غزہ:بارشوں سے بے گھر فلسطینیوں کے خیمے ڈوب گئے، سرد ی سے مشکلات میں اضافہ

غزہ (رائٹرز)غزہ میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، جس سے ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کے خیمے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ سخت سرد موسم نے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 20 لاکھ آبادی کی اکثریت اسرائیلی حملوں کے دوران بے گھر ہوئی اور جنگ بندی کے بعد بھی بڑی تعداد میں لوگ خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ بنیادی انفراسٹرکچر کی تباہی نے حالات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔

ام احمد عوضہ نے بارش میں اپنے خیمے کے باہر کھڑے ہو کر بتایا کہ ابھی سردیوں کا آغاز ہے اور ہم پہلے ہی سیلاب اور تکلیف دہ حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق انہیں نئے خیمے یا ترپال فراہم نہیں کی گئیں اور موجودہ سامان دو سال پرانا ہونے کے باعث مکمل طور پر خراب ہو چکا ہے۔

فلسطینی این جی اوز نیٹ ورک کے سربراہ امجد الشوا نے کہا کہ تقریباً 15 لاکھ بے گھر افراد کے لیے فوری طور پر کم از کم 3 لاکھ نئے خیموں کی ضرورت ہے۔ فلسطینی سول ڈیفنس کے مطابق گزشتہ ہفتے کی بارشوں کے دوران ہزاروں خیمے پانی میں ڈوب گئے یا متاثر ہوئے جبکہ بعض خیمے سیلابی ریلے میں بہہ بھی گئے۔

طبی عملے کے مطابق ساحلی علاقے میں پانی کی سطح زمین سے 40 سے 50 سینٹی میٹر بلند ہو گئی، جس کے باعث ایک فیلڈ اسپتال کو اپنی معمول کی کارروائیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں سردیوں کے لحاظ سے امداد پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اسرائیلی پابندیوں کے باعث امدادی ٹرکوں کی تعداد محدود ہے۔ غزہ حکام اور امدادی اداروں کا بھی کہنا ہے کہ اسرائیل متعدد ضروری اشیا کے داخلے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ جنگ بندی کے تحت تمام وعدے پورے کر رہا ہے اور کسی قسم کی امداد کے داخلے کو نہیں روکتا۔