فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ٹرمپ کی ملاقات:سفارتی تبدیلی کی علامت — دی اکانومسٹ

لندن / واشنگٹن / اسلام آباد(نمائندہ خصوصی+ایجنسیاں)معروف بین الاقوامی جریدے “دی اکانومسٹ” نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات جنوبی ایشیا میں امریکی پالیسی کی بڑی تبدیلی کا آغاز ہے۔

ٹرمپ-عاصم منیر ملاقات کو خطے میں سفارتی تبدیلی کا نقطہ آغاز قرار دیا گیا۔

امریکا، پاکستان کے ساتھ تجارت،اسلحہ فراہمی،انسداد دہشت گردی تعاون کی بحالی پر غور کر رہا ہے۔
امریکا، پاکستان کوبکتر بند گاڑیاں،نائٹ وژن آلات دینے پر غور کر رہا ہے۔

دی اکانومسٹ کے مطابق فیلڈ مارشل نے چین اور خلیجی ممالک سے متوازن تعلقات قائم رکھے۔عالمی سفارت کار اور سرمایہ کار براہِ راست عاصم منیر سے رابطے میں ہیں۔داخلی طور پر بھی فوجی اور سول اداروں میں اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔

بھارت سے حالیہ کشیدگی کے دوران فیلڈ مارشل کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں لکھا ہے کہ ٹرمپ نے بھارت کو “مردہ معیشت” قرار دیتے ہوئے 25% ٹیرف لگایا۔پاکستان پر صرف 19% ٹیرف عائد کیا گیا۔بھارت کی مبینہ تخریبی سرگرمیوں پر امریکی ادارے بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی حکام نے داعش اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی نئی سفارتی حکمت عملی، عالمی سطح پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کو قابلِ اعتماد اتحادی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نہ صرف اندرون ملک ایک مضبوط شخصیت بن کر ابھرے ہیں بلکہ وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مرکزی ستون کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ان کی ٹرمپ کے ساتھ قربت، خطے میں ایک نئی سفارتی صف بندی کی طرف اشارہ ہے — جو پاکستان کے لیے نئے مواقع اور اثرات کی نوید ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں