غزہ میں بچوں کو مارنا مشغلہ بن چکا ہے: سابق اسرائیلی جنرل یائر گولان

تل ابیب / یروشلم (ایجنسیاں) اسرائیلی فوج کے سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف، موجودہ اپوزیشن رہنما اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سرکردہ سیاست دان یائر گولان نے ایک حیران کن اعتراف میں کہا ہے کہ “غزہ میں بچوں کو مارنا ہمارا مشغلہ بن چکا ہے” اور اسرائیلی ریاست اپنی پالیسیوں کے باعث عالمی تنہائی کا شکار ہو رہی ہے۔

یہ بیان انہوں نے ایک مقامی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے دیا جسے امریکی نشریاتی ادارہ ’این بی سی‘ نے رپورٹ کیا۔ یائر گولان کا کہنا تھا”ایک باشعور ریاست عام شہریوں کے خلاف جنگ نہیں لڑتی، بچوں کو مارنا اس کا مشغلہ نہیں ہوتا، اور وہ آبادیوں کو بے دخل نہیں کرتی۔”

انہوں نے اسرائیل کی موجودہ پالیسیوں کا موازنہ جنوبی افریقہ کی نسلی امتیاز (Apartheid) پر مبنی حکومت سے کرتے ہوئے کہا کہ”یہودی قوم نے ظلم، نسل کشی اور قتلِ عام کا سامنا کیا، اور آج وہی اقدامات خود دہرا رہی ہے، جو مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔”

اس بیان پر اسرائیلی سیاسی حلقوں میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔ وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے گولان کے تبصرے کو “ریاست اور فوج کے خلاف اشتعال انگیزی” قرار دیا۔وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ یہ “نفرت انگیز اور جھوٹا پروپیگنڈا ہے” جو حاضر سروس فوجیوں کا مورال گرانے کی کوشش ہے۔وزیرِ خزانہ بیزالیل سموترچ نے گولان پر “دانستہ جھوٹ بول کر آئی ڈی ایف (اسرائیلی ڈیفنس فورسز) کو بدنام کرنے” کا الزام لگایا۔

تاہم، سابق وزیرِ اعظم ایہود باراک نے یائر گولان کی حمایت کرتے ہوئے انہیں “بہادر اور سچ بولنے والا شخص” قرار دیا اور واضح کیا کہ ان کا ہدف فوجی نہیں بلکہ حکومت کی قیادت ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ میں اسرائیلی افواج کی بمباری سے ہزاروں معصوم فلسطینی شہری، خصوصاً خواتین اور بچے، شہید ہو چکے ہیں۔اسرائیل نے خان یونس کے تمام رہائشیوں کو جبری انخلا کے احکامات جاری کر دیے ہیں اور نیتن یاہو نے غزہ پر مکمل قبضے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب، برطانوی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کر دیے ہیں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں