فیصل آباد(نمائندہ جنگ)مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے ایک بار پھر حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی پیشکش کر دی۔میڈیا سے گفتگو میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ “ہم آج بھی چاہتے ہیں کہ سیاست دان بیٹھ کر بات چیت سے مسائل حل کریں”۔
انہوں نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی وہ غیر مشروط پیشکش بھی یاد دلائی جو اگست میں تمام سیاسی جماعتوں کو “میثاقِ استحکامِ پاکستان” میں شامل ہونے کے لیے کی گئی تھی۔رانا ثناء اللہ PP-116 کے ضمنی انتخاب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے، جہاں اُن کے داماد احمد شہریار مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہیں۔
پی ٹی آئی کے بیشتر ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “عمران خان نے کبھی سیاست کی ہی نہیں، ملک کی بدقسمتی ہے کہ انہیں اقتدار میں لایا گیا”۔ وزیرِاعظم کے سیاسی مشیر نے عمران خان پر ڈیڈلاک پیدا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ “جمہوریت مکالمے سے آگے بڑھتی ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ “ایک شخص جیل میں بیٹھ کر انتشار اور فتنہ پھیلانا چاہتا ہے، 9 مئی اور 26 نومبر واقعات مثال ہیں”۔گزشتہ برس حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کئی ہفتوں تک جاری رہے مگر نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے، جبکہ دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر مذاکرات کی ناکامی کا الزام لگایا۔ گزشتہ ماہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا تھا کہ جماعت اور حکومت یا عسکری قیادت کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔
“ن لیگ ہی ووٹ کی حقدار جماعت ہے”
ضمنی الیکشن سے متعلق رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حلقے سے کسی شکایت کی اطلاع نہیں آئی اور دھاندلی کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام خدمت اور ترقی کی بنیاد پر ووٹ دیں گے، اور مسلم لیگ (ن) ہی ووٹ کی مستحق جماعت ہے۔
کم ٹرن آؤٹ سے متعلق انہوں نے کہا کہ عام انتخابات میں 50 تا 60 فیصد جبکہ ضمنی انتخابات میں 25 تا 30 فیصد ٹرن آؤٹ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ “کوئی 12 اکتوبر 1999 یا 2017/18 جیسی سازش نہیں ہونی چاہیے”۔ انہوں نے اپنے حلقے میں سات انتخابات لڑنے اور پانچ جیتنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کارکردگی سب کے سامنے ہے اور ووٹنگ و گنتی کا عمل بھی شفاف ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ “مریم نواز کے نام سے ترقی کا دور واپس آ چکا ہے”۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے باعث فیصل آباد میں 70 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے روک دیے گئے ہیں تاکہ انہیں الیکشن سے وابستہ نہ سمجھا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان منصوبوں میں میٹرو بس اور صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے شامل تھے، جنہیں الیکشن کے بعد بحال کیا جائے گا۔

