قومی اور پنجاب اسمبلی کی 13 نشستوں پر ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو برتری

اسلام آباد/لاہور (سیاسی رپورٹر+ایجنسیاں)قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کی 13 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں، جن میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری حاصل ہے۔ قومی اسمبلی کی ایک نشست این اے 143 سے ن لیگی امیدوار محمد طفیل جٹ کامیاب قرار پائے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی میاں نواز شریف کی قیادت اور کارکنوں کی محنت کا نتیجہ ہے اور اس سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر عوام کے اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔

این اے 143 ساہیوال کے تمام 442 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری غیرحتمی نتائج موصول ہوگئے ہیں جن کے مطابق محمد طفیل جٹ فاتح قرار پائے۔

لاہور کے حلقہ این اے 129 کے تمام 334 پولنگ اسٹیشنز کا انتخابی سامان آر او آفس پہنچا دیا گیا ہے۔ غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق ن لیگی امیدوار حافظ محمد نعمان 62 ہزار 118 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ آزاد امیدوار ارسلان احمد 28 ہزار 462 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ 327 پولنگ اسٹیشنز میں ٹرن آؤٹ 18.26 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

ڈیرہ غازی خان کے حلقہ این اے 185 کے 80 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری غیرحتمی نتائج میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار 27 ہزار 941 ووٹ لے کر آگے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی 13 ہزار 624 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

حلقہ این اے 18 ہری پور میں 257 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی نتائج موصول ہوئے جن کے مطابق آزاد امیدوار شہرناز عمر ایوب 83 ہزار 732 ووٹوں کے ساتھ سبقت لیے ہوئے ہیں جبکہ ن لیگ کے بابر نواز خان 57 ہزار 610 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 203 ساہیوال کے تمام 185 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری غیرحتمی نتائج کے مطابق ن لیگ کے چوہدری محمد حنیف جٹ 46 ہزار 820 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے، جبکہ آزاد امیدوار فلک شیر ڈوگر 10 ہزار 975 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

تمام حلقوں میں پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک پُرامن ماحول میں جاری رہی۔زیادہ تر نشستیں اُن پی ٹی آئی اراکین کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھیں جنہیں سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد 9 مئی 2023 کے واقعات میں ملوث ہونے پر سزائیں سنائی گئی تھیں۔

قومی اسمبلی کی چھ نشستوں، این اے 18 ہری پور، این اے 96 فیصل آباد، این اے 104 فیصل آباد، این اے 129 لاہور، این اے 143 ساہیوال اور این اے 185 ڈیرہ غازی خان— میں پولنگ کا سلسلہ جاری رہا۔

پنجاب اسمبلی میں سات نشستوں— پی پی 79 سرگودھا، پی پی 87 میانوالی، پی پی 98 فیصل آباد، پی پی 115 فیصل آباد، پی پی 116 فیصل آباد، پی پی 203 ساہیوال اور پی پی 269 مظفر گڑھ— پر بھی ووٹ ڈالے گئے۔

“سیکیورٹی انتظامات”
پنجاب میں ضمنی انتخابات کے دوران 20 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ حساس پولنگ اسٹیشنز کے باہر مسلح افواج کے جوان الیکشن کمیشن کے ضابطۂ اخلاق کے مطابق موجود رہے۔ جوانوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ صرف امن و امان برقرار رکھنے، ووٹرز کے تحفظ اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے پر توجہ دیں اور کسی بھی ووٹر کو پولنگ اسٹیشن میں داخلے سے نہ روکیں، سوائے اس صورت کے جب وہ ممنوعہ اشیا لے کر آئے یا تشدد بھڑکانے کی کوشش کرے۔

“قومی اور پنجاب اسمبلی کے امیدواروں کی صورتحال”
این اے 18 ہری پور کی نشست پی ٹی آئی کے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی تھی اور اب ان کی اہلیہ شہرناز عمر ایوب پہلی بار الیکشن لڑ رہی ہیں۔
این اے 96 میں ن لیگ کے محمد بلال بدر چوہدری ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔
این اے 104 میں ن لیگ نے دانیال احمد کو میدان میں اتارا ہے جن کا مقابلہ آزاد امیدواروں سے ہے۔
این اے 129 کی نشست سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کے انتقال کے بعد خالی ہوئی، یہاں ان کے نواسے ارسلان احمد اور ن لیگ کے حافظ نعمان کے درمیان مقابلہ ہے۔

این اے 185 میں ن لیگ کے محمود قادر خان لغاری اور پیپلز پارٹی کے دوست محمد کھوسہ اہم امیدوار ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے حلقوں میں ن لیگ کے میاں سلطان علی رانجھا (پی پی 73)، آزاد علی تبسم (پی پی 88)، محمد طاہر پرویز (پی پی 115)، احمد شہریار (پی پی 116)، محمد حنیف جٹ (پی پی 203) سمیت دیگر امیدوار میدان میں ہیں۔