ٹورنٹو( نمائندہ خصوصی)فورڈ حکومت کی جانب سے بلدیاتی کونسلرز کو ہٹانے کے مجوزہ ضابطے پر وسیع عوامی و سیاسی ردعمل سامنے آنے کے بعد اس منصوبے میں اصلاحات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
بلدیات کے وزیر روب فلیک کی جانب سے پیش کردہ اس مجوزہ قانون کے تحت، اگر کسی کونسلر کے خلاف میونسپل انٹیگریٹی کمشنر کی سفارش اور مقامی کونسل کی متفقہ منظوری حاصل ہو جائے، تو اس کونسلر کو عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں عدالتی یا آزادانہ نگرانی کی عدم موجودگی نظام کو غیر شفاف اور سیاسی دباؤ کا شکار بنا سکتی ہے۔
این ڈی پی کے جیف برچ نے اس قانون کے بعض مثبت پہلوؤں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی کے انسداد کے لیے اقدام خوش آئند ہے، تاہم عہدے سے ہٹانے کے عمل میں شفافیت اور غیر جانبداری یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
لبرل پارٹی کے رکن اسٹیفن بلیس نے بھی خبردار کیا کہ یہ قانون سیاسی مداخلت کے دروازے کھول سکتا ہے، اور مطالبہ کیا کہ اس میں عدالتی منظوری یا آزاد شواہد کی شرط شامل کی جائے۔
ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم وزارتِ بلدیات نے عندیہ دیا ہے کہ قانون سازی سے پہلے مجوزہ ضابطے پر مزید جانچ اور ترامیم کی جائیں گی۔کمیٹی اجلاس آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہیں، جن میں عوامی آرا اور سفارشات پر غور کیا جائے گا۔

