غزہ: اسرائیلی حملوں اور غذائی قلت کے باعث مزید 59 فلسطینی شہید

غزہ (الجزیرہ/نمائندہ خصوصی) غزہ میں اسرائیلی حملوں اور غذائی قلت کے باعث مزید 59 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق قحط کے اعلان کے بعد غذائی قلت سے مزید 8 فلسطینی جان کی بازی ہار گئے، جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں۔

“اسرائیلی حملوں کی تفصیلات”
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ہفتہ کے روز اسرائیلی حملوں میں غزہ بھر میں کم از کم 51 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 16 وہ افراد شامل ہیں جو امداد کے منتظر تھے۔طبی ذرائع نے بتایا کہ جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے شمال مغرب میں اسداع کے علاقے میں اسرائیلی توپخانے نے بے گھر خاندانوں کے خیموں کو نشانہ بنایا، جس میں 16 افراد شہید ہوئے، جن میں 6 بچے بھی شامل ہیں۔

اسی روز وسطی غزہ کے مغازی پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر ڈرون حملے میں 2 افراد شہید ہوئے جبکہ خان یونس کے جنوب مشرق میں امداد کے انتظار میں کھڑے ایک فلسطینی کو اسرائیلی فوج نے گولی مار کر شہید کر دیا۔
مزید برآں ایک شہری جو امداد لینے گیا تھا اسرائیلی کنٹرول والے نتساریم کوریڈور کے قریب فائرنگ کا نشانہ بنا۔

“غذائی قلت اور قحط کی صورتحال”
فلسطینی محکمہ صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غذائی قلت سے شہادتوں میں اضافہ ہوا ہے اور مجموعی طور پر انسانی بحران کے آغاز سے اب تک 281 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 114 بچے شامل ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البُرش نے کہا کہ قحط خاموشی سے شہریوں کے جسموں کو نگل رہا ہے، بچوں کو زندگی کے حق سے محروم کر رہا ہے اور خیموں و ہسپتالوں کو روزانہ کے سانحات میں بدل رہا ہے۔

“اقوام متحدہ کی وارننگ”
اقوام متحدہ نے جمعہ (22 اگست) کو باضابطہ طور پر غزہ میں قحط کا اعلان کیا، جو مشرقِ وسطیٰ میں اپنی نوعیت کا پہلا اعلان ہے۔ ماہرین کے مطابق 5 لاکھ سے زائد افراد شدید بھوک کا شکار ہیں۔ عالمی ادارے ’آئی پی سی‘ کے مطابق اس وقت 5 لاکھ 14 ہزار فلسطینی قحط میں مبتلا ہیں اور یہ تعداد ستمبر کے آخر تک بڑھ کر 6 لاکھ 41 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے قحط کو انسانی ہاتھوں سے پیدا کردہ سانحہ قرار دیا اور اسرائیل پر امدادی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا۔

“عینی شاہدین کی رائے”
الدیر البلح سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کی نامہ نگار ہند خضری نے کہا کہ غزہ کے بیشتر فلسطینی غذائی قلت کے شدید خطرے سے دوچار ہیں اور قحط کی یہ رپورٹ فلسطینی عوام کے مطابق بہت دیر سے جاری کی گئی ہے، کیونکہ وہ ہفتوں سے بھوک کی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں غزہ میں 62 ہزار 600 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں