فرانس: بایرو حکومت کو کل تحریکِ عدم اعتماد کا سامنا

پیرس ( نمائندہ خصوصی،رائٹرز)فرانس میں ایک بار پھر سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ صدر ایمانوئیل میکرون کے مقرر کردہ وزیرِاعظم فرانسوا بایرو کی حکومت کیخلاف کل (8 ستمبر) کو پارلیمنٹ میں تحریکِ عدم اعتماد پیش کی جائے گی۔ حالیہ معاشی اصلاحات، کٹوتیوں اور عوامی ردعمل نے حکومت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

جون 2024ء کے انتخابات میں فرانسیسی پارلیمنٹ کسی واضح اکثریت تک نہ پہنچ سکی جس کے نتیجے میں ایوان کئی دھڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ اس صورتحال سے نیا سیاسی اتحاد “نیو پاپولر فرنٹ” ابھرا جبکہ صدر میکرون کی جماعت کی طاقت مسلسل کمزور ہوتی رہی۔ گزشتہ برس کے دوران تقریباً چار حکومتیں گر چکی ہیں، اور اب بایرو کی حکومت کو بھی سخت خطرہ لاحق ہے۔

وزیرِاعظم بایرو نے سنگین مالی بحران سے نمٹنے کے لیے 44 ارب یورو کے اخراجات میں کٹوتی کی تجویز پیش کی، جس میں عوامی تعطیلات ایسٹر منڈے اور 8 مئی کے یومِ فتوحات کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔ اس فیصلے نے عوامی سطح پر شدید غصہ اور سیاسی مخالفت کو جنم دیا ہے۔ قرضوں کی بڑھتی شرح نے صورتِ حال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر بایرو حکومت اعتماد کا ووٹ ہار گئی تو صدر میکرون کو نیا وزیرِاعظم مقرر کرنا پڑے گا۔ ممکنہ ناموں میں ایرک لومبارڈ اور سابق وزیرِاعظم برنارڈ کزینو شامل ہیں۔ دوسری جانب سوشلسٹ پارٹی یا نیو پاپولر فرنٹ کے ساتھ کسی ممکنہ سمجھوتے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، لیکن یہ راستہ پیچیدہ ہے۔

جولائی 2025ء میں فرانس کے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا تھا، جس نے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کیا۔

صدر میکرون کا کہنا ہے کہ وہ 2027ء تک اپنی مدت پوری کریں گے اور فوری انتخابات کے حامی نہیں ہیں۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ قرضوں کے بوجھ، عوامی غیر اطمینان، اقتصادی غیر یقینی حالات اور کمزور عوامی مقبولیت کے باعث صدر میکرون کا سیاسی مستقبل نہایت نازک ہو چکا ہے۔

فرانس کل کے اہم پارلیمانی اجلاس میں ایک اور بڑی سیاسی آزمائش سے گزرنے جا رہا ہے۔ اگر بایرو حکومت عدم اعتماد کی تحریک میں ناکام رہی تو صدر میکرون کی حکمرانی مزید کمزور ہو گی اور فرانس ایک نئے سیاسی بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں