منیلا (اے ایف پی/رائٹرز) فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں سیلاب کے بعد بحالی کے منصوبوں میں کرپشن اور مبینہ گھوسٹ منصوبوں کے فنڈز میں خورد برد کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، جس دوران مشتعل مظاہرین نے میٹرو اسٹیشن میں توڑ پھوڑ کی اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں دو افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق 17 نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ قانون سازوں، سرکاری حکام اور بااثر کاروباری شخصیات نے سیلاب کنٹرول منصوبوں میں بھاری کمیشن وصول کیے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر فرڈینینڈ مارکوس نے جولائی میں اپنے اسٹیٹ آف دی نیشن خطاب میں سیلاب پر قابو پانے کے منصوبوں کو ترجیح قرار دیا تھا، مگر بعد ازاں بدعنوانی کے انکشافات پر عوامی غصہ بڑھ گیا۔ مارکوس نے مظاہروں کو عوامی ردعمل قرار دیتے ہوئے پرامن رہنے کی اپیل کی تھی۔
اتوار کو ہونے والے احتجاج کا آغاز دارالحکومت کے لُنیٹا پارک سے ہوا، جہاں شہر کے اندازے کے مطابق تقریباً 50 ہزار افراد نے شرکت کی۔ بعدازاں ہزاروں افراد ای ڈی ایس اے شاہراہ پر جمع ہوئے، جو 1986 کی عوامی تحریک کا مرکز تھی۔ مظاہرین نے پل کے قریب کھڑے ٹرک کو آگ لگا دی اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ جواب میں پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا۔
بائیں بازو کے اتحاد باگونگ ایلائنسنگ مکابایان کے چیئرمین ٹیڈی کاسینو نے کہا کہ عوام صرف فنڈز کی واپسی نہیں چاہتے بلکہ ذمہ داران کو سزا بھی دلوانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف یہ احتجاج عوام کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ سڑکوں پر نکل کر حکومت پر دباؤ ڈالیں تاکہ شفاف احتساب ممکن ہو سکے۔
وزارت خزانہ نے اندازہ لگایا ہے کہ 2023 سے 2025 کے دوران فلڈ کنٹرول منصوبوں میں بدعنوانی کی وجہ سے معیشت کو 118 ارب 50 کروڑ پیسو (تقریباً 2 ارب ڈالر) کا نقصان ہوا ہے، تاہم گرین پیس کے مطابق یہ نقصان دراصل 18 ارب ڈالر کے قریب ہے۔
یہ اسکینڈل کانگریس کے دونوں ایوانوں میں قیادت کی تبدیلی کا باعث بھی بنا، اسپیکر مارٹن روموالدیز نے تحقیقات کے آغاز پر استعفیٰ دے دیا۔ احتجاج میں طاقتور کیتھولک چرچ اور متعدد سیاستدانوں نے بھی شرکت کی۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ حکومت کو لوٹے گئے فنڈز کی وصولی اور بدعنوان عناصر کو کڑی سزا دینا ہوگی تاکہ آئندہ ایسے اسکینڈلز کا راستہ روکا جا سکے۔

