غزہ کا حل اور بوتل کا جِن؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ جنگ بندی کا کریڈٹ لیتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے دورے کا اعلان کر دیا اور کہا ہے کہ وہ تل ابیب اور مصربھی جائیں گے اور اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب بھی کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس انعام کے امیدوار تھے تاہم ونیزویلا کی لیڈرآف اپوزیشن کی طرف سے امن کا نوبل انعام اپنے عوام اور ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کر دیا گیا ہے اس پر وہ مطمئن ہو گئے کہ وہ خود امیدوار تھے لیکن قرعہ فال ان کے نام نہ نکلا، البتہ وہ خوش ہو گئے کہ انعام یافتہ خاتون نے خود ان کو فون کرکے انعام ان کے نام کرنے کے اعلان کا بتایا، امریکی صدر جب بھی بات کرتے ہیں وہ سابقہ موقف کو دہراتے ہیں، اس بار پھر انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 8جنگیں رکوائیں، جن میں پاک بھارت جنگ بھی ہے جو دو ایٹمی حیثیت کے حامل ملکوں کے درمیان تھی اور اس میں سات طیارے گرائے گئے۔ دلچسپ امر ہے کہ بھارت انکار کرتا اور ٹرمپ اصرار کئے جاتے ہیں، یوں یہ تصدیق شدہ امر بن چکا کہ پاک شاہینوں نے مئی میں بھارت کا کیا حال کیا تھا، بھارت اب تک اپنے بیانیے میں جھٹلاتا چلا آ رہا ہے، پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہو گیا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھارتی حکومت مودی کی قیادت میں برصغیر کے امن کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے او راسے مئی والے لگے زخم بھول نہیں رہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی طرف سے افغانستان میں موجود اپنے کارندوں کے ذریعے دہشت گردی میں اضافہ کیا گیاہے۔ مسلسل دہشت گردی ہی کے باعث ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کو طویل پریس کانفرنس میں واضح کرنا پڑا کہ اب کوئی گنجائش نہیں، ”سٹیٹس کو“ نہیں رہے گا، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ملک کے ساتھ ہیں یا ملک دشمن عناصر کی حمائت اور کارروائیاں جاری رکھیں گے لہٰذا ان کو اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ ریاست کے ساتھ ہیں یا دشمن، اور دشمن کا کوئی لحاظ نہیں ہو گا، ڈائریکٹر جنرل نے جو دوسری اہم تر بات کی وہ یہ کہ خوارج دوست حکومت برداشت نہیں، تجزیہ نگار اب واضح ہیں کہ تحریک انصاف میں اعتدال پسند حضرات ہار گئے اور بانی کی انا کامیاب ہے اور وہ کسی بھی حالت میں صلح جو نظر نہیں آ رہے۔ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کو اس کا مظہر خیال کیا جا رہا ہے،علی امین گنڈا پور نے استعفیٰ دیا اور منظوری سے قبل اپنے آبائی گھر چلے جانا بھی ایک اہم موڑ ہے کہ ابھی تک گورنر کی طرف سے استعفیٰ منظور نہیں کیا گیا وہ جائزہ لے رہے ہیں جبکہ نامزد قائد ایوان نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں قدم رنجا فرما لئے ہیں، اب جو نئی بحث شروع ہے وہ یہ کہ کیا، یہ تبدیلی اسی طرح ہوگی کہ علی امین گنڈا پور یہ کہتے گئے ہیں کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کی اکثریت مسلم ہے اسے کوئی کم نہیں کر سکتا، جبکہ حزب اختلاف اپنی صفوں کو اکٹھا کرکے اپنا وزیراعلیٰ لانے کی کوشش میں ہیں اور یہ کشمکش وہاں جاری ہے اور اسی دوران پریس کانفرنس ہوئی۔ بہرحال یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ صورت حال کیا بنتی ہے، اگرچہ ضرورت امن و امان اور مکمل اتفاق رائے کی ہے کہ مستقل حریف صرف دہشت گردی ہی کی معاونت نہیں کر رہا بلکہ اب تو طالبان کی عبوری حکومت کی مالی امداد کی ذمہ داری بھی اٹھانے والا ہے۔ یہ بھی تشویشناک بات ہے، خواجہ محمد آصف کا بیان بہت واضح ہے۔ بانی کی تبدیلی کا ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ جنید اکبر نے پریس کانفرنس کے جواب میں اصرار کیا کہ وہ خوارجیوں کیساتھ مزاکرات کرنے کے حق میں ہیں۔

ابتدا امریکی صدر ٹرمپ کے امن پروگرام اور دورہ کی اطلاع سے کی تھی، صورت حال یہ ہے کہ نہ صرف عرب ممالک بلکہ خود حماس اور فلسطینیوں نے بھی معاہدہ قبول کرلیا اور غزہ میں حالت جنگ ختم ہونا شروع ہو چکی، معاہدے کے بارے میں ٹرمپ ہی ضامن ہیں اور جب وہ متاثرہ ممالک کا دورہ کرکے بات کریں گے تو مزید وضاحت ہو جائے گی۔ غزہ کے حالات سے منسلک مسلم ممالک نے بھی اطمینان ظاہر کیا اور نہ صرف معاہدہ پر اطمینان ظاہر کیا بلکہ معاونت کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ اب اس سے اگلا قدم غزہ میں مکمل امن اور متاثرین کو خوراک اور ضروریات زندگی کی فراہمی کے بعد تعمیر نو کا آغاز ہے۔ اس سلسلے میں صدر ٹرمپ امیر عرب ممالک پر بوجھ منتقل کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ کی سطح پر غزہ تعمیر نو فنڈ کااجراء کیا جائے جس میں سب ہمدرد ممالک حصہ ڈالیں اور تعمیر نو جلد ہو سکے۔

اس حوالے سے جس طرح غزہ حامی مسلم ممالک نے اپنی تگ و دو کی، اس کے پیش نظر ہمیں بھی یہ توقع رکھنا چاہیے کہ مستقبل بہتر اور پاکستان کے موقف کے مطابق دو ریاستی حل ہوگا اور فلسطینی ریاست کا دارالحکومت القدس ہوگا اس سلسلے میں پاکستانی موقف اول سے اب تک واضح رہا اور کسی بھی مرحلے پر اس میں تبدیلی نہیں آئی۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ہمارے پاکستانیوں کے دل اسرائیل کو نہیں مانتے اور دو ریاستوں کے منصوبے پر اعتراض کرتے ہیں، اس حوالے سے یہ بحث بھی ہوتی ہے کہ اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم نہ کیا جائے۔ حکومت پاکستان نے اس حوالے سے بھی واضح اعلان کیا ہے البتہ ہمارے وہ حلقے اس پر یقین نہیں کرتے تاہم یہ بھی نہیں بتا پاتے کہ حکومت کو کیا کرنا چاہیے جبکہ حکومت کی طرف سے فلسطینیوں کی حمائت اور اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم نہ کرنے کا اعلان سامنے ہے۔

اسی سلسلے میں ایک دینی جماعت تحریک لبیک نے ملک بھر میں مشکل پیدا کر دی ہے، اس کی طرف سے غزہ مارچ کا اعلان کیا گیا جو لاہور سے اسلام آباد جانا تھا، اس سلسلے میں انتظامیہ نے اجازت نہ دی اور تحریک لبیک والوں نے مانا نہیں، چنانچہ ابتداء لاہور سے ہوئی، یہاں رکاوٹوں کے خلاف اشتعال میں آکر کارکنوں نے ہنگامے کئے لاہور دو روز تک پریشان رہا،ٹریفک کی گڑبڑ کے علاوہ سرکاری ٹرانسپورٹ بند کی گئی جس سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا ہوا،اب یہ سلسلہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہروں تک پھیل گیا ہے۔ مرکزی شاہراہوں کو بند کرنے سے مرکزی پنجاب بھی متاثر ہوا ہے، اس حوالے سے بعض دانشور حلقوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ انتظامیہ نے غلط حکمت عملی سے ایک چھوٹے احتجاج کو خود بڑے نقصان میں تبدیل کر لیا ہے، اس اعلان سے اتنا زیادہ مضطرب ہو کر یوں راستے، ٹرانسپورٹ اور ذرائع مواصلات بند کرنا ضروری نہیں تھا،بلکہ بہتر حکمت عملی سے خفیہ اطلاعات کے حوالے سے مظاہرین کو ان کے علاقے میں روکا جاتا اور مرکزی قافلے کو اس کے اپنے دفاتر تک محدود رکھنے کی کوشش کی جاتی۔

یہ تحریک لبیک وہی ہے جس کا فیض آبادی دھرنا بڑا مشہور ہوا اور سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے میں بھی بہت کچھ ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ تقویت کب کیسے اور کہاں سے ملی اور اب انتظامیہ کی اضطراب تر والی حکمت عملی نے ثابت کر دیا کہ کسی جِن کو قابو میں کرکے بوتل میں بند کیا جا سکتا ہے لیکن پھر اسی بوتل کا ڈھکنا کھول کر جِن کو آزاد کیا جائے تو وہ شرارت پر اتر آتا اوردوبارہ بندنہیں ہوتا، یہ بھی ہم سب کے لئے قابل غور بات ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں