غزہ میں عیدالفطر جنازوں کا دن بن گئی، اسرائیلی بمباری میں 20 فلسطینی شہید

غزہ (نیٹ نیوز) مسلسل دوسرے سال بھی رمضان المبارک کے اختتام پر عیدالفطر کی روایتی تقریبات کا سلسلہ جاری رہا، اور فلسطینی علاقے کے باشندے اسرائیلی بمباری کی گونج سے بیدار ہوئے، جس میں کم از کم 20 فلسطینی شہید ہو گئے۔

غزہ کی امدادی ٹیموں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اتوار کی علی الصبح خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے میں 5 بچوں سمیت 8 افراد شہید ہو گئے۔

کچھ لوگوں نے ملبے کے درمیان سڑکوں پر نماز کی چادریں اتاریں، جب کہ دیگر نے مساجد کے اندر نماز ادا کی ، جس میں قدیم عمری مسجد بھی شامل ہے ، جس کی دیواریں اب بمباری کی وجہ سے گر چکی ہیں۔

بہت سے لوگوں نے غزہ کے ہزاروں بے گھر افراد کو پناہ دینے والے عارضی خیموں کے پاس نماز ادا کی، جو سنگین انسانی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

وسطی غزہ کے نصیرات پناہ گزین کیمپ میں متعدد رہائشیوں نے جنگ میں شہید ہونے والے پیاروں کی قبروں پر حاضری دی، جب وہ دعا کر رہے تھے تو توپ خانے کی فائرنگ اور فوجی ڈرونز کی گونج فضا میں پھیل گئی۔

الجزیرہ نے صحت کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں اتوار کی صبح سے اب تک 5 بچوں سمیت 20 افراد شہید ہو چکے ہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ المواسی پر فضائی حملے میں شہید ہونے والی 3 نوجوان لڑکیوں کو تصدیق شدہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتاہے، اور وہ عید الفطر کے موقع پر نئے کپڑے پہنے ہوئے تھیں۔

حماس کے زیر انتظام علاقے کی وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد سے اب تک غزہ میں 900 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل نے غزہ میں ایک فوجی کارروائی کے دوران کم از کم 50 ہزار 277 افراد کو شہید کیا، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے اتوار کے روز غزہ کے شہر رفح سے مزید 11 لاشیں ملنے کی تصدیق کی ہے, جن میں سے 6 کی شناخت اس کے ارکان اور 4 شہری دفاع ایجنسی کے اہلکاروں کے طور پر کی گئی ہے۔

ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ اس کے 3 طبی عملہ کے ارکان اور شہری دفاع کا ایک اہلکار ’لاپتہ‘ ہے۔طبی عملے اور عینی شاہدین نے بتایا کہ خان یونس اور غزہ کے کچھ دیگر حصوں میں اسرائیلی فضائی حملے دن بھر جاری رہے۔طبی ماہرین کے مطابق رفح میں فضائی حملے میں دو بچے زخمی ہوئے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے مرکزی قصبے دیر البلاح میں عادل الشائر نے کہا کہ یہ غم کی عید ہے۔

عادل الشائر نے کہا کہ غزہ پر حملے شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں انہوں نے اپنے خاندان کے 20 افراد کو کھو دیا، جن میں چند روز قبل ہی 4 نوجوان بھتیجے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اپنے پیاروں، اپنے بچوں، اپنی زندگیوں اور اپنے مستقبل کو کھو دیا، ہم نے اپنے طالب علموں، اپنے اسکولوں اور اپنے اداروں کو کھو دیا، ہم نے سب کچھ کھو دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں