نیویارک( رائٹرز، اے ایف پی، بی بی سی)فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں نیویارک میں آج عالمی سربراہی اجلاس ہو رہا ہے، جس کا مقصد فلسطینی ریاست کے دو ریاستی حل کیلئےعالمی حمایت حاصل کرنا ہے۔ کئی ممالک باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں، جبکہ اسرائیل اور امریکا اس اجلاس کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔
فرانس اور سعودی عرب نے آج نیویارک میں درجنوں عالمی رہنماؤں کو مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے حمایت حاصل کرنے کیلئے اکٹھا کیا ہے، جس میں فلسطینی ریاست کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے امکانات شامل ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیل اور امریکا اس اجلاس کا بائیکاٹ کر رہے ہیں، جبکہ اسرائیل کے اقوام متحدہ کے سفیر ڈینی ڈینون نے اسے ’تماشا‘ قرار دیا۔
اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ وہ اس کے جواب میں کچھ حصوں کو ضم کرنے اور مخصوص دو طرفہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں، جبکہ امریکی حکومت نے ممکنہ نتائج کی وارننگ دی ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں اور یہ اجلاس جنرل اسمبلی سے پہلے ہو رہا ہے۔
اسرائیل کے غزہ شہر پر طویل عرصے سے زیر غور زمینی حملے کے دوران یہ اجلاس ہو رہا ہے، اور مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے پیش نظر یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ فوری اقدام ناگزیر ہے۔
جنرل اسمبلی نے اس ماہ 7 صفحات پر مشتمل اعلامیہ منظور کیا، جس میں دو ریاستی حل کیلئے’ٹھوس اور وقت کے پابند اقدامات‘ تجویز کیے گئے ہیں، ساتھ ہی حماس سے ہتھیار ڈالنے اور غیر مسلح ہونے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل برو نے کہا کہ نیو یارک اعلامیہ مستقبل کے وعدے نہیں بلکہ ایک روڈ میپ ہے، جس کی شروعات جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی سے ہوتی ہے۔
برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے، اور فرانس سمیت مزید پانچ ممالک سے توقع ہے کہ وہ آج باقاعدہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے۔
غزہ میں فلسطینی شہری اسرائیلی حملوں سے بچنے کیلئےشہر چھوڑ رہے ہیں۔ فلسطینی نبیل جابر نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوگی، کیونکہ اسرائیل پر کافی دباؤ نہیں ڈالا جائے گا۔
اسرائیل نے فلسطینی صدر محمود عباس کے اصلاحاتی وعدوں پر بھروسہ نہیں کیا، جبکہ عباس ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔ فلسطینی وزیر خارجہ وارسن آغابیکیان شاہین نے کہا کہ عالمی برادری اب فلسطینی ریاست کو حقیقت کا روپ دینے کی ذمہ داری لے۔

