غیر ملکی شہریت رکھنے والوں کو پالیسی سازی سے الگ کیا جائے: ابوذر شاد

لاہور (نمائندہ خصوصی) لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر ابوذر شاد نے کہا ہے کہ پاکستان میں دوہری شہریت رکھنے والے افراد کو قومی پالیسی سازی اور انتخابی عمل میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ “جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو علاج کے لیے لندن چلا جاتا ہے اور جب صحت یاب ہوتا ہے تو پاکستان واپس آکر لوٹ مار شروع کر دیتا ہے، یہ دہرا معیار ملک کو تباہ کر رہا ہے۔”

ابوذر شاد نے دوہری شہریت کے حامل بااثر افراد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں کوئی بھی دوہری شہریت رکھنے والا شخص نہ تو الیکشن لڑ سکتا ہے اور نہ ہی صنعت قائم کر سکتا ہے، لیکن پاکستان میں ایسے لوگوں کے لیے تمام دروازے کھلے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی تباہی کی ایک بڑی وجہ صنعتی شعبے کی کمزوری اور درآمدات پر انحصار ہے۔ “ہم نے ملک کو انڈسٹریلائز کرنے کے بجائے تجارتی ملک بنا دیا ہے، یہاں پانی کے گلاس کا خام مال بھی درآمد ہوتا ہے۔”

صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ “چالیس سال سے ٹویوٹا، ہونڈا اور سوزوکی وعدے کر رہے ہیں کہ مقامی سطح پر مکمل مینوفیکچرنگ کریں گے، مگر آج تک نہیں کی۔”

انہوں نے نظام میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “اگر نیا نظام بنانا ہے تو سب سے پہلے پرائیویٹ اسکولوں کے طلبہ کو سرکاری نوکریوں اور سی ایس ایس امتحان سے الگ کیا جائے، تاکہ حکومت کے تعلیمی ادارے بہتر ہوں۔”

ابوذر شاد نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سرکاری اسپتالوں میں غیر ملکیوں کا بھی مفت علاج کیا جاتا ہے، “میں خود بھارت میں بیمار ہوا، ایمرجنسی میں ایک روپیہ نہیں لیا گیا۔”انہوں نے کہا کہ “قومیں اس طرح نہیں بنتیں، قوموں کی تعمیر کے لیے سوچ کی ضرورت ہوتی ہے۔”

اپنا تبصرہ لکھیں