دوحہ (رائٹرز/اے ایف پی) خلیجی ریاست دوحہ میں جاری سالانہ سفارتی اجلاس Doha Forum 2025 سے خطاب کرتے ہوئے شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری تقریباً دو ماہ پرانی جنگ بندی اُس وقت تک مکمل نہیں سمجھی جا سکتی جب تک امریکی اور اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ امن منصوبے کے تحت اسرائیلی فورسز فلسطینی علاقے سے واپس نہ چلی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں اور حقیقی امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک غزہ میں استحکام نہ آئے، لوگ آزادانہ سفر نہ کر سکیں اور مقبوضہ علاقوں سے فوجی انخلا مکمل نہ ہو جائے۔
قطر، امریکا اور مصر کی ثالثی سے 10 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ بندی نے شدید لڑائی کو عارضی طور پر روکا تاہم معاہدے کے دوسرے مرحلے جس میں اسرائیلی انخلا، عبوری حکومت اور بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کی تعیناتی شامل ہے ابھی شروع ہونا باقی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم صرف پچھلے دو برسوں کے واقعات ختم کرنے پر اکتفاکرینگے تو کافی نہیں اس تنازعے کا پائیدار حل صرف انصاف پر مبنی ہو سکتا ہے، جس میں دونوں قوموں کے حقوق کی ضمانت ہو۔

