قومی معیشت کے 70.2 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ بنگلہ دیش میں یہ قرضہ ان کی قومی معیشت کے 36.4 فیصد کے برابر ہے اور بھارت میں ان کی کل قومی معیشت کا 57.1 فیصد ہے۔ یہ ہے ہمارا پاکستان جس کے بارے میں آج ہر طرف یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ہم نے ترقی کی منزلیں تیزی سے طے کرنا شروع کر دی ہیں۔
ہمارے وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں معاشی مسائل کی وجہ کووڈ، سیلاب اور معاشی دباؤ ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ حکومت غربت مکاؤ فنڈ، ورکرز ویلفیئر فنڈ، پاکستان بیت المال اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غریبوں کو مدد فراہم کر رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ غربت سے نیچے رہنے والے پاکستان میں 21.5 فیصد ہیں،جبکہ عالمی بینک انہیں 44.7 فیصد کہتا ہے۔
پاکستان میں غربت کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ تعلیم اور صحت پر حکومتوں کی عدم توجہ کہی جا سکتی ہے پاکستان آج جنوبی ایشیاء میں تعلیم اور صحت پر سب سے کم خرچ کرنے والا ملک ہے۔ پاکستان اس وقت بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش، فلپائن، ترکی سے بھی کم بجٹ تعلیم اور صحت کے لئے مختص کرتا ہے۔ اور یہ انکشاف ہمارے گورنر سٹیٹ بینک نے کیا ہے۔ انہوں نے یہ انکشاف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں کیا تھا۔
پاکستان انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کا مقروض ہوتا چلا جا رہا ہے اور آئی ایم ایف کا پاکستان کے بارے میں یہ کہنا ہے کہ پاکستان دنیا بھر کے غریب ممالک میں 52 نمبر پر ہے۔ پاکستان میں خواندگی کی شرح صرف 58 فیصد ہے اور پاکستان تعلیم، صحت، خواندگی، غربت کی شرح میں اس خطے کے تمام ممالک سے بہت پیچھے ہے۔ یونیسکو کے مطابق کسی بھی ملک کو اپنے بجٹ کا کم از کم پانچ فیصد تعلیم کے لئے مختص کرنا چاہئے لیکن کیسی بدقسمتی ہے کہ ہم تعلیم پر صرف 1.98 فیصد اور صحت پر صرف 0.48 فیصد خرچ کر رہے ہیں۔ ان حالات میں بہتری کہاں سے آئے گی۔ ہمارے حکمران کب اس قوم کا سوچیں گے۔ آج اس ملک کے بیوروکریٹس، سیاستدان، تاجر، سرمایہ کار یعنی تمام اشرافیہ اپنے بچے، اپنا خاندان،اپنا سرمایہ بیرون ملک ”محفوظ اور منتقل“ کر چکے ہیں۔ یہ ملک اب صرف ان کو ہم پر حکمرانی کے لئے درکار ہے۔

