قاہرہ ( الجزیرہ، المونیٹر، رائٹرز، بی بی سی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے پر مصر میں جاری مذاکرات میں حماس نے مستقل جنگ بندی، اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور انسانی امداد کی بحالی سمیت متعدد اہم مطالبات پیش کیے ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے کہا کہ تنظیم کا وفد ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے جو “غزہ کے عوام کی امنگوں پر پورا اترے اور تمام رکاوٹوں کو دور کرے”۔
“حماس کے بنیادی مطالبات”
فوزی برہوم نے مذاکرات کے دوران حماس کے بنیادی مطالبات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان میں شامل ہیں.
مستقل اور جامع جنگ بندی؛
اسرائیلی افواج کا غزہ کے تمام علاقوں سے مکمل انخلا؛
انسانی اور امدادی سامان کی بلا روک ٹوک فراہمی؛
بے گھر فلسطینیوں کی واپسی؛
غزہ کی مکمل تعمیر نو کا فوری آغاز، جو فلسطینی قومی ٹیکنوکریٹس کے ادارے کی نگرانی میں ہو؛
اور قیدیوں کے تبادلے کا منصفانہ معاہدہ۔
برہوم نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ “موجودہ مذاکرات کے مرحلے کو ناکام بنانے اور سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جیسا کہ وہ ماضی میں بھی کر چکے ہیں”۔انہوں نے مزید کہا کہ “وحشیانہ فوجی طاقت اور امریکی حمایت کے باوجود اسرائیل غزہ میں نسل کشی کو چھپانے میں ناکام رہا ہے اور جھوٹی فتح کی تصویر پیش نہیں کر سکے گا۔”
“اسرائیلی انخلا کیلئے عالمی ضمانت کا مطالبہ”
الجزیرہ کے مطابق، ایک سینئر حماس عہدیدار نے، شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شرم الشیخ میں مذاکرات کے دوسرے دن کی توجہ اسرائیلی افواج کے انخلا کے نقشوں اور قیدیوں کی رہائی کے شیڈول پر مرکوز رہی۔
حماس کے وفد نے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے مراحل کو اسرائیلی فوج کے انخلا کے مراحل سے منسلک کیا جائے، اور “آخری اسرائیلی قیدی کی رہائی اس وقت ہو جب قابض افواج مکمل طور پر غزہ چھوڑ دیں”۔وفد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جامع جنگ بندی کی بین الاقوامی ضمانت فراہم کی جائے، جس میں اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کو شامل کیا جائے۔
گزشتہ روز مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں حماس اور اسرائیل کے وفود کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہوا۔ یہ مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ جنگ بندی منصوبے کے تحت جاری ہیں۔
المونیٹر کے مطابق، مصری اور قطری ثالث دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر “زیر حراست افراد اور قیدیوں کے تبادلے کے طریقہ کار” پر بات کر رہے ہیں، تاکہ غزہ میں یرغمالیوں اور اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ ممکن ہو سکے۔
مذاکرات انتہائی سخت سیکیورٹی میں بند کمروں کے اندر ہو رہے ہیں، جہاں ثالث پیغامات دونوں فریقوں تک پہنچا رہے ہیں۔ یہ مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب چند ہفتے قبل قطر میں اسرائیل کی جانب سے حماس کے اہم مذاکرات کاروں پر حملہ کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق، حماس کے وفد کی قیادت سینئر رہنما خلیل الحیہ کر رہے ہیں، جو قطر میں ہونے والے حملے سے محفوظ رہے۔ مذاکرات سے قبل حماس کے وفد نے مصری انٹیلی جنس حکام سے تفصیلی ملاقات بھی کی۔

