غریب کا مقدمہ، نظام کی بے حسی: والد کی رہائی کیلئےرقم جمع نہ کر پانے پر نوجوان کی خودکشی

وانیا والا، گوجرانوالہ میں بجلی چوری کے الزام میں گرفتار والد کی رہائی
کیلئےدلبرداشتہ نوجوان نے زہر پی لیا، اسپتال میں دم توڑ گیا

گوجرانوالہ (نامہ نگار خصوصی)گوجرانوالہ کے نواحی علاقے وانیا والا میں ایک 20 سالہ نوجوان فراز نے اپنے قید والد کی رہائی کیلئے رقم جمع نہ کر سکنے پر زہریلا تیزاب پی کر خودکشی کر لی۔ اس کا والد محمد بوٹا مبینہ طور پر بجلی چوری کے الزام میں 25 دن سے جیل میں قید تھا، جسے صرف 30 ہزار روپے کے بل کی عدم ادائیگی اور پنکھا چلانے کی خاطر مین لائن سے عارضی کنکشن لینے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

علاقہ مکینوں کے مطابق محنت کش محمد بوٹا کا میٹر گیپکو حکام نے واجب الادا بل کی بنیاد پر کاٹ دیا تھا۔ شدید گرمی سے تنگ آ کر اس نے محض ایک پنکھا چلانے کیلئےمین لائن سے عارضی کنکشن لیا جس پر گیپکو کی ٹیم نے چھاپہ مار کر مقدمہ درج کروایا اور بوٹا کو جیل بھیج دیا۔

گیپکو حکام کی جانب سے جرمانہ اور ضمانت کی رقم کی ادائیگی کیلئے اکلوتے بیٹے فراز پر شدید دباؤ ڈالا گیا۔ غربت، بے بسی اور والد کی جیل میں حالت دیکھ کر دلبرداشتہ فراز نے زہریلا مواد پی لیا۔ ریسکیو 1122 نے فوری طور پر فراز کو اسپتال منتقل کیا جہاں وہ زندگی کی بازی ہار گیا۔

مرنے سے قبل فراز نے اپنا بیان دیا جس میں اس نے کہا کہ وہ نہ ضمانت کیلئےرقم دے سکا اور نہ ہی جرمانہ اور اپنے بیمار والد کو جیل میں دیکھ کر وہ ذہنی اذیت میں مبتلا ہو گیا تھا۔بعد ازاں ڈسٹرکٹ بار کے سینئر وکیل رضوان گل نے فراز کے انتقال کی خبر کے بعد محمد بوٹا کا مقدمہ مفت سنبھالا اور عدالت سے اس کی ضمانت منظور کروائی تاکہ وہ بیٹے کی تدفین میں شریک ہو سکے۔

میڈیا سے گفتگو میں ایڈووکیٹ رضوان گل نے کہا’’ایک معمولی بل ادا نہ کرنے پر محنت کش کو جیل بھیجنا اور اس کے اہلخانہ پر اتنا شدید مالی و ذہنی دباؤ ڈالنا کہ ایک نوجوان جان دے دے، یہ ہماری ریاستی پالیسیوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔‘‘

واقعے پر شہری حقوق کی تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنان اور عوامی حلقوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات غریبوں کو زندہ دفن کرنے کے مترادف ہیں۔گزشتہ تین برسوں میں یوٹیلیٹی بلز میں 155 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس نے غربت کی شرح کو 19 فیصد سے 44 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔

وانیا والا میں پیش آنے والا یہ واقعہ نہ صرف معاشی ناہمواری کی شدت کو عیاں کرتا ہے بلکہ ریاستی مشینری اور پالیسی سازوں کیلئے ایک تلخ پیغام بھی ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور غیر متوازن پالیسیوں کے بوجھ تلے ایک غریب آدمی اور اس کا خاندان کس حد تک پس سکتا ہے۔

فراز کی خودکشی صرف ایک المیہ نہیں بلکہ ایک المیہ نما احتجاج ہے — ایک ایسا احتجاج جو چیخ چیخ کر نظام سے سوال کر رہا ہے: کیا غریب جینے کا حق بھی کھو چکے ہیں؟

اپنا تبصرہ لکھیں