چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا نیا عہدہ قائم
اسلام آباد (جنگ رپورٹر) قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2025 سمیت پاک بحریہ اور فضائیہ سے متعلق ترمیمی بلز کثرتِ رائے سے منظور کر لیے۔ ترمیمی بل کے تحت آرمی چیف کو اب چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کا عہدہ تفویض کیا جائے گا، جس کی مدتِ تقرری پانچ سال ہوگی۔
بل کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے اس کی جگہ کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ (CNSC) کا نیا عہدہ قائم کیا گیا ہے۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترامیم”نئے قوانین نہیں بلکہ موجودہ قوانین کو 27ویں آئینی ترمیم کے مطابق ہم آہنگ” کرنے کیلئےکی جا رہی ہیں۔
“بلز کی منظوری صرف نو منٹ میں ”
ڈان نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے چار بلز پیش کیے گئے، جن میں پاکستان نیوی، آرمی، ایئرفورس ترمیمی بلز اور سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر (ترمیمی) بل 2025 شامل تھے۔
ایوان نے بغیر کسی طویل بحث کے صرف نو منٹ میں یہ تمام بلز منظور کر لیے۔
“آئینی ترمیم کے تحت نئی عسکری ساخت”
وفاقی وزیر قانون نے وضاحت کی کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر تینوں افواج کے اعلیٰ کمانڈ اینڈ اسٹریٹجک فیصلوں کی نگرانی کریں گے۔
ان کے مطابق”وزیراعظم، آرمی چیف کی سفارش پر جنرلز میں سے کسی ایک کو کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ تعینات کرے گا، جس کی مدتِ تقرری تین سال ہوگی،”اور”وزیراعظم اسی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی مدت میں مزید تین سال کی توسیع بھی دے سکتے ہیں۔”
“سینیٹ میں منظوری، اپوزیشن کا احتجاج”
اس سے قبل سینیٹ نے بھی ترمیمی بل کو 64 ووٹوں کے ساتھ منظور کیا، جبکہ 4 ووٹ مخالفت میں ڈالے گئے۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا”بل دو تہائی اکثریت سے منظور ہو گیا ہے اور اب یہ قانون بن گیا ہے۔”شق وار ووٹنگ کے دوران اپوزیشن نے”آئین کی تباہی نامنظور” کے نعرے لگائے تاہم چیئرمین نے اراکین کو نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
“سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی بھی منظوری”
اسی اجلاس میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل 2025 بھی اکثریت سے منظور کیا گیا، جس سے آئینی بنچ کے خاتمے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آرمی ایکٹ 2025 کی منظوری پاکستان کے عسکری ڈھانچے میں تاریخی تبدیلی ہے۔اب چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ نہ صرف تینوں افواج کے درمیان کمانڈ ہم آہنگی پیدا کرے گا بلکہ دفاعی فیصلوں میں مرکزی اتھارٹی کے طور پر کردار ادا کرے گا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم سول و عسکری رابطوں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس قانون سازی کو ’’غیر ضروری جلد بازی‘‘ قرار دیا ہے۔

