غزہ: اسرائیل کی این جی اوز پر پابندی سے انسانی بحران شدید ہونے لگا

غزہ(الجزیرہ)غزہ میں اسرائیل کی جانب سے 37 بین الاقوامی امدادی اداروں (این جی اوز) کے لائسنس منسوخ کیے جانے کے بعد انسانی بحران بدستور سنگین صورت اختیار کر گیا ہے جس سے ہزاروں افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ اس پابندی کے نتیجے میں صحت، خوراک اور دیگر ضروری امداد تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنگ زدہ علاقے کی آبادی بہت حد تک امداد پر منحصر ہے۔

اسرائیل نے این جی اوز کو یہ پابندی نئے سکیورٹی اور شفافیت کے معیار پر پورا نہ اُترنے پر عائد کی ہے، جس میں تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے عملے، مالیاتی ذرائع اور آپریشنز کی تفصیلات فراہم کریں۔ ان تنظیموں میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (MSF)، ناروِجین ریفیوجی کونسل، کیئر انٹرنیشنل، انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی، ورلڈ ویژن اور آکسم شامل ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دہشت گرد تنظیموں کے امدادی ڈھانچوں کے اندر گھسنے کی روک تھام کے لیے ضروری ہے، تاہم بین الاقوامی تنظیمیں اور ماہرین اس بیان کی تردید کرتے ہیں۔

غزہ کے مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے باعث امداد کے متبادل ذرائع نہیں ہیں، آمدنی کے ذرائع ختم ہو چکے ہیں، طبی مراکز محدود ہیں، اور زخمیوں اور مریضوں کا علاج مزید مشکل ہو گیا ہے۔ امدادی تنظیمیں پہلے ہی کم امداد کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں، اور ان پابندیوں سے صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

بین الاقوامی ردعمل میں کینیڈا، فرانس، جاپان، برطانیہ سمیت 10 ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں بین الاقوامی این جی اوز کو بلا رکاوٹ کام کرنے دے کیونکہ ان کے بغیر فوری انسانی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے بھی اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ پابندی انسانی بحران کو مزید خراب کرے گی۔

معاہدے کے تحت ان اداروں کو 1 مارچ 2026 تک اپنی سرگرمیاں مکمل کرنا ہوں گی، اور ان کا لائسنس معطل ہو جائے گا، جس سے صحت، خوراک، پناہ گاہوں، پانی اور دیگر بنیادی خدمات پر منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انسانی بحران پہلے ہی تشویش ناک ہے، اور امدادی سرگرمیوں کو محدود کرنے سے صورتحال مزید بدتر ہو سکتی ہے۔