”غیر ترقیاتی بجٹ“ بڑھانے والے ملک کے خیرخواہ کیسے؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس وقت وفاقی حکومت کے ”غیر ترقیاتی بجٹ“ کا حجم کیا ہے؟ اگر نہیں جانتے تو بتاتا چلوں کہ یہ 16ہزار 286ارب روپے ہے۔ جو حکمران اپنی عیاشیوں، مراعات اور تنخواہوں کی مد میں خرچ کرتے ہیں،،، ویسے ”سرکاری “ طور پر غیر ترقیاتی بجٹ (Non-Developement Budget) اس بجٹ کو کہا جاتا ہے جو حکومت اپنے روزمرہ کے اخراجات کو پورا کرنے کیلئےمختص کرتی ہے۔ جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، پنشن، مراعات، سرکاری رہائشیں، اُن کے یوٹیلیٹیزبلز( جن میں بجلی، گیس، پانی، ٹیلیفون وغیرہ کے اخراجات نمایاں ہیں،،،)، سود کی ادائیگی، سبسڈی( جو متوقع طور پر گندم اور چینی کیلئے دی جائے گی، حالانکہ اس سال کسان نے کوڑیوں کے بھاﺅ گندم فروخت کی ہے، مگر مجال ہے سرکار نے اپنے کسان کی گندم خریدی ہو۔ لیکن اب جب گندم کی قلت ہوگی تو اس پر سبسڈی دے کر امپورٹ کی جائے گی اور اوپر سے نیچے تک سبھی کی لمبی لمبی دیہاڑیاں لگیں گی۔ ) اس کے علاوہ دفاعی بجٹ ، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اخراجات، اشرافیہ کے بیرون ملک ان گنت دورے اور دیگر انتظامی ضروریات غیر ترقیاتی بجٹ میں آتی ہیں۔
حیرت اس بات پر ہے کہ یہ ہر سال بڑھتا ہے، اور اس سال بھی اس میں 12فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے،،، اور یہی نہیں بلکہ چاروں صوبوں نے غیر ترقیاتی بجٹ میں ہو شربا اضافہ کیا ہے۔ جیسے پنجاب کے مجموعی غیر ترقیاتی بجٹ میں 6فیصد اضافہ کرکے 2706کر دیا گیا ہے، سندھ حکومت نے نئے سال کے بجٹ میں مختلف محکموں کے غیر ترقیاتی اخراجات میں بھی 10فیصد سے زائد اضافہ کیا ہے،،، اور جبکہ خیبر پختونخوا نے مالی سال 26-2025 کیلئے 2119 ارب روپے کے بجٹ میں 1600ارب روپے غیر ترقیاتی بجٹ کیلئے مختص کیے ہیں۔ اور بلوچستان میں بھی یہی صورت حال ہے، یعنی 1000ارب کے بجٹ میں غیر ترقیاتی بجٹ 8فیصد اضافے کے بعد 800ارب روپے سے زائد ہے۔ قصہ مختصر کے جہاں ترقیاتی بجٹ کو بڑھنا چاہیے وہیں غیر ترقیاتی بجٹوں میں ہوش ربا اضافہ کرکے عام آدمی کو ناکوں چنے چبوائے جا رہے ہیں۔ اور یہ کسی ایک حکومت کے دور کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ جمہوری دور ہو یا ڈکٹیٹر شپ ادوارہمیں ہر دور میں، خواہ کوئی بھی سیاسی جماعت برسر اقتدار ہو، ”غیر ترقیاتی “ اخراجات بڑھانے کیلئےمختلف طریقوں سے حیلے بہانے کرتے ہی دکھائی دے گی۔ اپنی شاہ خرچیاں اور زندگی گزارنے کا ڈھنگ کبھی نہیں بدلا، اگر بدلا کچھ تو عوام کے ہی طور طریقے۔ یہ اپنے کپڑے بیچنے کی بات تو کرتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ اتنے بے حس ہیں کہ اگر اختیار میں ہو تو عوام کی چمڑی اور ہڈیوں تک کو بیچ ڈالیں۔ یہ سب ان کی لفاظی اور حیلے بہانے ہر دور میں رہے ہیں مگر چھری ہمیشہ عوام کی گردن پر ہی چلی ہے۔اور گردن کاٹنے کا یہ عالم ہے کہ لائن لاسز(بجلی چوری) کے 500ارب روپے بھی عوام ہی سے اینٹھے جا رہے ہیں۔
اور تو اور اپنی عیاشیاں پوری کرنے کیلئے اس سال 2ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگائے گئے ہیں اور سنا ہے منی بجٹ کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیںاور عوام کو جو ہر سیاستدان کہتا ہے کہ ہم نے غیر ترقیاتی بجٹ کم کیے ہیں وہ لالی پاپ دینے کے سوا کچھ نہیں، جو یونہی بے سود ثابت ہوگا، کیونکہ نہ تو یہ لگژری گاڑیوں کے بنا رہ سکتے ہیں اور نہ ہی پروٹوکول کے۔اگر ہم مرکز کے 16ہزار 286ارب کے غیر ترقیاتی بجٹ کا آپریشن کریں تو اس میں سے 8ہزار ارب روپے قرضوں کی اقساط کی مد میں، 25سو ارب روپے دفاع کے بجٹ کیلئے 4ہزار ارب روپے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کیلئےجبکہ کم و بیش دو ہزار ارب روپے سے زائد کی رقوم ان کی عیاشیوں کیلئے ہیں جن میں وزراءکے آفسز، کیمپ آفسز، ایم این اے، ایم پی ایز کی تنخواہیں، مراعات ، گاڑیاں ، گاڑیوں کا سٹاف، پروٹوکول، مخالفین کو دبانے کیلئے یہ جو پیسے خرچ کرتے ہیں، پھر ان کے پسندیدہ ملزمان کی ٹریولنگ پر اخراجات،،، اُن کی سیکیورٹی پر اخراجات ،،، درجنوں ٹھاٹھیں مارتی گاڑیوں کا پروٹوکول یہ سب غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں ہی آتا ہے،،، ایک وزیر دوست بتا رہا تھا کہ 10گاڑیاں اُن کے پروٹوکول میں شامل ہیں،،، جس کے بغیر پروٹوکول آفیسر کہیں ٹریول کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ پھر گورنرز کے پروٹوکول بھی ایسے شاہانہ ہیں کہ عام آدمی سر پیٹتا رہ جاتا ہے۔ پھر آپ یہ دیکھیں کہ ان کے غیر ملکی دوروں پر کھربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں،،، اگر کسی وزیر نے نجی دورہ بھی کرنا ہے تو وہ اُسے سرکاری دورے میں تبدیل کرکے اپنا اور فیملی کے بیسیوں افراد کا دورہ سرکاری دورے میں تبدیل کر دیتے ہیں تاکہ وہ مفت میں سرکاری پروٹوکول کو انجوائے کر سکیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ یہاں سے قرض لینے جانے والے بھی امریکا یا کسی اور ملک میں سفارتخانے میں رہنے کے بجائے فائیو یا سیون سٹار ہوٹل میں ٹھہرتے ہیں،،، جبکہ قرضے دینے والے عام ہوٹلوں میںقیام کرتے ہیں۔
اور پھر ہمارے حکمران آجکل آذربائیجان یا بیلا روس بہت زیادہ جا رہے ہیں،،، بندہ پوچھے ان غریب ممالک نے ہمیں کیا دینا ہے؟ لیکن وہاں ضرور ان کا کوئی نہ کوئی ذاتی پراجیکٹ نکل آئے گا۔ یا تو یہ وہاں پر فیکٹریاں لگا رہے ہوں گے،،، یا اور پھر ہر سال ہزاروں قسم کی نئی گاڑیاں صرف پروٹوکول کے لیے خریدی جا رہی ہیں،،، حالانکہ ان پر پابندی لگا دینی چاہیے کہ ان وزرائ، بیوروکریسی کیلئےمہنگی گاڑیاں نہیں خریدی جا سکیں گی،،، میرے خیال میں تو ان کیلئےامپورٹڈ گاڑیوں پر پابندی لگنی چاہیے۔ کیا یہ چیزیں آئی ایم ایف کو نظر نہیں آتیں؟ یا آئی ایم ایف کو صرف عوام کو دی جانے والی سبسڈی ہی نظر آتی ہے،،،، اس پر وہ اتنی سختی نہیں کرتا، جتنی اُس نے سبسڈیز ختم کروانے پر کی ہے۔ حالانکہ بجلی وغیرہ پر سبسڈی 25کروڑ عوام کیلئےمحض 3،4سو ارب روپے تھی۔ لیکن انہوں نے وہ فوری طور پر ختم کرکے سارا بوجھ عوام پر منتقل کردیا۔ مگر کسی نے یہ نہیں کہا کہ ان غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کیا جائے۔ حالانکہ آئی ایم ایف تو کبھی نہیں چاہے گا کہ قرض ختم ہو، کیوں کہ اُن کے اپنے مفادات اس سے جڑے ہیں، وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان اُن کے چنگل سے نکل سکے،،، وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان اپنی مرضی کا بجٹ بنائے،،، یا وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ اسٹیٹ بنک کے اختیارات پاکستان کو واپس کر دیے جائیں،،، وہ یہاں سے سود سمیت رقم بھی واپس لیں گے اور اپنی مرضی کی کٹوتیاں بھی کریں گے اور قرضہ ختم بھی نہیں ہونے دیں گے۔
اور پھر اگر قرض لینے کی شرح اتنی ہی تیزی سے رہے گی تو وہ وقت زیادہ دور نہیں کہ ملک میں خانہ جنگی شروع ہوجائے۔ خانہ جنگی کیلئےکسی بارود یا توپ کے گولے کی ضرورت نہیں، ا±س کےلیے بھوک ہی کافی ہے۔یہ حکمران جو بھاگ بھاگ کر آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں، میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ ان کے گھروں کی تلاشی لی جائے تو اربوں ڈالرز ان کے گھروں سے ہی برآمد ہوجائیں گے، ان کے بینک لاکرز کی تلاشی لی جائے تو وہاں سے بہت کچھ ملے گا۔اگر ملک و قوم سے اتنی ہی ہمدردی ہے ان لوگوں کو تو وہ چھپایا ہوا مال نکالیں۔ اگر یہ سیاستدان بیرون ملک جاکر پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرسکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں کرسکتے؟ بند کریں یہ پروٹوکول، ایک ایک وزیر، مشیر اور بیوروکریٹ کے پاس دس، دس گاڑیاں کھڑی ہیں۔ کیوں یہ اشرافیہ ملک کیلئےقربانی نہیں دے سکتی۔
بہرحال ہمارے ملکی معیشت کی تباہی کی اصل وجہ یہ ہے کہ غریب کی پالیسی امیر بناتے ہیں، جس نے کبھی غربت نہیں دیکھی ہوتی، جو سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ پھر کیسی درستگی، کیسی تبدیلی اور کیسا غریب کا درد؟ یہ صرف اور صرف عوامی گفتگو کا موضوع بنے ہوئے ہیں، مگر اس کے باوجود روز بہ روز مہنگائی اپنے عروج پر ہے۔ کابینہ کا غیر معمولی حجم بھی اپنی جگہ قائم و دائم ہے۔ اگر وزیراعظم کو عوام کا اتنا ہی خیال ہے تو سب سے پہلے کابینہ چھوٹی کریں،،، لیکن اس کے برعکس سنا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی بھی حکومت کا حصہ بننے جا رہی ہے،،، ، پھر تو وزراءکا حجم ڈبل ہو جائے گا،،، خیر آج ہم معاشی تنگی کا شکار ہیں۔ کفایت شعاری کو ایک مستقل قومی رویہ بنانے کی ضرورت ہے۔ کفایت شعاری کی موسمی مہموں سے صرف وقتی افاقہ ہی ہوگا جبکہ ہمیں اسراف اور قومی دولت کے ضیاع کا دیرینہ عارضہ لاحق ہے۔ حالانکہ کچھ سال قبل برطانیہ کو بھی معاشی خسارے کا سامنا تھا مگر وہاں کے وزراءکی طرف سے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں رضاکارانہ طور پر کمی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ مگر وطن عزیز میں ایسی کوئی مثال ہمارے سامنے موجود نہیں ہے،،، بلکہ اسپیکر ، ڈپٹی سپیکر ، وزراءاور دیگر اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں کھربوں روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حالانکہ صاحب استطاعت اراکین تنخواہوں اور مراعات سے دستبردار ہو سکتے ہیں،،، مگر مجال ہے کہ انہوں نے کبھی ایسا کرنے کی کوشش کی ہو! وہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کو اپنا پسندیدہ مشغلہ سمجھتے ہیں۔
حالانکہ انہیں یہ بات نظرانداز نہیں کرنی چاہئے کہ ان کے اخراجات کے لئے فراہم کیا گیا سرمایہ درحقیقت عوام کا وہ لہو ہے جو محنت و مشقت کے ذریعے سکوّں اور کرنسی نوٹوں میں ڈھلتا ہے۔ اس خون کو اللوں تللوں کے ذریعے جس بیدردی سے ضائع کیا جارہا ہے وہ ان غریبوں پر بڑا ظلم ہے جنہیں پیٹ بھر خوراک تک سے محروم کیا جاچکا ہے۔ ان پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے یا بجلی، گیس، پیٹرول، پانی سمیت ضروری اشیاءکی مہنگائی مسلط کرنے کامطلب انہیں مزید نچوڑنا ہے۔لہٰذااللہ تعالیٰ سے دست بستہ گزارش ہے کہ ہمیں ان کے چنگل سے آزاد کروائے اور ان کے دل میں رحم پیدا کرے تاکہ یہ عوام کے خون پسینے کی کمائی کو پانی کی طرح بہانے سے گریز کریں،،، اور غیر ترقیاتی فنڈز کی مد میں ہر سال اضافے کو یہ مکروہ سمجھنے لگیں،،، ورنہ ان سے بڑا کوئی ظالم نہ ہوگا اور ظالم کے بارے میں قرآن پاک کی ایک آیت کا مفہوم ہے کہ ”اگر ایک جماعت دوسروں پر زیادتی ظلم کرے تو باغی اور ظالم جماعت سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم پر آجائے۔“

اپنا تبصرہ لکھیں