فحاشی اور اخلاقی زوال: پاکستان کا مہلک دشمن

پاکستان اس وقت کئی چیلنجز اور آزمائشوں سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف سیاسی انتشار ہے اور دوسری طرف دہشت گردی، جس نے ہزاروں قیمتی جانیں نگل لی ہیں۔ لیکن ان دونوں بڑے مسائل کے شور میں ایک تیسرا، اتنا ہی سنگین مسئلہ یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اگر اس پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو نگل جائے گا۔ یہ خطرہ ہے ڈیجیٹل اور بصری میڈیا کے ذریعے پھیلتی ہوئی فحاشی اور اخلاقی زوال کا، جو نوجوانوں کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔ یہ وہ خاموش زہر ہے جو ذہنوں کو مفلوج کر کے پورے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔

آج یوٹیوب، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر فحش اور بے ہودہ ویڈیوز لاکھوں ویوز حاصل کر رہی ہیں۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ہمارے معاشرے میں رجحانات کس تیزی سے بدل رہے ہیں۔ وہ حرکات جو چند دہائیاں پہلے ناپسندیدہ اور شرمناک سمجھی جاتی تھیں، آج تفریح کے نام پر عام ہو گئی ہیں۔ خصوصاً نوجوان نسل، جو کل کو قوم کی قیادت سنبھالنے والی تھی، اس دلدل میں پھنستی جا رہی ہے۔ پختونخواہ کا خطہ، جو کبھی روایات، غیرت اور اخلاقیات کا امین سمجھا جاتا تھا، اب اخلاقی اور معاشرتی انحطاط کا شکار ہے۔ پشتو فلموں، یوٹیوب ڈراموں اور سوشل میڈیا پر ایسی واہیات بھر دی گئی ہیں جن کا پختون ثقافت سے کوئی تعلق نہیں، لیکن جنہیں بڑے پیمانے پر پذیرائی مل رہی ہے۔ یہی حال پاکستان کے دوسرے تمام علاقوں کا بھی ہے، جہاں تفریح کے نام پر عریانی اور بے راہ روی عام ہو چکی ہے بلکہ کئی حوالوں سے حد سے بڑھ چکی ہے۔

یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ فحاشی اور اخلاقی زوال نے قوموں کو برباد کیا ہو۔ روم کی سلطنت دنیا کی سب سے طاقتور سلطنتوں میں شمار ہوتی تھی، لیکن جب ان کے حکمران اور عوام عیاشی، بے راہ روی اور جسمانی لذتوں میں غرق ہو گئے تو اخلاقی ڈھانچہ بکھر گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بیرونی حملہ آوروں نے انہیں چند دہائیوں میں نیست و نابود کر دیا۔ اندلس کے مسلمان آٹھ سو سال تک یورپ میں علم، ثقافت اور حکمرانی کے علمبردار رہے، لیکن جب وہاں کے لوگوں نے عیش و عشرت اور بے حیائی کو اپنا شعار بنایا تو اندرونی طور پر کمزور ہو گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایک کر کے ان کے شہر ہاتھ سے نکل گئے اور آخرکار مسلمان اندلس سے مٹ گئے۔ برصغیر میں مغلیہ سلطنت بھی کئی صدیوں تک طاقتور رہی لیکن آخری دور میں جب عیش و عشرت اور اخلاقی زوال کو اپنایا گیا تو سلطنت اندر سے کھوکھلی ہو گئی اور انگریزوں نے آ کر اقتدار سنبھال لیا۔ یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ جب بھی کوئی قوم اپنی اخلاقی بنیادیں کھو دیتی ہے تو بیرونی طاقت کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔

دہشت گردی جسموں کو مارتی ہے، لیکن فحاشی ذہنوں کو مفلوج کر دیتی ہے۔ آج کا نوجوان ہی نہیں بلکہ ہر عمر کے لوگ گھنٹوں موبائل اسکرینوں پر بیٹھے ایسے مواد دیکھتے ہیں بلکہ خود بھی اسے تیار اور تخلیق کرتے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف تعلیم اور ہنر کو متاثر کر رہا ہے بلکہ کردار اور مستقبل کو بھی برباد کر رہا ہے۔ اس دوڑ میں ہر عمر اور ہر جنس کے لوگ شامل ہیں۔ لائکس، فالورز اور یوٹیوب سے کمائی نے سب کو اندھا کر دیا ہے۔ اس کے اثرات معاشرے میں صاف دکھائی دے رہے ہیں: ریپ، ہراسانی، خاندانی جھگڑے اور جرائم میں اضافہ۔ یہ سب محض حادثاتی نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش بھی ہو سکتی ہے۔ دشمن بخوبی جانتا ہے کہ اگر پاکستانی قوم کو توڑنا ہے تو بندوق سے زیادہ اس کی ثقافت اور اخلاقیات پر حملہ کرنا ہوگا۔

کسی بھی معاشرے میں اصل علما کرام، اساتذہ، والدین اور خاص طور پر سیاستدان کردار کے اعتبار سے سب سے بڑے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کو جس آگ نے لپیٹ میں لیا ہے، وہ ناسور جو تیزی سے پھیل رہا ہے، اس نے والدین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ علما اور اساتذہ وہ کردار ادا نہیں کر رہے جو انہیں کرنا چاہئے تھا، اور سیاستدانوں نے تو اپنے اعمال اور کردار کے ذریعے ان چیزوں کو عام کر دیا ہے جو کبھی معاشرے میں گناہ اور شرمناک حرکتیں سمجھی جاتی تھیں۔ وہ رویے جو کل تک ناقابلِ قبول تھے، آج معمول کی بات بن گئے ہیں اور عوام نے بھی اپنے رہنماؤں کی اندھی تقلید میں ان پر اعتراض کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اس وقت جو بدتمیزی اور بدتہذیبی معاشرے میں پھیل چکی ہے اس میں عمر، جنس، رنگ، قبیلے یا نسل کی کوئی تفریق باقی نہیں رہی۔ سب یکساں طور پر اس سے متاثر ہیں۔ یہ اجتماعی زوال ہے جو ہماری بنیادوں کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔

حکومت بظاہر اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ سیاسی مسائل پر روز قوانین بن جاتے ہیں لیکن اس خطرے کے لئے کوئی جامع پالیسی نہیں بنائی گئی۔ کبھی کبھار پیمرا یا پی ٹی اے چند ویب سائٹس یا چینلز پر پابندی لگاتی ہے، لیکن یہ صرف دکھاوے کی کارروائیاں ہوتی ہیں۔ دوسری طرف والدین اور اساتذہ بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے۔ خاموشی اور لاپرواہی نے اس وبا کو مزید بڑھا دیا ہے، اور یہ بلاتفریق ہر گھر کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ اگر حکومت سنجیدہ اقدامات کرے، فحش مواد پھیلانے والوں پر سخت کارروائیاں کرے، فنونِ لطیفہ کو معیاری اور اخلاقی خطوط پر استوار کرے، تعلیمی اداروں میں اخلاقی تربیت شامل کرے، والدین اور علما اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور نوجوانوں کو کھیل اور مثبت مصروفیات کے مواقع فراہم کئے جائیں تو اس زہر پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ عوام کا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ وہ سیاسی قائدین کو اخلاقی معیار پر پرکھیں اور ہر اس شخص کی حوصلہ شکنی کریں جو خود بھی اخلاقی اور معاشرتی قدروں کی پاسداری نہیں کرتا اور دوسروں کو بھی گالم گلوچ اور بے راہ روی کی ترغیب دیتا ہے۔

پاکستان آج ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر ہم نے اپنے کردار، اقدار اور ثقافت کی حفاظت نہ کی تو تاریخ ہمیں بھی ان قوموں کی صف میں کھڑا کر دے گی جو اپنی عیاشی اور اخلاقی زوال کی وجہ سے مٹ گئیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسا پاکستان دینا چاہتے ہیں: ایک باوقار اور بااخلاق قوم یا ایک بکھرا ہوا معاشرہ جو اپنی بنیادیں خود ہی کھو دے؟ وقت آ گیا ہے کہ حکومت، معاشرہ، والدین، اساتذہ، علما اور قیادت سب مل کر اس خاموش زہر کے خلاف سنجیدہ جدوجہد کریں، کیونکہ جب ذہن اور کردار شکست کھا جائیں تو پھر کسی دشمن یا گولی کی ضرورت نہیں رہتی، قوم خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں