غزہ: اسرائیلی حملے میں فلسطینی خاتون ڈاکٹر کے 10 میں سے 9 بچے شہید

غزہ(ایجنسیاں)غزہ کے شہر خان یونس میں ایک دل دہلا دینے والے اسرائیلی فضائی حملے میں فلسطینی خاتون ڈاکٹر علا النجارکے 10 میں سے 9 بچے شہید ہو گئے۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ڈاکٹر علا النجار ناصر اسپتال میں اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف تھیں۔ حملے کے نتیجے میں ان کے شوہر، ڈاکٹر حمدی النجار اور ایک11سالہ بیٹا شدید زخمی ہوئے۔

شہید ہونے والے بچوں کی عمریں 7 ماہ سے 12 سال کے درمیان تھیں، اور ان کے نام سدار، لقمان، سدین، ریوال، رُسلان، جُبران، ایو، راکان اور یحییٰ بتائے گئے ہیں۔ اسپتال کے عملے اور اہلِ خانہ کے مطابق، دو بچے اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر علا النجار کے شوہر شدید زخمی حالت میں آئی سی یو میں زیرِ علاج ہیں جبکہ زندہ بچ جانے والا واحد بچہ آدم بھی زخمی ہے اور ماں کے ساتھ نگران شعبے میں داخل ہے۔

الجزیرہ اور دیگر عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب غزہ میں خوراک اور طبی امداد کی شدید قلت ہے، اور اسرائیلی بمباری روزانہ کی بنیاد پر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہی کم از کم 52 فلسطینی شہری شہید ہوئے، جبکہ 4 سالہ محمد یاسین غذائی قلت کے باعث جاں بحق ہو گیا۔

اقوامِ متحدہ کی نمائندہ فرانچسکا البانیزے نے اس واقعے کو “نسل کشی کے نئے مرحلے” سے تعبیر کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔اس واقعے نے دنیا بھر کے ضمیروں کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ ڈاکٹر علا النجار کے ساتھی، ڈاکٹر احمد الفرا نے کہا”یہ بچے خاموش تھے، اب ان کی ماں بھی صدمے میں ہے — خدارا، کوئی ان بچوں کی آواز بنے۔”

ہم عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں، طبی اداروں، اور تمام انصاف پسند انسانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ظلم پر خاموش نہ رہیں۔ طبی عملے اور ان کے خاندانوں کو نشانہ بنانا نہ صرف انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ بھی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں