غزہ سٹی – (الجزیرہ)غزہ پر اسرائیلی فوج کے تازہ وحشیانہ حملوں میں مزید 39 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ حملوں میں شدت آتی جارہی ہے اور صرف آج صبح سے اب تک درجنوں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق شہداء میں سے 27 افراد غزہ سٹی میں صہیونی حملوں کا نشانہ بنے جہاں اسرائیلی فوج گھروں پر بڑے پیمانے پر بمباری کر رہی ہے تاکہ علاقے پر قبضہ کر کے تقریباً 10 لاکھ افراد کو جبری طور پر بے دخل کیا جا سکے۔
غزہ کے سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے کہا کہ اسرائیلی فوج دانستہ طور پر گنجان آباد رہائشی محلوں میں بمباری کر رہی ہے تاکہ شہریوں کو پٹی کے جنوبی حصے کی جانب ہجرت پر مجبور کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطینیوں کو بنیادی ضروریات سے محروم بے دخلی کیمپوں میں دھکیلنا بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ اس پالیسی کو فوراً روکا جائے۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اکثر فضائی حملوں کے دوران اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر تباہ شدہ گھروں کو واپس لوٹ آتے ہیں۔
” غزہ کے بچوں میں خوراک کی شدید قلت”
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے مطابق غزہ میں شدید غذائی قلت کی صورتحال خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اگست میں اسکرین کیے گئے بچوں میں 13.5 فیصد شدید غذائی قلت کے شکار پائے گئے جو جولائی میں 8.3 فیصد تھے۔ غزہ سٹی میں یہ شرح 20 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کا تناسب اسپتالوں میں 23 فیصد ہو گیا ہے جو چھ ماہ پہلے 12 فیصد تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ غذائی مراکز کا تحفظ اور ان تک فوری رسائی یقینی بنائی جائے تاکہ مزید انسانی جانیں ضائع ہونے سے بچ سکیں۔
غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری اور جبری بے دخلی نے انسانی بحران کو شدید تر کر دیا ہے، جبکہ عالمی ادارے فوری جنگ بندی اور امدادی رسائی پر زور دے رہے ہیں۔

