لاہور (خصوصی رپورٹ)فیس لیس کسٹمز کلیئرنس کے نفاذ کے بعد پاکستان میں گاڑیوں کی درآمد تو 41 فیصد بڑھ گئی، لیکن اس کے مقابلے میں حکومتی ریونیو میں اضافہ نہ ہونے کے برابر رہا۔ ماہرین کے مطابق یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ درآمدی رجحان چھوٹی اور نسبتاً کم ڈیوٹی والی گاڑیوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق16 دسمبر 2024 تا 30 جون 2025: 25,347 گاڑیاں درآمد، ریونیو 62.94 ارب روپے۔یکم جون تا 15 دسمبر 2024: 17,958 گاڑیاں درآمد، ریونیو 62.17 ارب روپے۔یعنی 41 فیصد زیادہ گاڑیوں کے باوجود حکومت کو صرف 1.22 فیصد اضافی آمدنی ملی۔
چھوٹی گاڑیاں (850 سی سی تک): 9,734 سے بڑھ کر 13,522 یونٹ، ریونیو میں اضافہ، فی یونٹ ڈیوٹی تقریباً وہی رہی۔850–1000 سی سی: 4,126 سے بڑھ کر 9,486 یونٹ، فی یونٹ ڈیوٹی کم ہوئی (خریدار سستی گاڑیوں کی طرف گئے)۔
1000–1500 سی سی: طلب میں تیزی سے کمی، مگر درآمد شدہ گاڑیاں مہنگی ہوئیں (فی یونٹ ڈیوٹی 44 لاکھ سے بڑھ کر 54 لاکھ)۔1500–1800 سی سی: سب سے زیادہ کمی، یونٹس 376 سے گر کر 36 رہ گئے۔1800 سی سی سے اوپر: تعداد تقریباً برابر رہی لیکن ریونیو گر گیا۔
چھوٹی ہائبرڈ گاڑیاں مکمل طور پر غائب ہوگئیں۔بڑی ہائبرڈ گاڑیوں کی تعداد کم ہوئی لیکن فی یونٹ ڈیوٹی کئی گنا بڑھ گئی۔الیکٹرک وہیکلز (EVs) مستحکم رہیں: 473 سے بڑھ کر 532 یونٹ، مگر زیادہ تر چھوٹی/مڈ رینج ماڈلز۔
فیس لیس کلیئرنس سے شفافیت بڑھی اور کرپشن کے امکانات کم ہوئے۔صارفین سستی گاڑیوں اور EVs کی طرف مائل ہوئے، جس سے حکومت کی فی گاڑی ڈیوٹی کم ہوگئی۔مہنگی اور زیادہ ڈیوٹی والی گاڑیوں کی درآمد میں کمی سے ریونیو جمود کا شکار ہوگیا۔
یہ صورتحال پالیسی سازوں کیلئےایک پیچیدہ سوال پیدا کرتی ہے.کیا مقصد ریونیو بڑھانا ہے؟عوام کو سستی گاڑیاں فراہم کرنا؟یا ماحول دوست اور توانائی مؤثر ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا؟
فی الحال زیادہ گاڑیاں آنے کے باوجود حکومت کے مالی فائدے محدود رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ٹیکس پالیسی کو ازسرِنو دیکھنا پڑے گا۔

